جنوبی لبنان: ’اسرائیلی بمباری‘ میں ایک صحافی کی موت، چھ زخمی

اے ایف پی کے ایک زخمی نامہ نگار کے مطابق مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیلی سرحد کے قریب کام کر رہا تھا جب ان پر گولہ باری ہوئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو جنوبی لبنان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والا روئٹرز کا ایک صحافی جان سے گیا جبکہ اے ایف پی، روئٹرز اور الجزیرہ کے چھ دیگر صحافی زخمی ہو گئے۔

اے ایف پی کے دو زخمی نامہ نگاروں میں سے ایک نے بتایا کہ مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیل کی سرحد کے قریب الما الشعب کے مقام پر تھا جب وہ گولہ باری میں پھنس گئے۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک فلسطینی گروپ کی جانب سے سرحد کے لبنانی حصے سے دراندازی کی کوشش کے بعد اسرائیل نے گولہ باری کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہمارے ویڈیو گرافر عصام عبداللہ جان سے گئے۔‘ روئٹرز کے مطابق عصام جنوبی لبنان میں روئٹرز کے عملے کا حصہ تھے۔

روئٹرز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’طاہر السوڈانی اور مہر نازیہ بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔‘

اے ایف پی کی فوٹوگرافر کرسٹینا آسی اپنے ساتھی ویڈیو جرنلسٹ ڈیلن کولنز کے ساتھ اسی علاقے میں کام کر رہی تھیں۔ دونوں کو علاج کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے دو صحافی بھی شامل ہیں۔ ادارے نے اپنی گاڑی پر اسرائیلی بمباری کا الزام عائد کیا ہے۔

اے ایف پی کے گلوبل نیوز ڈائریکٹر فل چیٹوائنڈ کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کا ایک گروپ، جن کی واضح طور پر شناخت کی گئی تھی، کام کرتے ہوئے جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔‘

فل نے بیان میں روئٹرز کے ساتھ عصام عبداللہ کی موت پر اظہار تعزیت بھی کیا۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 1799 اموات: وزارت صحت

غزہ کی وزارت صحت نے جمعے کو کہا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں سے غزہ میں ہونے والی اموات کی تعداد 1799 ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں میں 1799 شہری جان سے جا چکے ہیں جن میں 583 بچے اور 351 خواتین شامل ہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں سات ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ہزاروں فلسطینیوں نے جنوب کی طرف نقلِ مکانی شروع کر دی

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے خلاف متوقع زمینی حملے سے قبل ہزاروں فلسطینیوں نے پناہ کی تلاش میں جمعے کے روز جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی زمینی افواج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں ’مقامی سطح پر‘ چھاپے مارے تاکہ ’علاقے کو شدت پسندوں اور ہتھیاروں سے پاک کیا جا سکے‘ اور ’لاپتہ افراد‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

لینن گراڈ طرز پر غزہ کا محاصرہ ناقابل قبول ہے: پوتن

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعے کو کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی جانب سے لینن گراڈ کا محاصرہ کرنے کی طرز پر غزہ کی ناکہ بندی کا مطالبہ ناقابل قبول ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ثالثی کی ضرورت پر زور دیا۔

روسی صدر پوتن نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کو اس طرح کے غیر معمولی حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن دونوں طرف سے تمام تلخیوں کے باوجود میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ہمیں سویلین آبادی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی غزہ کی ناکہ بندی کا مطالبہ ’دوسری جنگ عظیم کے دوران لینن گراڈ کے محاصرے‘ کے مترادف ہے اور اس طرح کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔

حماس نے شمالی غزہ کو خالی کرنے کی اسرائیلی وارننگ مسترد کر دی

فلسطین میں سرگرم تنظیم حماس نے جمعے کو اس اسرائیلی وارننگ کو مسترد کر دیا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر حملوں کے پیش نظر 11 لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کو شمالی غزہ سے انخلا کرنے کو کہا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے وادی غزہ کے شمال میں تمام فلسطینیوں کو 24 گھنٹے تک انخلا کر کے جنوبی غزہ کا رخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس نے اسرائیل کے اس انتباہ کے ردعمل میں جاری ایک بیان میں کہا: ’ہمارے فلسطینی عوام قابض اسرائیلی رہنماؤں کی دھمکیوں اور ان کے مطالبات کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ دیں اور یہاں سے جنوب یا مصر کی طرف چلیں جائیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اپنی سرزمین، اپنے گھروں اور اپنے شہروں میں ثابت قدم ہیں اور کوئی اپنا گھر نہیں چھوڑے گا۔‘

اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جاری شدہ حکم کو واپس لے جس میں شمالی غزہ سے لگ بھگ 11 لاکھ لوگوں کو ممکنہ سخت حملوں کے باعث جنوبی غزہ نقل مکانی کا کہا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا: ’اقوام متحدہ یہ سمجھتی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی تباہ کن نتائج کے بغیر ممکن نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ’ اس طرح کے کسی بھی ایسے حکم (اگر مصدقہ ہو) کے حوالے سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ اسے منسوخ کر دیا جائے، اس سے گریز کیا جائے کہ جو پہلے سے ہی ایک سانحے کو ایک المناک صورت حال میں تبدیل کر سکتا ہے۔‘

مصر کی رفاح کراسنگ غزہ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے جو اسرائیل کے کنٹرول میں نہیں ہے اور رواں ہفتے کئی مواقع پر یہاں بمباری کی گئی ہے۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ مصر غزہ کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاہم انہوں نے جمعرات کو ایک تقریر میں فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ ’اپنی سرزمین پر قائم رہیں۔‘

اس سے قبل حماس نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 13 یرغمالی مارے گئے ہیں۔

حماس کے مسلح ونگ القاسم نے جمعے کو کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے کم از کم 13 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالی گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے 150 سے زائد افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، جن میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز اہلکار دونوں شامل ہیں۔

القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی طرف سے نشانہ بنائے گئے پانچ مقامات پر غیر ملکیوں سمیت 13 قیدی مارے گئے۔

امریکہ اسرائیل کو مزید فوجی مدد بھیجنے کے لیے تیار ہے: وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اسرائیل کو مزید فوجی مدد بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ ’گولہ بارود، فضائی دفاع کا سامان اور دیگر سازوسامان اور وسائل واشنگٹن کے مشرق وسطیٰ کے قریب ترین اتحادی (اسرائیل) کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

لائیڈ آسٹن نے تل ابیب میں اپنے اسرائیلی ہم منصب یواو گیلنٹ کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی محکمہ دفاع ضرورت پڑنے پر اضافی اثاثے تعینات کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ ہی روس کے حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے۔‘

غزہ، لبنان پر اسرائیل نے سفید فاسفورس ہتھیاروں کا استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

عالمی انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں فوجی کارروائیوں میں سفید فاسفورس کا استعمال کیا گیا، جس سے شہریوں کو سنگین اور طویل مدتی زخموں کا خطرہ لاحق ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے لبنان اور غزہ میں بالترتیب 10 اور 11 اکتوبر 2023 کو لی گئی ویڈیوزکی تصدیق کی، جن میں غزہ سٹی کی بندرگاہ اور اسرائیلی سرحد کے ساتھ لبنان کے دو دیہی علاقوں پر فائر کیے گئے سفید فاسفورس کے متعدد دھماکے دکھائے گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے لوگوں کا انٹرویو کیا، جنہوں نے غزہ میں ہونے والے حملے کو بیان کیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ڈائریکٹر لاما فکیہ نے کہا: ’کسی بھی وقت جب سفید فاسفورس کا استعمال پرہجوم شہری علاقوں میں کیا جاتا ہے اس سے شدید جلنے کے زخم اور عمر بھر کی تکلیف کا خطرہ ہوتا ہے۔ سفید فاسفورس کا استعمال آبادی والے شہری علاقوں میں غیر قانونی ہے، جہاں یہ گھروں کو جلا سکتا ہے اور شہریوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق سفید فاسفورس شدید آتشزدگی جیسا اثر رکھتا ہے، جو لوگوں کو، بنیادی ڈھانچے، کھیتوں اور دیگر شہری املاک کو جلا سکتا ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک غزہ میں سفید فاسفورس کا استعمال شہریوں کے لیے خطرے کو مزید بڑھاتا ہے اس لیے یہ عمل شہریوں کو غیر ضروری خطرے میں ڈالنے سے متعلق بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عالمی تنظیم کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے 11 اکتوبر کو غزہ شہر کے المینہ علاقے سے فون پر دو لوگوں کا انٹرویو کیا، جنہوں نے اسرائیلی فضائی حملوں میں سفید فاسفورس کے استعمال کی تصدیق کی۔ حملے کے وقت دونوں عینی شاہدین میں سے ایک اس وقت سڑک پرجبکہ دوسرا قریبی دفتر کی عمارت میں تھا۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق دونوں افراد نے دھماکوں سے پہلے آسمان میں ان فضائی حملوں کو بیان کیا، جس کے بعد انہوں نے زمین کی جانب بڑھنے والی سفید لکیروں کو بیان کیا۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ حملہ صبح 11:30 سے ایک بجے کے درمیان ہوا تھا۔

دونوں نے کہا کہ حملے کے بعد فضا میں (فاسفورس کی) شدید بو پھیل گئی تھی۔ یہ بو اتنی شدید تھی کہ اپنے دفتر میں موجود شخص نے بتایا وہ (سانس لینے کے لیے) کھڑکی کی طرف بھاگے اور پھر حملے کی فلم بندی کی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انہوں نے اس ویڈیو کا جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ اسے غزہ شہر کی بندرگاہ سے فلم بند کیا گیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے گولے اور بارود 155 ملی میٹر کے سفید فاسفورس آرٹلری پروجیکٹائل تھے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 10 اکتوبر کو اسرائیل لبنان سرحد کے قریب دو مقامات سے لی گئی دو ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا۔ ہر ایک حملے میں 155 ملی میٹر سفید فاسفورس آرٹلری پروجیکٹائل کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان الزامات پر اسرائیل کی فوج نے کہا کہ وہ ’فی الحال غزہ میں سفید فاسفورس پر مشتمل ہتھیاروں کے استعمال سے آگاہ نہیں ہیں۔‘

اسرائیلی فوج نے انسانی حقوق کے نگراں ادارے کے لبنان میں سفید فاسفورس ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں دیا۔

اقوام متحدہ کی غزہ کے متاثرین کے لیے ہنگامی امداد کی اپیل

دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد چار لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 84 ہزار 444 سے بڑھ کر چار لاکھ 23 ہزار 378 تک پہنچ گئی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں اب تک فلسطین میں 14 سو سے زیادہ افراد مارے گئے جب کہ سینکڑوں زخمی ہیں۔

اقوام متحدہ نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں، جہاں سے چار لاکھ سے زیادہ فلسطینی نقل مکانی کر چکے ہیں، ’انتہائی اور فوری ضروریات‘ کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل جاری کی۔

عالمی ادارے کے مطابق یہ فنڈز 12 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیے جائیں گے جب کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ لڑائی نے امدادی گروپوں کو مناسب وسائل کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔

چین: بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ملازم پر حملہ

اسرائیلی وزارت خارجہ کا جمعے کو کہنا ہے کہ چین کے شہر بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم پر حملہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم پر آج حملہ کیا گیا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’یہ ملازم اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ چینی دارالحکومت میں واقع سفارت خانے کی حدود میں نہیں ہوا۔

بیان کے مطابق ’اس حملے کی محرکات پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

شمالی کوریا کے ہتھیار حماس نے استعمال نہیں کیے:  سرکاری نیوز ایجنسی

دوسری جانب شمالی کوریا نے جمعے کو اس بات کی تردید کی کہ حماس اسرائیل کے خلاف ان کے ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔

ریڈیو فری ایشیا نے اس ہفتے عسکری ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسند شمالی کوریا کے ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی جنگجوؤں کی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے راکٹ لانچر شمالی کوریا ساختہ ہو سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے بھی ایک انٹیلی جنس ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے زیر استعمال کچھ ہتھیار ممکنہ طور پر شمالی کوریا سے آئے ہیں۔

اس حوالے سے شمالی کوریا کی سرکاری کے سی این اے ایجنسی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ’نیم ماہرین جھوٹے دعوے اور افوائیں پھیلا رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے ہتھیار اسرائیل میں حملے میں استعمال ہوئے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا