سمندر پار پاکستانی اور سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور

پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے آٹھ فروری کے انتخابات کے لیے اعلان کردہ انتخابی منشوروں میں سمندر پار پاکستانیوں کا ذکر موجود ہے۔

13 اپریل 2005 کی اس تصویر میں پاکستانی ورکرز سعودی عرب کے شہر جدہ میں کام کے وقفے کے دوران کافی پی رہے ہیں (روئٹرز) 

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے آٹھ فروری کے انتخابات کے لیے اپنے اپنے انتخابی منشوروں کا اعلان کر دیا ہے، جن کا عوامی حلقوں میں مختلف حوالوں سے تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

معاشی، سیاسی اصلاحات اور داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ منشوروں کا ایک قابل غور جز سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق مجوزہ پالیسیاں ہیں۔

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کی تعداد تقریباً 90 لاکھ ہے، جن کی اکثریت مشرق وسطی، یورپ اور امریکہ میں مقیم ہیں۔

مادر وطن سے دور مقیم پاکستانیوں کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ ان کی جانب سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر بھی ہیں، جو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے اور معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2017 سے 2022 تک 150 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بیرون ملک سے بھیجی گئیں۔ اس لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی معیشت میں ایک اہم کردار ہے اور سیاسی جماعتوں کی ان کے متعلق پالیسیاں بھی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔

سمندر پاکستانیوں کی توقعات

انڈپینڈنٹ اردو نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم پاکستانیوں سے وطن عزیز میں نئی حکومت سے توقعات سے متعلق سوال کیا۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے نوجوان واثق افتخار کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کو سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل پر خصوصی توجہ دینا اور یہاں موجود سفارتی عملے اور شہریوں کے درمیان روابط بہتر اور مضبوط بنانے پر کام کرنا چاہیے۔

واثق کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کو سعودی حکومت سے طبی، تجارتی و دیگر سہولیات سے متعلق مذاکرات کرنا چاہیے، جن تک پاکستانی شہریوں کو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ 

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ اعلیٰ تعلیم کا حصول ہے کیونکہ یہاں پاکستانی یا دیگر غیر ملکیوں کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں ہے۔

’اس حوالے سے حکومت پاکستان یا تو خود یونیورسٹی قائم کرے یا سعودی عرب کی سرکاری جامعات میں پاکستانیوں کے لیے داخلوں کا طریقہ کار وضع کرے۔

ہارون حیدر جدہ میں ایک معروف نجی کمپنی میں اکاؤنٹس منیجر ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے روشن ڈیجیٹل اور سوہنی دھرتی جیسی سکیمیں متعارف کروائی گئیں، جن سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا۔

’حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ منصوبے روک دیے گئے جو کہ خوش آئند بات نہیں ہے۔‘

ہارون حیدر نے زور دیا کہ سمندر پار پاکستانی بالخصوص مشرق وسطی میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق حاصل ہونا چاہیے کیونکہ یہاں پر مقیم دہری شہریت کے حامل نہیں ہوتے اور ان کو بالآخر پاکستان ہی واپس آنا ہوتا ہے۔

’لہذا ان کی ووٹنگ کا طریقہ ضرور وضع کیا جانا چاہیے۔‘

جدہ میں لوگوں سے بات چیت کے دوران یہ دلچسپ بات سامنے آئی کہ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرنے والے پاکستانیوں میں سے کسے نے بھی وطن عزیز کی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور پڑھے نہیں ہوئے تھے۔

سیاسی جماعتوں کے منشور

2024 کے عام انتخابات کے لیے جاری کردہ منشوروں میں ہر سیاسی جماعت نے سمندر پار پاکستانیوں کا مختلف انداز سے تذکرہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ’چنو نئی سوچ کو‘  نعرے کے عنوان سے منشور میں ’سمندر پار پاکستانیوں کو بااختیار بنانا‘ کا ذیلی عنوان ہے، جس کے تحت چار نکات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے نمبر پر سمندر پار پاکستانیوں کی حق رائے دہی کی بات کی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پارلیمان میں علیحدہ نشستیں مخصوص کرے گی جن پر ان کو انتخاب کا حق حاصل ہو گا۔

اس کے علاوہ ترسیلات زر میں اضافے کو یقینی بنانے اور بیرون ملک قید پاکستانیوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے جب کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا منشور اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس میں مختلف مقامی فلاحی سکیموں میں سمندر پار پاکستانیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر کامیاب پاکستان پروگرام میں کامیاب اوورسیز پاکستانیز پالیسی متعارف کرانے کا وعدہ شامل ہے، جس میں ان سمندر پار پاکستانیوں کو قرضے فراہم کیے جائیں گے جو بیرون ملک ملازمت تو کر رہے ہیں لیکن وہ سفر اور ویزے کے اخراجات ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

حیران کن طور پر پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے علیحدہ اقدامات کا تذکرہ نہیں کیا گیا جبکہ سب سے زیادہ زور ان کے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنانے اور ووٹ کا حق دینے پر دیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے منشور میں ’خوشحال سمندر پار پاکستانی‘ کے ذیلی عنوان کے تحت نو سطری نکات ہیں، جن میں سب سے اہم ’پروٹیکشن آف اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی اتھارٹی‘ کا قیام ہے، جو سمندر پار پاکستانیوں کی پاکستان میں موجود جائیداد کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی نے سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے متعلق میانہ روی اختیار کرتے ہوئے اس کے طریقہ کار کو دیگر جماعتوں کی مشاورت سے جوڑا ہے۔

اس منشور کا ایک اہم اور منفرد نکتہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان آمد پر امیگریشن اور کسٹمز میں آسانیاں پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔

اس کے علاوہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ دستاویزات کی آن لائن تجدید کا طریقہ کار وضع کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن نے بھی اپنے منشور میں سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق کئی وعدے کیے ہیں۔

مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی طرح سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پارلیمان میں مخصوص نشستیں رکھنے کے حق میں ہے۔

اس کے علاوہ منشور میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے علیحدہ ٹریبونلز اور عدالتوں کے قیام کے وعدے کے علاوہ  ہاوسنگ سکیمز میں 10 فیصد کوٹہ مختص کرنے اور فارن ایکسچینج میں قیمت ادا کرنے پر پانچ فیصد رعایت کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ نے سمندر پار پاکستانیوں کو کاروباری سہولیات دینے، ان کے ذریعے پاکستانی برآمدات بڑھانے اور آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے منشور کا یہ نکتہ اس کو دیگر جماعتوں کے منشور سے منفرد بناتا ہے۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا