خیبر پحتونخوا پولیس نے منگل کو بتایا ہے کہ پشاور کے علاقے ہشت نگری میں بینک آف پنجاب کی کیش لے جانے والی گاڑی کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کو چند ہی گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈکیتی کا یہ واقعہ پیر کو پیش آیا تھا جہاں ملزمان نے اسلحے کی نوک پر گاڑی سے تین کروڑ 49 لاکھ سے زائد رقم لے کر فرار ہو گئے تھے۔
واردات کیسے کی گئی؟
اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کے ایک تنگ سی گلی میں داخل ہوتے ہی دو افراد الگ الگ موٹر سائیکلوں پر سوار پہلے سے اس گلی میں موجود ہوتے ہیں اور جوں ہی گاڑی گلی میں آتی ہے تو ایک ملزم ڈرائیور کی طرف جاتا ہے اور دروازہ کھولتا ہے۔
بعد میں دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ڈرائیور نے دروازہ خود کھول دیا تھا اور ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد کے مطابق ڈرائیور کا ابتدائی بیان غلط تھا کہ ان پر پستول تانا گیا تھا کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم ڈرائیور کی طرف دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہے اور دوسرا ملزم دوسرے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور گاڑی سے نقدی لے کر اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔
منصوبہ کیسے بنا اور ملزمان چند گھنٹوں میں کیسے گرفتار کیے گئے؟
اس واردات کے حوالے سے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور مسعود احمد نے منگل کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کیش وین کو لوٹنے کا منصوبہ تقریباً ایک ماہ سے بنایا گیا تھا جس میں گاڑی کا ڈرائیور اور ان کے ساتھی ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پانچویں اور 15ویں رمضان کو ملزمان نے آکر جگہ کا معائنہ بھی کیا تھا اور گذشتہ روز اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت گلی کے اندر اسلحے کی نوک پر کیش وین کو لوٹا گیا۔
مسعود احمد کے مطابق ’ڈرائیور سمیت چار ملزمان تھے اور واردات میں کیری ڈبے کا بھی استعمال کیا گیا جس کا رجسٹریشن نمبر بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں آگیا۔‘
اس واقعے کی تفتیش کے لیے مسعود احمد کے مطابق چار ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جس میں ایک سی سی ٹی وی پر، ایک ٹیم جیو فینسنگ، تیسری ریکوریز اور ایک ٹیم گھروں کے چھاپوں پر کام کر رہی تھی۔
مسعود احمد نے بتایا کہ یہ لوگ واردات کے بعد پشاور کے علاقے تہکال گئے تھے اور گرفتار ڈرائیور کی اطلاع پر پہلے ملزم عمر اور اس کے بعد عمر کی نشاندہی پر فرید اور فرید کی نشاندہی پر فہیم تک پہنچ گئے۔
ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد کے مطابق ان چار ٹیموں کی کوشش سے آٹھ گھنٹوں میں کیس کو ٹریس کیا گیا، ملزمان کو گرفتار اور تمام پیسے 100 فیصد ریکور کیے گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دیگر تین ملزمان کے ساتھ واردات میں ملوث کیش وین کے ڈرائیور فضل وہاب ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق پچھلے چھ ماہ سے اس کمپنی کے ساتھ بطور ڈرائیور نوکری کر رہے تھے لیکن تفتیش کے مطابق ڈرائیور بھرتی کرنے سے پہلے ان کی باقاعدہ جانچ نہیں ہوئی تھی۔
مسعود احمد نے بتایا کہ ’اس ڈرائیور کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ پہلے بھی ان کو دو مرتبہ دیگر جگہوں سے نوکری سے نکالا گیا ہے اور اب بھی انہیں کی ملی بگھت سے یہ کارروائی ہوئی ہے اور دیگر ملزمان میں ایک ڈرائیور کا رشتہ دار اور باقی دوست ہیں۔‘
’گاڑی نے ایس او پیز فالو نہیں کیے‘
ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد نے بتایا کہ کیشن وین نے ایس او پیز کی خلاف ورزی بھی کی تھی جس میں ایک تو ان کو تنگ گلی میں آنے کی ضرورت نہیں تھی اور ڈرائیور کو دروازہ بھی نہیں کھولنا چاہیے تھا۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے بینک کی سکیورٹی اور کیش لے جانے والی گاڑیوں کے لیے کچھ قواعد و ضواط وضع کیے ہیں تاکہ بینکوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
انہی قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی بینک کی جانب سے کیش لے جانے والی گاڑی کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کا ہونا لازمی ہے جس کا باقاعدہ ایک رجسٹرڈ سکیورٹی کمپنی سے تعلق ہونا چاہیے۔
ایس او پیز کے مطابق سکیورٹی کمپنی اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ کسی بھی گارڈ کو بھرتی کرنے سے پہلے ان کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرے اور تب ہی بھرتی کی جائے گی۔
ایس او پیز کے مطابق، ’گارڈز بھرتی کرنے سے پہلے ان کی نادرا سے ویریفیکیشن کی جائے اور یہ سکیورٹی کمپنیز کی ذمہ دادی ہوگئی کہ تصدیق کے بعد کسی بھی گارڈ کو بھرتی کیا جائے گی۔‘
ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد کے مطابق یہ معاملہ ہم بینک کے ساتھ اٹھائیں کہ کیسے وہ تصدیق کے بعد لوگوں کو بھرتی کریں اور ایس او پیز کا خیال رکھا جائے کیونکہ اس کیش وین میں رقم گاڑی کے اندر لاکر میں نہیں رکھے گئے تھے بلکہ باہر پڑے تھے۔