اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے مشروط رہائی کا حکم دیا ہے۔
شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی رہائی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ وکلا نے تحریری حکم نامہ تصدیق بھی کروا لیا، اب تحریری حکم ناموں کی کاپیاں پولیس سمیت متعلقہ اداروں کو بھی فراہم کی جائیں گی۔
عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد میں اپنے گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ’جب تک کیس زیر التوا ہے میڈیا پر بیان نہ دیا جائے اور نہ ہی اسلام آباد کی حدود سے باہر جایا جائے۔‘
تحریری حکم نامے کی تفصیلات
تحریری حکم نامے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سکیورٹی ادارہ یا اتھارٹی شہریار آفریدی کو کسی اور کیس میں گرفتار نہیں کر سکتی۔ شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم نامہ معطل کیا جاتا ہے، شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار اسلام آباد میں ہی مقیم رہیں، عدالت کی اجازت کے بغیر اسلام آباد سے باہر جانے پر پابندی ہو گی۔
جبکہ شہریار آفریدی کو صوبائی حکومتیں بھی گرفتار کر کے اسلام آباد سے باہر نہیں لے جا سکیں گی، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے، آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر یقینی بنائیں کہ دونوں آئندہ سماعت پر پیش ہو سکیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کی بنیاد پر شہریار آفریدی اور شاندانہ کی گرفتاری کا حکم جاری کیا، پولیس کے مطابق شہریار آفریدی کے خلاف اور کوئی کیس نہیں جس میں گرفتاری کی ضرورت ہو۔
عدالت شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کے کیسز کے الگ الگ تحریری حکم نامے جاری کیے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل شہریار آفریدی سے دوران گرفتاری ملاقاتوں کی تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں، ڈپٹی کمشنر تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے آرڈرز جاری کرنے سے متعلق اپنا اختیار واضح کریں، ڈپٹی کمشنر بتائیں کہ حکومت نے کب انہیں 3 ایم پی او کے تحت آرڈرز جاری کرنے کا اختیار دیا، آئی جی اسلام آباد 85 دن سے قید شہریار آفریدی کی دوبارہ گرفتاری سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، آئی جی اسلام آباد رپورٹ کے ساتھ بیان حلفی بھی جمع کرائیں کہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔
مزید کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ایم پی او کے تحت جاری تمام آرڈرز کی تفصیلات جمع کرائیں، بادی النظر میں شہریار آفریدی کی گرفتاری کے احکامات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، عدالت تمام رپورٹیں جمع کرانے کے لیے حکومت کو وقت دیتی ہے۔
کیس کو 28 اگست کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔
’اپنے گھر میں موجود رہیں‘
سماعت کے دوران عدالت نے شہریار آفریدی سے استفسار کیا کہ ’آفریدی صاحب آپ کا کوئی گھر ہے اسلام آباد میں؟‘ جس پر شہریار آفریدی نے جواب دیا کہ ’جی، میرا گھر موجود ہے۔‘
اس پر عدالت نے شہریار آفریدی کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ اپنے اسلام آباد والے گھر میں موجود رہیں۔‘
جسٹس بابر ستار کا مزید کہنا تھا کہ ’میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ یہ کیس چلنے تک آپ کوئی بیان نہیں دیں گے۔ میڈیا یا سوشل میڈیا پر آپ کی طرف سے کوئی بیان نہیں آنا چاہیے۔‘
عدالت میں اس موقع پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے عدالت کو بتایا کہ نو مئی واقعات سب کے سامنے ہیں۔ ’انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق شہریار آفریدی نے اشتعال دلایا، ڈسٹرکٹ کورٹس پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ جوڈیشری کے خلاف مہم میں بھی ان کا نام آیا۔‘
جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ جیل میں ہونے کے باوجود انہوں نے لوگوں کو کیسے اشتعال دلایا؟ تو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جواب دیا کہ ’میری آنکھیں اور کان تو انٹیلی جنس رپورٹس ہی ہیں۔‘
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کے جواب کو ’غیر تسلی بخش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر پر آئندہ سماعت میں چارج فریم کیا جائے گا۔‘
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ پولیس حکام بتائیں کہ آٹھ مئی کو کیا صورت حال تھی اسلام آباد میں؟ جس پر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت کو بتایا کہ ’واقعہ ہونے سے قبل خدشات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ہم نے یہ کارروائیاں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے کی تھیں۔‘
ایس ایس پی آپریشن کے وکیل طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ ’پہلا ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دینے کی وجوہات مختلف تھیں، تھریٹ الرٹس پر کارروائی خدشات کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ’عدالت آردڑ کالعدم قرار دیتی ہے اور پھر نیا ایم پی او آرڈر آ جاتا ہے۔‘
عدالت نے ایس ایس پی آپریشن کے جواب کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیتے ہویے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ایس ایس پی آپریشنز پر بھی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس کے علاوہ عدالت نے مزید حکم دیا کہ شہریار آفریدی سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا ریکارڈ جمع کروایا جائے جسے آرڈر کا حصہ بنایا جائے گا۔
سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کے خلاف نو مئی کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام پر ایم پی او کے تحت تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد شہریار آفریدی بارہا رہا ہوئے تاہم ان کو جیل سے نکلنے کے فوراً بعد دوبارہ ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا جاتا تھا۔
شہریار آفریدی نے گرفتاری کے خلاف دس اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
’لاہور ہائی کورٹ 21 اگست تک فیصلہ کرے‘
دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ کو 21 اگست تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے بدھ کو پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران کہا کہ ’اگر ہائی کورٹ 21 اگست کو فیصلہ نہیں کرتی تو گرفتاری کا عبوری حکم نامہ معطل تصور ہو گا۔‘
جسٹس جمال مندوخیل نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’یہ ٹاپ مشینری کے بیچ کی بات ہے، مل بیٹھ کر معاملات حل کیوں نہیں کر لیتے؟ بہتر نہیں ہے سب اپنا قبلہ درست کر لیں۔‘
لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تو لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے عبوری حکم نامے میں پرویز الہی کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔
چوہدری پرویز الہیٰ اس وقت ترقیاتی پراجیکٹس میں رشوت کے کیس میں نیب ریمانڈ پر ہیں۔ اس سے قبل پرویزالہیٰ کو 26 جون کو اینٹی کرپشن کیس ضمانت کے بعد ایف آئی اے نے حراست میں لیا تھا۔