کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوری سے کاروں اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد پولیس کی جانب سے ان گاڑیوں کو خریدنے والے کباڑیوں کے خالف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا جس سے ان جرائم میں واضع کمی آئی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اینٹی کار لفٹنگ سیل کراچی محمد عارف اسلم راؤ نے کہا: ’گذشتہ سال کے آخری تین مہینوں اور اس سال کے ابتدائی تین مہینوں کے دوران کراچی میں گاڑیوں کے چوری ہونے اور چھننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا۔
’اس کے پہلے تین مہینوں میں کراچی میں ہر مہینے اوسطً 180 سے 190 کاریں یا موٹرسائیکل چوری یا چھینی گئیں۔ جرائم کی ان وارداتوں کے اضافے کے بعد ان جرائم کے تمام پہلوؤں پر کام کیا گیا۔ اس میں یہ پہلو تھا کہ گاڑیاں چوری کرنے یا چھیننے کی وارداتوں میں کتنے اور کون سے گروہ اور افراد شامل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس تحقیق کا دوسرا پہلو ہے کہ چوری اور چھیننے والے گاڑیوں اور موٹرسائیکل کوکہاں لے جایا جاتا ہے تو پتہ چلا کہ کچھ گاڑیاں شہر یا صوبے سے باہر چلیں جاتی ہیں۔ باقی گاڑیاں کراچی کے کباڑیوں کے پاس بیچی جاتی ہیں۔ جو ان کے کچھ پارٹس کو مارکیٹ میں بیچتے ہیں کچھ حصوں کو لوہے کے طور پر بیچ دیتے ہیں۔‘
محمد عارف اسلم راؤ کے مطابق اس تحقیق کے بعد کراچی پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شہر کے 350 سے زائد ایسے کباڑیوں کی نشاندہی کی جو چوری یا چھینی گئی گاڑیاں خریدتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ اس پر 30 افسران پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔
جس کے دوران اب تک 50 سے زائد مقدمات دائر کرکے 77 ایسے کباڑیوں کو گرفتار کیا گیا، جو چوری کی گاڑیاں خریدتے ہیں۔
محمد عارف اسلم راؤ کے مطابق گاڑیوں کے علاوہ گٹر کے ڈھکن، پلوں میں لگا سریا، زیر زمین کیبل بھی کاٹ کر کباڑیوں کو بیچی جاتی ہیں۔
بقول محمد عارف اسلم راؤ: ’کباڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث شہر میں موٹرسائیکل کی چوری اور چھیننے کے وارداتوں میں واضح کمی آئی اور گذشتہ دو سالوں میں کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ چوری کی گاڑیوں کے خریدنے والوں کے خلاف آپریشن سے ان جرائم میں واضح کمی دیکھی گئی۔‘
کراچی کے شیر شاہ میں واقع مارکیٹ میں کباڑ کی دکانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ صدر انجمن ویلفیئر کباڑیان شیر شاہ ملک زاہد دہلوی کے مطابق یہ مارکیٹ 1955 سے قائم ہے، جہاں موجود دکان دار باضابطہ رجسٹرڈ ہیں۔ شہر میں چوری ہونے والی اشیا شیر شاہ مارکیٹ کے بجائے مختلف علاقوں میں بیٹھے انفرادی کباڑ کا مال خریدتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ملک زاہد دہلوی نے کہا: ’چوری کا سامان خریدنے والوں کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن سے ہم خوش ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ سب سکریپ ڈیلرز کی بدنامی کا باعث ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکام سے کہا ہے کہ تمام کباڑیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور انہیں پانبد بنایا جائے کہ جو بھی اشیا خریدیں یا بیچیں ان کا ثبوت رکھیں اور وقت آنے پر حکام کو دکھائیں۔‘