پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد شہر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے لیکن یہاں پر گذشتہ چند سالوں سے موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کا خطرناک کرتب ایک کھیل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
اس کھیل میں نوعمر بچے موٹر سائیکلوں کو شہر کی مصروف سڑکوں پر صرف ایک ٹائر کو ہوا میں لہرا کر دوڑاتے ہیں جس پر لاکھوں روپے کا جوا بھی لگایا جاتا ہے۔
مظفرآباد پولیس نے ون ویلنگ پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود یہ تاحال اس خطرناک کھیل کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے جس کی وجہ پولیس ذرائع کے مطابق والدین کی بچوں کی بے جا حمایت اور سیاسی مداخلت بتائی جاتی ہے.
ایک سال میں کتنے موٹر سائیکلوں کے حادثے ہوئے اور کتنے نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے؟
اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے مظفرآباد میں موجود سب سے بڑے سرکاری ہسپتال عباس میڈیکل انسٹیٹیوٹ کا رخ کیا جہاں شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر علینہ نے اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے کہا کہ صرف گذشتہ ایک مہینے میں موٹر سائیکل سواروں کے 250 کیسز شعبہ ایمرجنسی میں آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے چار مہینوں میں تقریباً ایک ہزار موٹر سائیکل سوار حادثات کا شکار ہوئے جب کہ گذشتہ سال شعبہ حادثات میں ڈھائی ہزار سے زائد زخمی موٹر سائیکل سواروں کو لایا گیا تھا۔
ڈاکٹر علینہ کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں اکثریت ایسے نوجوان لڑکوں کی تھی جو موٹر سائیکل پر ریسنگ یا ون ویلنگ کرتے ہوئے حادثوں کا شکار ہوئے۔
ان کے بقول: ’ایسے حادثات میں سنگین اور جان لیوا چوٹیں آتی ہیں کیوں کہ یہاں ہیلمٹ پہننے کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک عام موٹر سائیکل کو ون ویلنگ کے لیے تیار کرنا ایک باقاعدہ فن سمجھا جاتا ہے۔ مظفرآباد میں خاص طور پر عام موٹر سائیکل کو موڈیفائی کر کے ون ویلنگ موٹر سائیکلز میں تبدیل کرنے والے مکینک موجود ہیں لیکن پولیس کی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے یہ کام چوری چھپے کیا جاتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے موٹر سائیکل مکینک ہارون شیخ نے اس حوالے سے بتایا کہ سب سے پہلے ون ویلنگ کے لیے موٹر سائیکل کا وزن کم کیا جاتا ہے جس کے تحت موٹر سائیکل کا میٹر، ہیڈ لائٹ، اگلا مڈ گارڈ وغیرہ اتار دیے جاتے ہیں اور کچھ پرزوں کو ہلکے وزن کے پرزوں سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’موٹر سائیکل کا وزن جتنا کم ہو گا اتنا ہی ون ویل میں آسانی ہو گی، والدین کے لیے سب سے اہم شناخت یہ ہے کہ اگر موٹر سائیکل کی ساخت اور ظاہری شکل میں تبدیلی کی گئی ہے تو یقیناً آپ کا بچہ ون ویلنگ کے کھیل میں شریک ہے۔‘
ون ویلنگ کے کھیل میں نوجوانوں کے لیے تھرل اور ایڈونچر کے بے پناہ لطف کے ساتھ ایک چیز اور بھی شامل ہے جو انہیں اس جانب مائل کرتی ہے اور وہ ہے جوئے کے ذریعے کمائی جانے والی رقم۔
نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے اس پر جوا، شرطیں اور پیسہ لگاتے ہیں اور بہترین اور لمبی ون ویلنگ کرنے والے کو انعام کے طور پر بڑی رقم دی جاتی ہے جو لاکھوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے مظفر آباد شہر سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے نوجوان کی تلاش کی جو ماضی میں ون ویلنگ کے کھیل میں شریک رہا ہے۔
نوجوان نے اپنا ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں ون ویلنگ کے نتیجے میں ہونے والے حادثات کو دیکھ کر یہ کھیل چھوڑ چکا ہوں، ون ویلنگ کا شوق سوشل میڈیا اور فیس بک پر ویڈیوز دیکھ کر ہوا، دوست بھی ویلنگ کرتے تھے جنہیں دیکھ کر میرا شوق مزید بڑھ گیا جس کے بعد گھر والوں سے ضد کر کے بائیک خرید کر اسے موڈفائی کروایا اور اس کھیل میں مہارت حاصل کی اور خوب پیسہ کمایا۔‘
اس کھیل میں پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں نوجوان نے بتایا کہ ہم اس کھیل میں شرط لگاتے ہیں، دوستوں کے مختلف گروپس آپس میں بڑی بڑی شرطیں لگاتے ہیں۔ اکثر اوقات میں ان شرطوں میں لگائی جانے والی رقم ایک لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔‘
پولیس کی کارروائی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پولیس کا ون ویلنگ کرنے والوں کو پکڑنا ایک عام سی بات ہوچکی ہے لیکن تعلقات کی وجہ سے پولیس ہمیں کچھ کہتی نہیں تھی اور بسا اوقات پولیس کو معمولی سی رشوت دے کر ہم بائیک سمیت اپنی جان چھڑا لیتے تھے۔‘
دوسری جانب مظفرآباد پولیس کے ایس ایس پی یاسین بیگ کا کہنا ہے کہ پورے آزاد کشمیر، خاص طور پر مظفرآباد میں بغیر ہیلمٹ اور کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر بلا تفریق کارروائی کی جاتی ہے۔
ان کے بقول: ’پولیس ون ویلنگ کو روکنے کے لیے جنرل ہولڈ اپ، ناکہ بندیاں اور سپیشل کارروائیاں کرتی ہے تاہم یہ والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔‘
ون ویلنگ پر پولیس کے کردار اور والدین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے شہریوں نے بھی انڈپینڈنٹ اردو سے بات کی۔ مظفراباد سے تعلق رکھنے والے شاہد گلزار کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ یہ معاشرے اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لیے کام کریں۔
ایک اور شہری شبیر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ یہ والدین، تعلیمی ادارے، معاشرہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ان کے بقول: ’اگر یہ سب اپنا کام ٹھیک سے کریں، بچوں کی تربیت میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو ون ویلنگ جیسے خطرناک کھیل کو جڑ سے اکھاڑنا مشکل نہیں ہے۔‘