یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ

حماس کی قید میں موجود افراد کے اہل خانہ اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے عزیزوں کی جلد واپسی میں کردار ادا کرے۔

حماس کی تحویل میں موجود اسرائیلیوں کی بازیابی کے لیے اسرائیل کی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس میں ایک یرغمال اسرائیلی لڑکی والدہ نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ان کی بیٹی کی واپسی میں اپنا کردار ادا کریں۔ 

حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف ’طوفان الاقصیٰ آپریشن‘ کے دوران 200 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے، یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کی طرف سے اس مطالبے میں شدت آ رہی ہے کہ ان کے اپنوں کی جلد واپسی میں اسرائیلی حکومت کردار ادا کرے۔ 

یرغمالی لڑکی ميا شيم کی والدہ کیرن شیم نے منگل کو تل ابیب میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی بیٹی کی تصویر اٹھائے ہوئے کہا کہ ’میں عالمی رہنماؤں سے کہوں گی کہ وہ میری بیٹی کو واپس کروائیں جس بھی حال میں وہ آج ہے اور اس کے علاوہ دیگر یرغمالیوں کو بھی۔‘

کیرن شیم نے کہا ’میں دنیا سے اپنی بچی کو گھر واپس لانے کی  بھیک مانگ رہی ہوں۔ وہ بس ایک پارٹی میں گئی تھی، ایک فیسٹیول پارٹی میں، کچھ تفریح کرنے کے لیے (گئی) اور اب وہ غزہ میں ہے۔ وہ اکیلی نہیں ہے، بہت سے دوسرے بچے بھی ہیں جو اس پارٹی میں گئے تھے۔‘

فرانسیسی اسرائیلی میا شیم سے متعلق حماس نے پیر کو ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں میا شم کہہ رہی ہیں کہ ’میں غزہ میں ہوں، انہوں نے میری سرجری کی ہے جس میں تین گھنٹے لگے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’سب ٹھیک ہے اور میں صرف یہ کہوں گی کہ جتنا جلدی ممکن ہو مجھے گھر واپس بھیجا جائے، میرے خاندان کے پاس۔ برائے مہربانی جتنا جلدی ممکن ہو ہمیں یہاں سے باہر نکالیں۔‘

رواں ہفتے ہی اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے تل ابیب میں ہیڈ کوارٹرز کے باہر بھی بڑی تعداد میں اسرائیلی جمع ہوئے جو حماس کے پاس  موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی جلد اور بحفاظت واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حماس ملٹری کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم غزہ میں قید تمام غیر ملکی شہریوں کو رہا کریں گے، کیونکہ ہمارے پاس گرفتاری کے دوران ان کی شناخت کی تصدیق کرنے کا وقت نہیں تھا۔ جب تک حالات ان کی رہائی کی اجازت نہیں دیتے ہم انہیں مہمان تصور کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت 200 سے 250 کے درمیان اسرائیلی حماس کی تحویل میں ہیں لیکن ’ہمیں ان کی درست تعداد کے بارے میں اس لیے نہیں معلوم کیوں کہ غزہ پر بغیر کسی وقفے کے بمباری ہو رہی ہے جس میں ان کے (اسرائیل) کے 22 شہری مارے گئے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ قیدیوں کے ساتھ ناروا برتاؤ کیا جا رہا ہے، بلکہ ابو عبیدہ نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی ہر ممکن دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ 

حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فورسز کی شدید بمباری سے اموات کی تعداد 2,800 سے تجاوز  کر گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان میں سے نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ 

اس کے علاوہ اسرائیلی حملوں میں 11 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔  

اسرائیلی فورسز نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ بمباری کے بعد غزہ کی پٹی کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور اب وہاں نہ بجلی ہے نہ پانی، اور خوراک کی بھی قلت ہے۔  

عالمی ادارے صحت نے منگل کو کہا کہ اسے غزہ تک فوری رسائی دی جائے تاکہ طبی اور امداد سامان وہاں پہنچایا جا سکے۔ 

اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے مطابق غزہ میں 115 حملے صحت کے مراکز پر ہوئے اور اب غزہ میں بیشتر ہسپتال بجلی، پانی اور میڈیکل ساز و سامان کی فراہمی نہ ہونے کے سبب مکمل طور پر کام نہیں کر رہے ہیں۔ 

اس صورت حال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا