نو مئی واقعات: فوجی عدالتوں سے سزا کے بعد اپیل کا کیا طریقہ کار ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ ٹرائل میں خامیوں کی صورت میں کالعدم قرار دے سکتی ہیں، تاہم حالیہ فیصلوں میں ’ڈیجیٹل شہادتوں‘ کا اہم کردار ہے۔

نو مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کراچی کی ایک سڑک پر مظاہرین نے گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی (اے ایف پی)

نو مئی 2023 کے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کو رواں ماہ ہی فوجی عدالت سے سزا سنائی گئی ہے، تاہم پاکستان کے قانون کے مطابق فوجی عدالتوں سے دو تا 10 سال تک قید بامشقت کی سزا پانے والے مجرمان ان سزاؤں کے خلاف آرمی چیف، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ ٹرائل میں خامیوں کی صورت میں کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔

اگر ان فیصلوں میں جرائم ثابت کرنے کے ثبوت اور شہادتیں ناقابل تردید ہوئیں تو سزائیں برقرار رہیں گی۔ حالیہ واقعات میں سب سے اہم کردار ڈیجیٹل شہادتوں کا ہو سکتا ہے۔

نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران لاہور سمیت مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں 105 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے فوج کے حوالے کیا تھا، جن میں سے 21 دسمبر کو پہلے مرحلے میں 25 مجرمان کو مختلف مدت کے لیے قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مزید 60 کی سزاؤں کا اعلان 26 دسمبر کو کیا گیا۔

رواں برس اپریل میں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ نو مئی کے مقدمات میں 20 ملزمان کو فوجی عدالتوں نے ایک ایک برس قید بامشقت کی سزا سنائی ہے لیکن انہیں فوج کے سربراہ (آرمی چیف) کی جانب سے معافی دیے جانے کے بعد سزا کا بڑا حصہ مکمل کرنے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرموں کی اپیلیں منظور ہو سکیں گی یا نہیں؟

اس حوالے سے 26 دسمبر کو سزاؤں کا اعلان کرتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے بیان میں کہا تھا کہ تمام ملزمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام شواہد کی جانچ پڑتال، مجرموں کو قانونی حق کی یقینی فراہمی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے سزائیں سنائیں۔

تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جن کی آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کا اصولی موقف رہا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہ ہو۔‘

بیرسٹر گوہر نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جب کہ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کا جلد فیصلے کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’فوجی عدالتوں سے سنائی جانے والی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کریں گے جب کہ انفرادی طور پر بھی ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر ہوں گی۔ ملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ہم غیر آئینی سمجھتے ہیں، ملٹری ٹرائل صرف اور صرف ان لوگوں کا ہونا چاہیے جو یونیفارم میں یا ریٹائرڈ ہوں۔‘

فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو کس بنیاد پر چیلنج کیا جاسکتا ہے؟

فوجداری مقدمات کے ماہر قانون دان برہان معظم کہتے ہیں کہ ’فوجی عدالتوں میں سمری ٹرائل ہوتا ہے جو محدود مدت میں مکمل کیا جاتا ہے، اس لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے پر سقم سامنے آنے پر فیصلہ کالعدم ہو سکتا ہے۔ اگر شہادتیں اور ثبوت ناقابل تردید ہونے کی بنیاد پر فیصلے ہوں تو پھر انہیں کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

برہان معظم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے بعد انہیں تین طرح سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے آرمی چیف کے پاس اپیل کی جا سکتی ہے۔ ان کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ رحم یا فیصلے میں خامیوں کی بنیاد پر سزا ختم کر دیں۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں رِٹ کے ذریعے ان فیصلوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں عدالتوں نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا ہے، لیکن عدالتوں میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹرائل فیئر تھا یا نہیں، جس کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا ہے۔‘

برہان معظم کے بقول: ’فوجی عدالتوں میں  تفصیلی کی بجائے سمری ٹرائل ہوتا ہے جس میں پہلے ملزم کے خلاف انکوائری کی جاتی۔ شہادتیں اور ثبوت اکھٹے کیے جاتے ہیں اور مختصر عرصے میں فیصلہ سنا دیا جاتا ہے، لہذا بہت امکان ہوتا ہے کہ تفصیلی ٹرائل نہ ہونے پر خامیاں رہ جاتی ہیں۔ ان کی بنیاد پر ملزموں کو فائدہ ہوتا ہے اور فیصلہ کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔‘

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین امجد حسین شاہ کہتے ہیں کہ ’فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائیں پشاور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس وقار سیٹھ کالعدم قرار دے چکے ہیں، جو سپریم کورٹ نے عمران خان حکومت کی اپیل پر دوبارہ بحال کر دی تھیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جن افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا گیا اور انہیں سزائیں سنائی گئیں۔ ان فیصلوں کے خلاف ملزمان نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو سابق جسٹس وقار سیٹھ نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔ یہ فیصلے پاکستان نے انڈین جاسوس کلبھوشن کیس میں انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں پیش کیے تھے کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں اور فوجی دباؤ میں فیصلے نہیں کرتیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بار ایسوسی ایشن کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا، لیکن سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے قانون سازی کر کے خود اس کی اجازت فراہم کی ہے۔ سپریم کورٹ فیئر ٹرائل کے قانون 10اے کی روشنی میں ان کیسوں کو دیکھے گی۔‘

فوجی عدالتوں سے سویلینز کو پہلی بار سزائیں نہیں سنائی گئیں بلکہ اس قبل بھی سنائی جاتی رہی ہیں۔

 ڈیجیٹل شہادتوں کی قانونی حیثیت کا معاملہ

ایکس سروس مین فورم کے لیگل کنوینیئر کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے ’ڈیجیٹل شہادتوں‘ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علم میں فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے بعد چار یا پانچ ایسی مثالیں موجود ہیں، جن میں ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا آرمی چیف نے سزائیں ختم کر دیں۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق: ’نو مئی کیسوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق سب سے اہم کردار ڈیجیٹل شہادتوں کا ہے۔ فوجی عدالتوں میں بیشتر انہیں ملزمان کا ٹرائل کیا گیا جن کے خلاف ڈیجیٹل شہادتیں موجود ہیں۔ حیران کن طور پر میرے پاس نو مئی کے متعدد ملزمان کے اہل خانہ آئے تو انہوں نے خود بتایا کہ نو مئی واقعات کی وائرل ویڈیوز ملزمان نے خود بنائی تھیں۔ پھر تحریک انصاف کی جانب سے کئی ملزمان کو وکیل کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ مکافات عمل ہے، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جن 29 ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئیں۔ ان میں تین کو سزائے موت بھی دی گئی تھی۔ جبکہ وکیل کی سہولت صرف چار ملزموں کو ملی تھی۔ ان کی اپیل پر جب پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار سیٹھ نے سزاؤں کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تو پی ٹی آئی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

’اس اپیل پر سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کا فیصلہ دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ یہ سارے ملزمان آج تک جیلوں میں ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں۔‘

قانون دان برہان معظم کے خیال میں جہاں تک نو مئی کے ملزمان کو ملنے والی سزاؤں کا تعلق ہے تو اس میں سب سے اہم ڈیجیٹل شہادتوں کا کردار ہو گا۔

’اس کے بعد جو انکوائری رپورٹس بنائی گئی ہیں اور ثبوت جمع کیے گئے ان کی بنیاد پر ٹرائل ہوا تو سقم رہنے کا چانس کافی کم دکھائی دیتا ہے۔‘

برہان معظم نے کہا کہ ’نو مئی کے ان ملزمان کے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں میں کالعدم ہونے کا امکان کم ہے جن میں ڈیجیٹل شہادتیں موجود ہیں۔ لاہورہائی کورٹ نے قانون شہادت آرٹیکل 164 میں ضلع قصور میں زینب زیادتی کیس کے دوران ڈیجیٹل شہادت کو مستند تسلیم کر کے قانون کا حصہ بنایا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ڈیجیٹل شہادت کو تسلیم کرنے کے لیے 22 شرائط رکھی ہوئی ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’اس میں یہ شرط بھی ہے کہ ویڈیو بنانے والا خود شہادت دے کہ ویڈیو ریکارڈنگ اس نے کی اور ڈیوائس بھی پیش کرے۔ اسی طرح ویڈیو کے اصلی ہونے کی فرانزک رپورٹ بھی شامل ہے، لیکن ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی نو مئی کے ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں نے فیصلے سنائے ہوں گے۔ جو ویڈیوز میڈیا پر سزا پانے والے ملزمان کی شناخت کے ساتھ چلائی جا رہی ہیں، ان سے نہیں لگتا کہ ان فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر ملزمان کو کوئی ریلیف ملے گا۔‘

فوجی عدالتوں کی جانب سے دو سے 10 سال قید بامشقت سزا پانے والے مجرموں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان نیازی ایڈووکیٹ اور تحریکِ انصاف کے رہنما میاں عباد فاروق کے علاوہ دو سابق فوجی افسران بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم اور گروپ کیپٹن (ر) وقاص احمد محسن بھی شامل ہیں۔

حسان نیازی کو 10 برس، بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم کو چھ برس جبکہ عباد فاروق اور وقاص احمد محسن کو دو، دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’انصاف کا سلسلہ نو مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک جاری رہے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان