ایک ایسے وقت میں جب ایشیا کپ کی میزبانی اور ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرکت جیسے اہم معاملات کے بارے میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران قیاس آرائیوں اور متضاد خبروں کا بازار گرم تھا، ایک خبر نے سب کو چونکا دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں ایک بار پھر چیئرمین کی تبدیلی متوقع ہے۔
یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے
اس خبر کی بنیاد بین الصوبائی رابطے کی وزارت کے وزیر احسان الرحمٰن مزاری کا وہ بیان بنا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب یہ حکومت بنی تھی تو اتحادی جماعتوں میں یہ طے ہوا تھا کہ جس جماعت کی جو وزارت ہوگی وہاں متعلقہ عہدوں پر اسی جماعت کی جانب سے تقرری ہو گی۔
چونکہ بین الصوبائی رابطے کی وزارت پیپلز پارٹی کے پاس ہے لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی پیپلز پارٹی کا نامزد کردہ ہونا چاہیے۔
اس بارے میں آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ بین الصوبائی رابطے کی وزارت اگرچہ ملک میں کھیلوں کے معاملات دیکھتی ہے لیکن دیگر کھیلوں کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس کا کسی قسم کا براہ راست تعلق نہیں ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اجلاسوں میں اس کا رکن ضرور موجود ہوتا ہے لیکن وہ فیصلے سازی میں شریک نہیں ہو سکتا۔ اسے ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ وزارت کرکٹ بورڈ اور اس کے پیٹرن یعنی وزیراعظم کے درمیان صرف رابطے کا کام دیتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک خود مختار ادارہ ہے جو پاکستان سپورٹس بورڈ سے کسی قسم کی کوئی گرانٹ نہیں لیتا۔
جہاں تک پاکستان کرکٹ بورڈ میں حکومت کے دو نمائندوں کی نامزدگی کا تعلق ہے تو وہ بھی وزیراعظم خود کرتے ہیں۔
سات جون کو وفاقی وزیر احسان مزاری سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف کی ملاقات کی خبر، تصویر کے ساتھ منظرعام پر آئی اور احسان مزاری کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر اپنا نمائندہ نامزد کرے گی۔
سات جون کو ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ہیں۔ اس ملاقات میں نجم سیٹھی نے وزیراعظم کو مینیجمنٹ کمیٹی کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
یہاں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیئرمین کی تبدیلی ضروری ہو گئی ہے جبکہ نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم مینیجمنٹ کمیٹی کو جو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں وہ انہیں تقریباً پورا کر چکی ہے اور اب وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنے دو نمائندوں کی نامزدگی کا وقت قریب آ چکا ہے تاکہ ان میں سے ایک باقاعدہ چیئرمین منتخب ہوجائے اور وہ باقاعدگی سے اپنا کام شروع کر سکے۔
یہ بات طے ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے نامزد ہونے والے دو افراد میں سے ایک نجم سیٹھی ہی ہوں گے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان ماضی میں بھی چیئرمین شپ کے سلسلے میں معاملات عدالتوں میں گئے تھے لیکن اس بار صورت حال مختلف ہے۔ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حریف جماعتیں تھیں لیکن اس وقت دونوں جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں اور سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنانے کی بات چل پڑی ہے تو اس کے پیچھے اصل محرک آصف علی زرداری ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کے لیے آصف زرداری کی بات رد کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
جہاں تک نجم سیٹھی کا تعلق ہے تو وہ دسمبر 2021 میں پی سی بی چیئرمین کے عہدے سے رمیز راجہ کو ہٹائے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین مقرر کیے گئے تھے۔ اس کمیٹی کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے 2014 کے آئین کو دوبارہ بحال کر کے ملک میں ریجنل اور ادارتی کرکٹ کو واپس لایا جائے اور ساتھ ساتھ بورڈ آف گورنرز تشکیل دے کر چیئرمین کا انتخاب کیا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا بورڈ آف گورنرز دس نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں چار نمائندے ریجن کے ہوتے ہیں۔ چار نمائندے اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ دو کی نامزدگی وزیراعظم کی طرف سے ہوتی ہے اور ان دو میں سے ایک کو پی سی بی کا چیئرمین منتخب کرلیا جاتا ہے۔
ابتدا میں نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم مینیجمنٹ کمیٹی کو چار ماہ دیے گئے تھے جس میں مزید دو ماہ کی توسیع کردی گئی تھی۔ یہ مدت 20 جون کو ختم ہونے والی ہے۔
جہاں تک نجم سیٹھی کی کارکردگی کا تعلق ہے تو اس عرصے میں وہ خاصے متحرک رہے ہیں۔ انہوں نے پورے ملک میں ریجنل سطح کے الیکشن کروائے، ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے غیرملکی کوچنگ سٹاف کی تقرری کی، جن میں قابل ذکر نام مکی آرتھر کا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ سب سے اہم بات وہ ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کے معاملے پر آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل کے سامنے پاکستان کا موقف واضح انداز میں پیش کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں اور صلاحیت بھی۔
2016 میں جب ہر کوئی پاکستان سپرلیگ کو دیوانے کا خواب سمجھ کر مسترد کر چکا تھا، سیٹھی صاحب نے اسے شروع کیا اور آج یہی پی ایس ایل ایک برانڈ بن چکی ہے۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کو ملک میں واپس لائے۔
نجم سیٹھی کا موجودہ دور اس لیے خاصا چیلنجنگ رہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹس کو واپس لانا آسان نہ تھا۔ عمران خان ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے ہمیشہ الرجک رہے اور جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے ملک سے ڈپارٹمنٹل سپورٹس ہی ختم کر دی، جس کے نتیجے میں ہزاروں کھلاڑی بے روزگار ہو گئے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے 2014 کے آئین کی بحالی کے بعد اب ملک میں دوبارہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ شروع ہونے والی ہے۔
ایشیا کپ کے سلسلے میں جب انڈیا اپنی ہٹ دھرمی اور اثر و رسوخ سے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو ساتھ ملا کر یہ سوچ رہا تھا کہ ایشیا کپ کی میزبانی ہی پاکستان سے لے لی جائے، اس صورت حال میں نجم سیٹھی نے ہائبرڈ ماڈل کے ذریعے انڈین کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کو مجبور کر دیا کہ ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کا پاس رہے۔
نجم سیٹھی کے اسی سخت مؤقف کی وجہ سے آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے اور چیف ایگزیکٹیو جیف ایلرڈائس کو پاکستان آنا پڑا۔ ظاہر ہے کہ آئی سی سی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کتنی ضروری ہے۔
نجم سیٹھی نے آئی سی سی پر یہ بات واضح کر رکھی ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کا انحصار پاکستان کی حکومت کی اجازت پر ہو گا اور اگر یہ اجازت نہیں ملتی تو پھر ایشیا کپ میں استعمال ہونے والا ہائبرڈ ماڈل ورلڈ کپ میں بھی استعمال ہو سکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنے میچ کسی نیوٹرل مقام پر کھیلے۔
اگر اس مرحلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو پھر نیا چیئرمین اپنے رفقا لائے گا۔ نئے لوگوں کی انٹری ہوگی اور نئے طریقے سے ایکسرسائز شروع ہو گی۔
خاص کر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت اور اس سے متعلق کئی دوسرے معاملات پر نجم سیٹھی پچھلے کئی ماہ سے آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل سے جس طرح مصروف رہے، کیا نئے آنے والے چیئرمین کے لیے اسی طرح یہ معاملات دیکھنا اور صورت حال سے نمٹنا آسان ہو گا؟
جب اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر ٹیم پر بھی پڑتا ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس سال ورلڈ کپ انڈیا میں ہو رہا ہے جہاں پاکستانی ٹیم کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ بہترین تیاری کے ساتھ جانا ہو گا، کیوں کہ اس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
کیا کرکٹ بورڈ میں اس مرحلے پر تبدیلی سے بین الاقوامی فورم پر یہ تاثر نہیں جائے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے؟ ماضی میں چیئرمینوں کی بار بار تبدیلی کو آئی سی سی واضح طور پر محسوس کرتے ہوئے اس پر حیرانی ظاہر کر چکی ہے۔
جمعے کو نجم سیٹھی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ایک اور ملاقات کی ہے۔ اسی شام انہوں نے پریس کانفرنس بھی کی جس کا بڑا مقصد ایشیا کپ کی میزبانی اور ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے معاملے پر قومی میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا لیکن اس پریس کانفرنس میں ان سے یہ سوال بھی ہوا کہ ان دنوں ذکا اشرف خاصے متحرک نظر آ رہے ہیں تو آپ اپنا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟
نجم سیٹھی نے اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا ہے کہ ’چیئرمین وہ ہوں یا ذکا اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ میں استحکام ہونا چاہیے۔ موجودہ چیئرمین اور سابق چیئرمین سب کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہونا چاہے۔ ماضی میں ہم دونوں کے ساتھ آنے جانے کا معاملہ لگا رہا تھا، یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پیٹرن (وزیراعظم) اور زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ انہیں چیئرمین ہونا چاہیے تو وہی ہوں گے اور اگر وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ ذکا اشرف کو ہونا چاہیے تو میں ان کا خیرمقدم کرنے والے پہلا شخص ہوں گا۔‘