خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبے بغلان کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والے دھماکے میں سات افراد جان سے چلے گئے۔
روئٹرز کے مطابق ایک حکومتی عہدیدار مولوی ہاشمی نے بتایا کہ اس واقعے میں سات افراد جان سے گئے جبکہ 15 زخمی ہیں۔
ہاشمی نے بتایا کہ بعض زخمیوں کو قندوز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغلان کے دارالحکومت پُل خمری میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔ تاہم طالبان حکومت نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اس (دھماکے) کی شدید مذمت کرتا ہوں لیکن فی الحال میرے پاس مکمل معلومات نہیں۔‘
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ شہر کی امام زمان مسجد میں نماز جمعہ کے لیے جمع ہوئے۔
عبدالحمید نامی شہری نے بتایا کہ ’ایک خوف ناک آواز سنائی دی۔ دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں جان سے جانے والے لوگوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ صورت حال بالکل اچھی نہیں۔‘
ایک اور مقامی رہائشی سعید داؤد کا کہنا تھا ’کہ جب میں گھر تھا تو میں نے زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ اب ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکام لوگوں کو دھماکے والی جگہ سے دور ہٹا رہے ہیں۔