’کھیلنے گیا تھا لیکن مہارت دیکھ کر ریفری بنا دیا‘: پاکستانی فائٹر

انڈونیشیا میں منعقدہ کراٹے چیمپیئن شپ میں حصہ لینے والے مارشل آرٹس کے ماہر سردار زوہیب کے مطابق کھیل میں مہارت دیکھ کر انٹرنیشنل کمیٹی نے انہیں ایونٹ کا ریفری بنا دیا۔

انڈونیشیا میں کیو شن کائی کراٹے چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مارشل آرٹس کے ماہر سردار زوہیب کا کہنا ہے کہ کھیل میں مہارت دیکھ کر انٹرنیشنل کمیٹی نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایونٹ میں بطور ریفری حصہ لیں۔

سردار زوہیب نے اپنے اس تجربے کے بارے میں بتایا کہ یہ پہلی بار ہوا کہ کسی کو ریفری کی پیشکش کی گئی۔ ’میں وہاں بطور فائٹر گیا تھا، لیکن کھیل میں میری مہارت اور تجربہ دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کمیٹی نے مجھے اپنی جیوری کا حصہ بنانے کی پیشکش کی۔‘

انہوں نے کہا کہ دوسرے ملک جا کر پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز کی بات تھی۔ ’ایونٹ میں ریفری کی ذمہ داری نبھانے پر ناصرف گولڈ میڈل دیا گیا بلکہ اگلے ایونٹس میں بطور ریفری بھی مدعو کیا گیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس ایونٹ کے لیے دنیا بھر سے 36 ممالک کو مدعو کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی طرف سے ان سمیت پانچ فائٹرز نے کیو کشن کراٹے چیمپئین شپ میں حصہ لیا، جس میں سے دو نے گولڈ، ایک نے سلور اور ایک نے برانز میڈل جیتا۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر ٹورنامنٹ میں پاکستان کی دوسری پوزیشن رہی۔

سردار زوہیب کے مطابق پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے اور ایسے فائٹرز ہیں جو پاکستان کے لیے تمغے لا سکتے ہیں۔

انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو کم از کم سمر کیمپس میں ضرور بھیجیں تاکہ وہ اپنا دفاع کرنا سیکھیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل