پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے بدھ کو عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے تاکہ ’ایک نئے کپتان کی تیاری ممکن ہو۔‘
بسمہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ان کے لیے ٹیم کی قیادت کرنے سے بڑا کوئی اعزاز نہیں تھا۔
’مجھے لگتا ہے کہ تبدیلی کا یہ صحیح وقت ہے اور نوجوان کپتان کو تیار کرنے کا موقع ہے۔ میں ٹیم اور نوجوان کپتان کی ہر طرح سے مدد، رہنمائی اور حمایت کے لیے ہمیشہ موجود رہوں گی۔‘
There has been no bigger honour for me than leading the pak team. Now, I feel that it is the right time for a transition and chance to groom a young captain. I will always be there to assist, guide and support the team and the young captain in every way. Pakistan Zindabad!
— Bismah Maroof (@maroof_bismah) March 1, 2023
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انہوں نے استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بسمہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتی ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ خوشی کی بات ہے کہ وہ پاکستان کے لیے کھیلتی رہیں گی اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گی۔
I have accepted resignation of @maroof_bismah Captain of Pakistan Women’s National Team. She wants to make way for a younger colleague. But happily she will continue to play for Pakistan and bring laurels for her country.
— Najam Sethi (@najamsethi) February 28, 2023
بسمہ کو ستمبر 2017 میں پاکستان کی آل فارمیٹ کی کپتان مقرر کیا گیا تھا اور ون ڈے انٹرنیشنل (1.000) اور ٹی 20 انٹرنیشنل (0.843) میں ملک کی قیادت کرنے والے تمام باقاعدہ کھلاڑیوں میں جیت اور شکست کا تناسب سب سے بہتر رہا ہے۔ ان کی قیادت میں ون ڈے ٹیم نے 34 میچ کھیلے اور 16 جیتے جبکہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے 62 میں سے 27 میچز جیتے۔
بسمہ کی قیادت میں پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے 62 میں سے 27 ٹی ٹوئنٹی میچ جیتے جبکہ 32 میں شکست ہوئی۔
بسمہ معروف کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کی کپتانی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے ناقابل یقین اور محنتی کرکٹرز کی قیادت کرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک دلچسپ سفر رہا ہے، جو نشیب و فراز سے بھرا ہوا تھا، لیکن آخر میں، میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہوں گی کہ اس نے مجھے یہ موقع فراہم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ ابتدائی مراحل میں ہے اور 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک سال سے زائد کا عرصہ باقی ہے، میرے خیال میں یہ ان کے لیے عہدہ چھوڑنے اور مدد کرنے کا صحیح وقت ہے۔
ٹوئٹر پر صارفین بسمہ کی کارکردگی کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف بہرام قاضی نے لکھا کہ مستقبل کے لیے نیک تمنائیں۔
’بسمہ آپ نے ٹیم کی قیادت وقار سے کی اور کئی نوجوان کھلاڑی آپ کی قیادت میں سامنے آئیں۔ آپ نے بحثیت کپتان ملک کی خدمت کی اور مجھے کوئی شک نہیں کہ آپ ایک کھلاڑی کی حیثیت میں بھی یہ جاری رکھیں گی۔‘
Best of luck for the future, Bismah! You led the team with dignity, and a host of young cricketers started their respective journeys under your leadership. You served your country well as captain, and I have no doubt that you will continue to do so as a player. Lots to achieve
— Behram Qazi (@DeafMango) March 1, 2023
بسمہ کی امید کا تعلق اس تبدیلی کے ساتھ ہے جو انہوں نے 2006 میں اپنے ڈیبیو کے بعد سے پاکستان کرکٹ میں دیکھی۔
کرکٹ کے معیار کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ملک میں خاتون کرکٹرز کی اہمیت میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا سوشل میڈیا کی بدولت ہوا۔
2016 میں انٹرنینشل میچوں میں حصہ لینے والی بسمہ کے بقول: ’اُن دنوں سوشل میڈیا نہیں ہوتا تھا اور ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب سب ہم سے وہی سلوک کرتے ہیں جو مرد کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہم دوسروں کے لیے مثال بن چکی ہیں۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔‘
انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے اس لیے ورلڈ کپ کے دوران اس سے دور رہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’بلاشبہ بعض اوقات وہ (فالورز) سخت تبصرہ کرتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا ایسا ہی ہے۔‘
بسمہ نے بتایا: ’2020 میں آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران میں نے سبق سیکھا کہ ٹور اور بڑے ٹورنامنٹس کے دوران ہمیں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘
پی سی بی کے مطابق بسمہ کے متبادل کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔