90 کی دہائی کے وسط میں ایک موسم گرما کی بات ہے۔ میں پشاور میں انگریزی اخبار ’دی نیوز انٹرنیشنل‘ سے منسلک تھا اور دوپہر کو دفتر کی لابی میں بیٹھا اخبار بینی میں مصروف تھا۔
دفتر کے مرکزی دروازے کی جانب کوئی با آواز بلند سلام کہتا ہے۔ سر اٹھا کر دیکھا تو باریش چہرے پر مسکراہٹ سجائے، سفید شلوار قمیض اور کریم کلر کی واسکٹ میں ملبوس، سر پر پگڑی اور کندھے پر دھاری دار رومال رکھے ایک شخص تیزی سے صوفوں کی طرف بڑھتا نظر آیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میرے قریب پہنچ کر وہ دبلا پتلا شخص مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے گویا ہوتا ہے: ’عبداللہ جان صاحب میرا نام حامد الحق ہے۔‘
یہ میری مولانا حامد الحق حقانی سے پہلی ملاقات تھی، جو آج ضلع نوشہرہ کے قصبے اکوڑہ خٹک میں اپنے مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں خودکش دھماکے میں جان سے چلے گئے۔
پہلی ملاقات کے بعد مولانا حامد الحق کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں، جن میں انہیں ہمیشہ نہایت ملنسار، شفیق، مرنجا مرنج، خوش گفتار اور دوستوں کا دوست پایا۔
گہری مسکراہٹ اور اکثر اوقات ایک دلفریب ہنسی ان کے چہرے پر سجی رہتی۔ ان کی شخصیت میں ایک پارے جیسی بے تابی تھی۔
میری طرح مولانا حامد الحق بھی پشتو کے علاوہ ہندکو بھی روانی سے بولتے اور سمجھتے تھے اور مجھ سے ہمیشہ ہندکو میں ہی کلام کرتے۔
ان کی عادات اور مشاغل سے بالکل بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ وہ اتنے بڑے باپ مولانا سمیع الحق کے برخوردار ہیں۔ دوستوں اور ہم عصروں کی محافل میں بیٹھتے تو ’یاروں کے یار‘ بن جاتے، جب کہ بزرگوں کے ساتھ گفتگو میں سنجیدگی اور احترام کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھتے تھے۔
صحافیوں سے تعلق اور دوستی رکھنے کی عادت شاید انہیں اپنے مرحوم والد سے ورثے میں ملی تھی۔ نوشہرہ یا اکوڑہ خٹک تو ان کا اپنا علاقہ تھا، وہ پشاور اور اسلام آباد کے صحافیوں کے ساتھ بھی اچھی سلام دعا رکھتے تھے۔
1968 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہونے والے مولانا حامد الحق، مولانا سمیع الحق کے پہلی بیوی سے سب سے بڑی اولاد تھے۔ انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے حدیث اور قرآن کریم کی تفسیر کے مضامین میں ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔
والد مولانا سمیع الحق کے 2018 میں قتل کے بعد مولانا حامد الحق مدرسہ حقانیہ کے نائب مہتمم مقرر ہوئے، جب کہ ان کے چچا مولانا انوارالحق مدرسے کے مہتمم اعلیٰ ہیں۔
2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے امیدوار کی حیثیت سے رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) کی حیثیت سے کامیاب ہوئے، تاہم انہوں نے 2007 میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مولانا حامد الحق سیاست دان ہونے کے علاوہ عالم دین بھی تھے۔ ان کا سیاسی تعلق ہمیشہ ان کے والد کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) سے ہی رہا، جس کے وہ 2018 میں کچھ عرصے کے لیے امیر بھی مقرر ہوئے تھے۔
حامد الحق حقانی نے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جب کہ ملی یکجہتی کونسل میں بھی ایک فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
گذشتہ سال انہوں نے ’مذہبی سفارت کاری‘ کے طور پاکستانی علما کے ایک وفد کی افغانستان کے دورے میں قیادت کی، جہاں انہوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
بعض ذرائع کے مطابق مولانا حامد الحق حقانی اُس پاکستانی وفد کا بھی حصہ بننے جا رہے تھے، جس نے عنقریب افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے افغانستان جانا تھا۔
وہ ہمیشہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان غلط فہمیوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے رہتے اور دونوں پڑوسی ملکوں میں موجود عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔
مولانا حامد الحق حقانی ان چند لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد دنیا اور پاکستان سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔