پاکستان میں میڈیا، خاص طور پر پرنٹ میڈیا کے لیے کراچی انتہائی اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر سے سینکڑوں روزنامچے، اخبارات، ہفت وار، پندرہ روزہ اور ماہنامہ جرائد، میگزین اور رسائل چھپتے ہیں۔
حالیہ سالوں میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد درآمد کیے جانے والے اخباری کاغذ کی قیمت میں کئی گنا اضافے کے ساتھ پرنٹنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایسے میں کئی بڑے اخبارات اور رسائل بند ہوگئے، مگر اخرا جات میں بے پناہ اضافے اور اشتہارات نہ ملنے کے باجود ماحولیات جیسے خشک موضوع پر ماہنامہ میگزین ’فروزاں‘ کے ایڈیٹر اور واحد سٹاف رکن محمود عالم خالد نے 2006 سے اس کی اشاعت نہیں روکی۔
انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں محمود عالم خالد نے بتایا: ’اس میگزین سے میں کچھ نہیں کماتا، یہ میں ایک مقصد کے لیے شائع کر رہا ہوں۔ یہ مقصد ان لوگوں کے لیے ہے جو ماحولیاتی ابتری اور موسمی تبدیلی کے باعث آنے والی آفات سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے وہ لوگ ہیں جو صرف اردو زبان سمجھتے ہیں اور انگریزی سے نابلد ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’فروزاں ان لوگوں کے لیے بہت معلومات فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان میں ماحولیات کے حوالے سے جو آگہی آج ہے، اس میں تھوڑا بہت حصہ ہمارا بھی ہے۔‘
محمود عالم خالد نے پرنٹنگ کے اخراجات بڑھنے اور کم آمدنی کے باعث کوئی بھی ملازم نہیں رکھا اور باقاعدگی سے چھپنے والے اس رنگین میگزین کے تمام مراحل کا کام وہ خود کرتے ہیں۔
مختلف جگہوں سے اشتہارات جمع کرنا، مضامین لکھنا، ایڈیٹنگ کرنا، پروف ریڈنگ کرنا، مارکیٹ سے کاغذ خریدنا، پلیٹ بنوانا، چھپائی کروانا، چھپائی کے دوران خود موجود رہنا، بانڈنگ کروانا اور اشاعت کے بعد میگزین کو سٹال تک پہنچانے یا دیگر شہروں کو میگزین بھیجنے سمیت تمام کام وہ خود اکیلے سرانجام دیتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا: ’ہم نے پہلے دن سے اس میگزین کو ماحولیاتی مسائل سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر مرکوز رکھا۔ اگر ہم میگزین میں مختلف صنعتوں میں ہونے والے ماحولیاتی جرائم کو کوریج دیتے تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور ہمیں صنعتیں آسانی سے اشتہارات دے دیتیں، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو آج پریشان ضرور ہیں، مگر مطمئن بھی ہیں۔‘
فروزاں میگزین پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت 28 شہروں اور 17 یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے پڑھا جاتا ہے۔
محمود عالم خالد کے مطابق ماہنامہ فروزاں پاکستان میں ماحولیات پر نکلنے والا واحد جریدہ ہے، جو 2006 سے مسلسل شائع ہو رہا ہے اور ان 17 سالوں میں ایک مہینہ بھی ایسا نہیں آیا جب میگزین شائع نہ ہوسکا ہو۔
انہوں نے بتایا: ’کرونا وائرس کی وبا کے دوران جب کئی ماہ تک سخت لاک ڈاؤن تھا، جب پرنٹنگ پریس والے چوری چھپے پرنٹ کرتے تھے، اس وقت بھی ہم باقاعدگی کے ساتھ میگزین چھاپتے رہے اور کسی ایک بھی مہینہ ناغہ نہیں کیا۔‘