وقت سے پہلے ہی واپسی کا سفر

پاکستانی ٹیم نے یہ موقع ہی کیوں دیا کہ معاملہ رن ریٹ اور اگر مگر تک آئے؟ ظاہر ہے کہ اگر اس نے امریکہ سے مایوس کن اور انڈیا سے حیران کن شکستیں نہ کھائی ہوتیں تو وہ کسی سہارے کے بغیر اپنے زور بازو پر ہی سپر ایٹ میں پہنچ چکی ہوتی۔

پاکستان کے بابر اعظم اور حارث رؤف 11 جون 2024 کو آئی سی سی مینز ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ 2024 کے سلسلے میں کینیڈا کے خلاف میچ کے دوران (رابرٹ سیانفلون /اے ایف پی)

زخم تو زخم ہی ہوتے ہیں چاہے وہ پرانے ہوں یا تازہ۔ 50 اوور والے ورلڈ کپ کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں نئے زخم دے ڈالے۔

امریکہ اور انڈیا دونوں کے خلاف دونوں میچ ہرگز ایسے نہیں تھے جو پاکستانی ٹیم کی شکست پر ختم ہوتے لیکن ہو گئے۔ اس کا واحد سبب پاکستانی ٹیم کا انتہائی مایوس کن کھیل تھا اور پھر وہی ہوا جو ہمیشہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ آئی سی سی ایونٹس میں ہوتا ہے کہ مفروضے اور حساب کا جوڑ توڑ ساتھ نتھی ہوجاتے ہیں کہ فلاں ٹیم فلاں ٹیم کو ہرا دے، فلاں ٹیم کا میچ بارش کی نذر ہوجائے تو ہم رن ریٹ پر فلاں ٹیم سے آگے نکل جائیں۔

 پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پہلی امید تو خود اپنے آپ سے وابستہ تھی کہ وہ کینیڈا کو ہرا کر پوائنٹس ٹیبل پر اپنا کھاتہ کھولے اور یہ امید بھی پوری ہو گئی۔ اب اس نے دوسری امید آئرلینڈ سے وابستہ کر رکھی تھی کہ وہ امریکہ کو شکست دے دے کیونکہ امریکہ کی جیت پاکستانی ٹیم کو گھر کا راستہ دکھانے کے لیے کافی تھی۔

یہ تحریر مصنف کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں:

اس تمام صورت حال میں پاکستانی ٹیم کو سب سے بڑا خطرہ لاڈرہل فلوریڈا کے موسم سے تھا اور اس موسم نے اپنے ہی ملک یعنی امریکہ کا ساتھ اس طرح نبھایا کہ امریکہ اور آئرلینڈ کا میچ بارش کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا اور یوں امریکہ نے سپر ایٹ میں قدم رکھ دیے اور پاکستانی ٹیم کے لیے واپسی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

آئرلینڈ کے خلاف اس کا آخری میچ اتوار کو ہے لیکن اس میچ کی دونوں ٹیموں کے لیے کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے یہ موقع ہی کیوں دیا کہ معاملہ رن ریٹ اور اگر مگر تک آئے؟ ظاہر ہے کہ اگر اس نے امریکہ سے مایوس کن اور انڈیا سے حیران کن شکستیں نہ کھائی ہوتیں تو وہ کسی سہارے کے بغیر اپنے زورِ بازو پر ہی سپر ایٹ میں پہنچ چکی ہوتی۔

یہاں آئی سی سی کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جس نے ٹی 20 ورلڈ کپ کا شیڈول تیار کرتے وقت کیا اس بات پر توجہ نہیں دی تھی کہ وہ جن جن شہروں میں میچز کروانے جارہی ہے وہاں ان دنوں موسم کیسا ہوگا؟ آج کے جدید دور میں موسم کی مستقبل کی صورت حال آسانی سے معلوم ہوجاتی ہے لیکن آئی سی سی نے شاید اس پر توجہ ہی نہیں دی اور لاڈر ہل فلوریڈا میں ایسے موسم میں میچز رکھ دیے جو کھیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ آئی سی سی چاہتی تو اس خراب موسم کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور وہاں ہونے والے یہ تین میچز دوبارہ نیویارک یا ڈلاس منتقل کرسکتی تھی ۔

خراب موسم کی جس صورت حال کا سامنا پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہوا اگر یہی صورت حال انڈین ٹیم کے ساتھ ہوتی اور خراب موسم کی وجہ سے اس کی سپر ایٹ تک رسائی خطرے سے دوچار ہوئی ہوتی تو آئی سی سی ان میچوں کو فلوریڈا سے منتقل کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتی۔

پاکستانی ٹیم کا ٹی 20 ورلڈ کپ کا سفر ابتدا ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہا تھا۔ پہلے ورلڈ کلاس کرکٹرز کے بغیر پاکستان آنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم سے اس کی سیریز برابر رہی، پھر آئرلینڈ نے پہلی مرتبہ اسے ٹی 20 میں شکست دی اور اس کے بعد انگلینڈ نے اس کے حوصلے مزید پست کردیے۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو پاکستانی ٹیم کی سلیکشن دیکھ کر بھی توقعات سے زیادہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے جس جس کھلاڑی کے بارے میں زیادہ توقعات رکھی تھیں اور بلند دعوے کیے تھے انہی کھلاڑیوں نے سب سے زیادہ مایوس کیا۔

پاکستان سپر لیگ کو ہمیشہ ٹی 20 ٹیم کی سلیکشن کا بڑا پیمانہ سمجھا جاتا ہے لیکن اب اس سوچ کو بدلنا ہوگا کیونکہ جن بلے بازوں کو پی ایس ایل میں بڑا سکور کرنے پر قومی ٹیم میں لایا جاتا ہے وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں آکر ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل کے معیار اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہونا ہے اور اس کی تازہ ترین مثالیں اعظم خان اور عثمان خان ہیں۔

اعظم خان پی ایس ایل میں جن فاسٹ بولرز کا سامنا کرتے ہیں ظاہر ہے ان کی رفتار ان بولرز سے کم ہی ہے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کے سامنے ہوتے ہیں اور پھر یہاں کی پچز بھی باہر کی پچز سے مختلف ہیں، یہی وجہ ہے کہ اعظم خان انگلینڈ کے مارک ووڈ اور جوفرا آرچر کے سامنے ایکسپوز ہو گئے۔ یہی صورت حال عثمان خان کے ساتھ درپیش رہی۔ پی ایس ایل میں دھواں دار بیٹنگ کے بعد جب وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تو توپیں خاموش ہو گئیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے جو ٹیم سلیکٹ ہوئی اس میں چار اوپنرز شامل تھے جن میں سے فخرزمان کو بادل ناخواستہ چوتھے نمبر پر کھیلنا پڑا۔ صائم ایوب کا شو بری طرح فلاپ رہا جبکہ مڈل آرڈر بیٹنگ میں عثمان خان، اعظم خان اور افتخار احمد تینوں ہی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماضی میں ہم نے ہمیشہ سلیکشن کمیٹی سے یہی سنا ہے کہ جو بھی ٹیم سلیکٹ ہوتی ہے اس میں کپتان کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ یقیناً اس بار بھی جو بھی سلیکشن ہوا ہے وہ متفقہ ہوا ہوگا لہذا کپتان اور سلیکٹرز میں سب سے نمایاں وہاب ریاض سے یہ ضرور پوچھا جاسکتا ہے کہ آؤٹ آف فارم شاداب خان کو اسامہ میر پر ترجیح کیا صرف ان کے نام و شہرت کی وجہ سے دی گئی؟ کپتان بابراعظم سے بھی یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ابرار احمد پر آپ کے اعتماد نہ کرنے کی کیا وجہ ہے جبکہ آپ شاداب خان کو مسلسل ناکام ہونے کے باوجود کھلاتے رہے، یہاں تک کہ کینیڈا اور انڈیا کے خلاف آپ نے انہیں ایک بھی اوور نہیں دیا اور انہیں محض سپیشلسٹ بیٹسمین کے طور پر کھلایا لیکن بیٹنگ میں بھی ان کی طرف سے کوئی قابل ذکر کارکردگی نظر نہیں آئی، یہاں تک کہ امریکہ کے خلاف سپر اوور میں انہیں بھیجنے کا فیصلہ بھی حیران کن تھا۔

محمد عامر اور عماد وسیم کو ریٹائرمنٹ ختم کرکے ٹیم میں لایا گیا تھا لیکن اب یہ بات واضح نظرآرہی ہے کہ یہ دونوں اب دوبارہ فرنچائز کرکٹ کی طرف لوٹ جائیں گے کم ازکم عماد وسیم کے بارے میں تو یہ بات یقینی ہے کیونکہ جس باڈی لینگوئج کے ساتھ انہوں نے انڈیا کے خلاف بیٹنگ کی، وہ سب کے لیے حیران کن تھی کہ اس کے بعد ان کا دوبارہ سلیکشن آسان نہیں ہو گا۔

آخر میں جو سابق ٹیسٹ کرکٹرز ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر تبصرے تجزیے کررہے ہیں ان کا بھی ذکر ہوجائے۔ ان میں سے چند ہی ہیں جو کرکٹ پر بات کر رہے ہیں ورنہ بیشتر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ ان کے لہجوں میں حسد و رقابت محسوس کی جا سکتی ہے۔

ایک کو ابھی تک ٹیم سے باہر ہونے کا غصہ ہے، دوسرے کو اپنے بھائی کے باہر ہونے کا غصہ ہے، کوئی سکھ کمیونٹی کا مذاق اڑا رہا ہے تو کوئی پختونوں کے بارے میں غیرذمہ دارانہ گفتگو کررہا ہے تو کسی کو کسی کھلاڑی کی پرفارمنس میں جان بوجھ کر ہارنے کی سازش نظر آرہی ہے۔ اس تمام صورت حال میں ٹی وی چینلز کے مالکان مطمئن دکھائی دیتے ہیں کیونکہ انہیں صرف اپنی ریٹنگ اور بزنس کی فکر ہے۔ اخلاقی اقدار، ادارے کی پالیسی اور ذمہ داری تو کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر