بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو کہا کہ اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کے نئے قرضے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔
جبکہ 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے پہلے ششماہی جائزے کی منظوری سے پاکستان کے لیے اضافی ایک ارب ڈالر کی رقم جاری ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ 28 ماہ پر محیط نیا معاہدہ پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوششوں میں معاونت کرے گا۔
اس نئے پروگرام اور قرضے کے جائزے کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے، جو عام طور پر رسمی کارروائی ہوتی ہے۔
منگل کو آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام ’بتدریج مالیاتی استحکام کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ سرکاری قرضے کو پائیدار سطح پر کم کیا جا سکے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
موجودہ 37 ماہ کے پروگرام کے دوسرے جائزے پر اصولی طور پر متفق ہونے کے ساتھ آئی ایم ایف کے مطابق سخت مالیاتی پالیسی، اخراجات میں کمی اور اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اگر یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظور ہو جاتا ہے، تو پاکستانی حکام کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے نئے فنڈز تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور موجودہ پروگرام کے تحت جاری کردہ مجموعی رقم تقریباً دو ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف کی ٹیم 24 فروری سے 14 مارچ تک پاکستان میں تھی تاکہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے اقتصادی پروگرام کے پہلے جائزے اور قرض دہندہ کی استحکام اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تحت نئے انتظام کے امکان پر بات چیت کی جا سکے۔
سٹاف لیول معاہدے کے حوالے سے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے ایک بیان میں کہا: ’گذشتہ 18 ماہ کے دوران، پاکستان نے ایک مشکل عالمی ماحول کے باوجود معاشی استحکام اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘
پاکستان 2023 میں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا، جسے آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ نے بچایا، جس کے بعد ملکی معیشت میں بحالی دیکھی گئی، مہنگائی میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔
لیکن اس معاہدے، جو 1958 کے بعد پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ 24 واں معاہدہ تھا، کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئیں، جن میں آمدنی پر ٹیکس بڑھانے اور توانائی پر سبسڈی میں کمی شامل تھی، تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 21 مارچ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو پاکستان کو جلد ہی آئی ایم ایف سے مثبت خبر ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’پاکستان متفقہ مالیاتی فریم ورک پر عمل پیرا ہے۔ ملک مالیاتی ذمہ داری پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جو قرضے کی اگلی قسط کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور آئی ایم ایف نے سات ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘
گذشتہ سال ستمبر میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی حتمی منظوری دی تھی۔ پہلے جائزے کی کامیابی کے بعد فنڈ پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس ٹرسٹ کے تحت ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی تاکہ ملک کی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
ملک کی معیشت بحالی کے ایک طویل عمل سے گزر رہی ہے جسے گذشتہ سال کے آخر میں حاصل کردہ سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت نسبتاً استحکام حاصل ہوا تھا۔