امریکہ گرینل جیسے ’ٹرولز‘ کو نہ روکے تو دکھ ہو گا: شازیہ مری

پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینل کی جانب سے سینیٹر شیری رحمٰن کے تھنک ٹینک ادارے جناح انسٹی ٹیوٹ سمیت پاکستان کے دیگر اندرونی معاملات پر بیانات کو ’ٹرولنگ‘ قرار دیتے ہوئے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینل کی جانب سے سینیٹر اور ان کی جماعت کی رہنما شیری رحمٰن کے تھنک ٹینک ادارے جناح انسٹی ٹیوٹ سمیت پاکستان کے دیگر اندرونی معاملات پر بیانات کو ’ٹرولنگ‘ قرار دیا ہے۔

رچرڈ گرینیل رواں ماہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ برائے خصوصی مشن تعینات ہونے کے بعد سے ایکس پر کافی فعال ہیں اور انہوں نے پاکستان کے حوالے سے بھی متعدد پوسٹس کی ہیں۔ وہ ٹی وی پروگراموں میں سابق پاکستانی وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جو اگست 2023 سے مختلف مقدمات کے سلسلے میں جیل میں قید ہیں۔

اسی دوران انہوں نے پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن کے تھنک ٹینک جناح انسٹی ٹیوٹ کو دی جانے والی گرانٹ کے حوالے سے ایک ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ’بے نقاب‘ ہو گئی ہیں اور امریکہ کے ٹیکس ادا کرنے والوں کی رقم ضائع ہوگئی۔

اسی تناظر میں انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شازیہ مری نے کہا: ’آنے والی امریکی حکومت کے ایک ترجمان کی طرف سے یہ بات آئی ہے جو کہ بڑی افسوس ناک بات ہے، ہم امریکہ کو ایک اہم اتحادی سمجھتے ہیں، ہم امریکہ کی اس طور سے عزت کرتے ہیں، لیکن اگر امریکہ ہمارے معاملات میں مداخلت کرے اور ان کا کوئی نمائندہ کھڑے ہو کر پاکستان کے اندرونی معاملات، پاکستانی کے عدالتی نظام، پاکستان کے اندر انصاف کے نظام پر، ہمارے اپنے قوانین ہیں۔ آپ کے ہاں کیٹیل ہل میں جو کچھ ہوا، ہم نے تو کوئی بیان نہیں دیا، وہ آپ کا اندرونی مسئلہ تھا، آپ کو اس کو حل کرنا چاہیے، آپ کریں۔‘

شازیہ مری نے مزید کہا: ’یہ جس طرح سے یکطرفہ بات کر رہے ہیں، یہ تو ایک جماعت کا ٹرول لگ رہا ہے۔ انہوں نے اگر شیری رحمٰن پر کوئی بات کی ہے تو ایک ٹرول کی طرح کی ہے۔ اگر امریکہ اپنے ان ٹرولز کو نہیں روکے گا تو یقیناً ایک اتحادی کے طور پر ہمیں دکھ ہوگا۔‘

جس ٹویٹ کا رچرڈ گرینل نے حوالہ دیا، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جناح انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل انڈوومنٹ فار ڈیموکریسی (این ای ڈی) سے تقریباً پانچ لاکھ ڈالرز حاصل کیے، جس کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ یہ رقم انہیں کیسے ملی اور امریکیوں ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائی گئی رقم کو انہوں نے کہاں خرچ کیا۔

رچرڈ گرینل نے اپنی وزارتِ خارجہ سے جناح انسٹی ٹیوٹ کو کئی سالوں سے دی جانے والی امریکی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

جناح انسٹی ٹیوٹ کی اب تک کی کامیابی کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ ’بہت سے ممالک میں تھینک ٹینک ہوتے ہیں، واشنگٹن ڈی سی میں بھی ایک ہے۔ وہاں پاکستانی سیاست دانوں اور پاکستان سے مختلف لوگوں کو بلایا جاتا ہے، تو کیا ہم اب اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیں۔

’ہم تو کسی کو باہر سے نہیں بلاتے، ہمارے تھینک ٹینکس میں بہترین دماغ ہماری پالیسیوں پر مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ جناح انسٹی ٹیوٹ نے بھی یہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے مسائل پر پاکستانیوں نے بیٹھ کر، مل کر، سر جوڑ کر، اپنی صلاحیت، اپنے تجربے اور قابلیت کی بنا پر اس پر تجاویز دیں ہے، کام کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول شازیہ مری: ’یہ معیوب اور عجیب بات کیوں ہے ایک شخص کے لیے جس کا تعلق امریکہ سے ہے یا آنے والی امریکی انتظامیہ سے، وہ جا کر امریکی تھینک ٹینکس کو دیکھے۔ امریکہ میں بے شمار تھینک ٹینکس ہیں۔

’ہم اگر امریکہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکہ کو ایک اہم ملک، ایک اچھا اتحادی سمجھتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہمارے تعلقات قائداعظم محمد علی جناح سے چلے آ رہے ہیں۔

’اگر کوئی ان تعلقات کو سیاسی طور پر استعمال کرے تو وہ غلط اور اگر کوئی ان تعلقات کو مداخلت کے لیے استعمال کرے تو وہ بھی غلط ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی موجودہ یا جو بھی آنے والی حکومت ہے، اسے اپنے ایسے نمائندوں کے بیانات کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’مجھے تو یہ رچرڈ گرینل کی جو بھی ٹویٹس ہیں وہ ٹرول قسم کی لگ رہی ہیں۔ کیوں کہ ہم نے تو یہاں ٹرولز دیکھے ہیں، جو سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر صرف ایک غلط بیانیہ تیار کر کے اس کی تشہیر کرتے ہیں، جھوٹی خبریں دیتے ہیں۔ آپ کے پاس پی ٹی آئی کے ٹرولز کی طرف سے بے شمار جھوٹی خبریں ہوں گی اور ذی شعور لوگوں نے انہیں بار بار بے نقاب بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکہ سے بندہ پکڑ لیا ہے کہ وہ پاکستان پر بات کرے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ پی ٹی آئی ان کاموں پر متواتر لگی ہوئی ہے۔ وہ لابیز کو پیسے دے رہی ہے۔‘

انہوں نے رچرڈ گرینل کی عمران خان کی رہائی کے حق میں کی گئی ٹویٹس کے حوالے سے کہا: ’اب اگر کوئی باہر پاکستان کے لیے لابنگ کرے تو وہ بری ہے، لیکن اگر آپ کے ایشو پر کوئی لابی کر رہا ہے، عمران خان امریکن کانگریس میں بیٹھے لوگوں کو پیسے دے رہا ہے۔ عمران خان جو پیسہ اپنے ہسپتال والے اچھے کاموں کے لیے جمع کر رہا تھا وہ اس کو سیاست میں لے آیا۔ اب وہی پیسہ لابیز کو دے کر اپنی رہائی کی بات کر رہا ہے۔ اگر آپ کو رہائی چاہیے تو وہ آپ کو پاکستان کے نظام انصاف سے ملے گی۔ آپ کو پاکستان کے قانون سے ملے گی۔ آپ کو امریکہ کے دباؤ سے نہیں ملے گی، کیوں کہ امریکہ کا دباؤ پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا: ’کوئی بھی محب وطن پاکستانی، کوئی بھی ایسا پاکستانی جو اس ملک کی عزت، وقار اور سالمیت پر یقین رکھتا ہے، وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ امریکہ پاکستان کے معاملات میں آئے۔ امریکہ بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کبھی ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرے۔

’چاہے انگلینڈ ہو یا امریکہ سارے خودمختار ممالک ہیں۔ چاہے ہم ایک چھوٹا ملک ہیں، لیکن کیا چھوٹے ملک کی کوئی عزت نہیں ہے، کیا چھوٹے ملک کے لوگوں کی کوئی عزت نہیں ہے، کوئی وقار نہیں ہے۔‘

انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کے ایک نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’جب یہ کہتے تھے کہ ہم غلام نہیں ہیں، تو اب کیسے غلامی قبول کر رہے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی انٹرنیٹ تک رسائی کو قانونی شکل دینے کی حامی

انٹرویو کے دوران شازیہ مری نے پاکستان میں انٹرنیٹ کے حوالے سے درپیش مسائل پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمجھتے ہیں کہ جدید دور میں انٹرنیٹ نہ صرف نوجوانوں کے لیے بلکہ ہر فرد کی ضرورت بن گیا ہے، اس لیے انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو قانونی شکل دی جائے۔

شازیہ مری کے مطابق بلاول بھٹو سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک بنیادی آئینی حق ہے اور اس حق کو قانونی شکل دینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وہ نوجوانوں سے تجاویز لے رہے ہیں اور جلد اس حق کو قانونی شکل دینے پر کام شروع کریں گے۔

شازیہ مری نے یہ بھی بتایا کہ ’وفاقی حکومت نے فائروال، ایکس پر پابندی اور دیگر قدغنیں لگائیں، لیکن اس کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اگر پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا جاتا تو ہم بہتر مشورے دیتے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، مگر اس کا حل قدغن لگانا نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان پیپلز پارٹی جدید ٹیکنالوجی پر یقین رکھتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنایا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں میزائل ٹیکنالوجی متعارف کرائی اور فائبر آپٹیکل کیبلز بھی ان کے ہی دورِ حکومت میں لائی گئیں۔‘

حال ہی میں پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں طلبہ سے کہا تھا کہ وہ انہیں انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پر ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے تجاویز بھیجیں تاکہ وہ ان مطالبات کو اسلام آباد میں پیش کر سکیں۔

جب شازیہ مری سے پوچھا گیا کہ اب تک اس حوالے سے کیا تجاویز آئی ہیں اور ان تجاویز کو اکٹھا کرنے کا کیا طریقہ بنایا گیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’یہ ابھی ابتدا ہے، تجاویز آ رہی ہیں، جنہیں اکٹھا کرکے ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان