ایران کا کردستان میں اسرائیلی ’جاسوس ہیڈکوارٹرز‘ پر حملے کا دفاع

شمالی عراق میں نیم خودمختار علاقے کردستان کی حکومت کی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں حملے کو ’جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اربیل پر حملوں میں کم از کم چار افراد کی موت ہوئی اور چھ زخمی ہوئے۔

ایران نے منگل کو عراق کے نیم خودمختار کردستان کے علاقے اربیل میں اور شام میں اپنے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ تھا اور ملک کی سلامتی کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ’منصفانہ سزا‘ تھی۔ 

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی اعلیٰ انٹیلی جنس صلاحیت کے ساتھ ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے مجرموں کے ہیڈکوارٹرز کی نشاندہی کی اور انہیں درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے پیر کو رات گئے رپورٹ کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب فورس نے عراق کے نیم خودمختار کردستان کے علاقے اربیل میں اسرائیل کے ’جاسوسی کے ہیڈ کوارٹر‘ پر حملہ کیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ شام میں بھی داعش کے خلاف حملہ کیا گیا۔

عراقی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے بغداد میں ایران کے سفیر کو طلب کیا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے اس کی سرزمین پر میزائل حملوں کے بارے میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔

عراق کی وزارت خارجہ کی جانب سے چارج ڈی افیئرز ابوال فضل عزیزی کو سونپے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ عراق اربیل کے متعدد علاقوں میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتا ہے جس میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

’یہ حملہ عراقی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قانون اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ یہ اقدام ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں اسرائیل کی جاسوس ایجنسی موساد کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’جاسوسی کے مراکز اور خطے میں ایران مخالف دہشت گرد گروہوں کے اجتماعات کو تباہ کرنے کے لیے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔‘

مزید کہا گیا کہ کردستان کے دارالحکومت اربیل کے شمال مشرق میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک رہائشی علاقے میں ان حملوں کے علاوہ ایران میں ’دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکب افراد‘ کے خلاف بھی حملے شروع کیے، جن میں داعش بھی شامل ہے۔

دو امریکی عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ میزائل حملوں سے امریکی تنصیبات متاثر نہیں ہوئیں۔

کردستان حکومت کی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں حملے کو ’جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اربیل پر حملوں میں کم از کم چار افراد کی موت ہوئی اور چھ زخمی ہوئے۔

عراقی سکیورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ کروڑ پتی کرد تاجر پیشرو دیزائی اور ان کے خاندان کے کئی افراد مرنے والوں میں شامل ہیں، جن کی موت گھر پر راکٹ گرنے کی وجہ سے ہوئی۔

دیزائی علاقے کے حکمران بارزانی قبیلے کے قریبی سمجھے جاتے تھے اور کردستان میں رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے منسلک تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک راکٹ کرد انٹیلی جنس کے ایک سینیئر اہلکار کے گھر اور دوسرا کرد انٹیلی جنس مرکز پر گرا۔

روئٹرز آزادانہ طور پر کسی بھی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا جبکہ اسرائیلی حکومت کے عہدیدار بھی فوری طور پر تبصرہ کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں اور بعدازاں غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے یہ تنازع مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کے خدشات ہیں، جس میں ایران کے اتحادی لبنان، شام، عراق اور یمن سے بھی میدان میں اترے ہیں۔

ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جرائم کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مطابق وہ اسرائیل کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے جان سے جانے والے فلسطینی شہریوں کی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے ماضی میں بھی عراق کے شمالی کردستان کے علاقے میں حملے کیے ہیں اور اس کے مطابق یہ علاقہ ایرانی علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ ساتھ اس کے پرانے دشمن اسرائیل کے ایجنٹوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب عراق نے پہاڑی سرحدی علاقے میں علیحدگی پسند گروپوں کے بارے میں ایرانی خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور 2023 میں تہران کے ساتھ طے پانے والے ایک سکیورٹی معاہدے کے حصے کے طور پر کچھ اراکین کی نقل مکانی کی کوشش بھی کی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں داعش نے ایران کے جنوب مشرقی شہر کرمان میں دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جب ایرانی پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی برسی کے موقعے پر لوگ جمع تھے۔ ان حملوں میں تقریباً 100 اموات اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا