ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان اسلام آباد کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعرات کی شام وطن واپس روانہ ہو گئے۔ دورے کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بینکنگ، کان کنی، ریلویز اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے شعبوں میں معاہدوں اورمفاہمت کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔
پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان بینکنگ، کان کنی، ریلویز اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے شعبوں میں معاہدوں اورمفاہمت کی دستاویزات پردستخط ہوئے۔
اس ضمن میں جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید ال نہیان، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور یو اے ای کے وفد کے ارکان موجود تھے۔
اس موقع پر یو اے ای کے سید بصارشعیب اورسیکریٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے بینکنگ کے شعبے میں معاہدے کے مسودوں کا تبادلہ کیا، جب کہ علی الراشدی، سعید احمد اورفہیم حیدرنے کان کنی کے شعبے میں معاہدے کے مسودوں کا تبادلہ کیا۔
اسی طرح شادی ملک اور عامر علی بلوچ نے ریلویز کے شعبے میں مفاہمت کی دو دستاویزات کے مسودوں کا تبادلہ کیا، جب کہ کیپٹن جمال شمسی اور ندیم احمد چوہدری نے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کے ایم او یوز کے مسودوں کا تبادلہ کیا۔
متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلوں کا مشاہدہ وزیر اعظم پاکستان اور ابوظبی کے ولی عہد نے بھی کیا۔
جمعرات کی شام کو ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان اپنے وفد سمیت اسلام آباد سے یو اے ای روانہ ہو گئے۔ ایئر پورٹ پر وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا نے ان کو رخصت کیا۔
اس سے قبل ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر جمعرات کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے نور خان ایئربیس پر شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کا استقبال کیا، جب کہ ابو ظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کا ’یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتا ہے اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
بیان کے مطابق: ’اس دورے کے دوران ولی عہد شیخ خالد بن محمد پاکستان کی قیادت سے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت، تاریخی روابط کو مستحکم کرنے اور اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘
اس دورے کے دوران ’کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ طویل مدتی تعاون کے لیے موجودہ مضبوط فریم ورک کو مزید تقویت دی جا سکے۔ ان معاہدوں سے مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان اور متحدہ عرب امارات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ امنگوں پر مبنی تعلقات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔ ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری اور عوامی روابط کے مضبوط ہونے کا عکاس ہے، جو باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
گذشتہ برس مئی میں وزیراعظم شہباز شریف کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید ال نہیان نے پاکستان میں متعدد شعبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہائی کروائی تھی۔
بعدازاں ابوظبی میں پاکستان اور یو اے ای کی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری پر گول میز سیشن سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات سے قرض نہیں بلکہ مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون چاہتے ہیں جو باہمی مفاد کے لیے ہو۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی معیشت کی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے بھائیوں کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کی ہیئت کو مکمل طور پر بدل دیں گے، جوائنٹ وینچرز اور نالج شیئرنگ شراکت داری کی بنیاد پر ہم یہ کام کریں گے۔‘
بقول وزیر اعظم: ’ہمارے پروگرام کے تحت اعلیٰ سطح کی ووکیشنل ٹریننگ اور جدید ہنر سے آراستہ کرنا شامل ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل یو اے ای، ابوظبی اور دبئی میں آ کر قانونی تقاضے پورے کر کے اپنے دفاتر قائم کرے اور پاکستان سے نوجوان خدمات سرانجام دیں، جس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سپورٹ ملے۔‘