صحافی وحید مراد عدالت میں پیش، دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’کراچی کمپنی تھانے میں درخواست دی لیکن اس کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہوا، مغوی کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے۔‘

اہل خانہ کے مطابق صحافی وحید مراد کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ میں واقع ان کے گھر سے ’کالے کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد کے اغوا‘ کرنے کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

وحید مراد کو بدھ کی دوپہر جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔

صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔

وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’کراچی کمپنی تھانے میں درخواست دی لیکن اس کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہوا، مغوی کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے۔‘

وکیل ایمان مزاری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سیکرٹری داخلہ و دفاع، آئی جی اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق ’رات دو بجے سیاہ لباس میں ملبوس افراد جی ایٹ میں واقع گھر آئے، دو پولیس کی گاڑیاں بھی ان کے ساتھ نظر آ رہی تھیں۔ سیاہ میں ملبوس افراد وحید مراد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔‘

درخواست میں ’وحید مراد کو فوری بازیاب کرانے اور ’غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں‘ کے خلاف کارروائی کا حکم دیے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔

’اردو نیوز‘ سے منسلک صحافی وحید مراد کی اہلیہ شنزہ نواز نے، جو خود بھی پیشے کے اعتبار سے صحافی اور اس وقت کینیڈا میں ہیں، انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ رات دو بجے کے قریب گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ’متعدد نقاب پوش افراد آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور میرے شوہر کو کہنے لگے کہ آپ افغان ہیں، دروازہ کھولیں۔ اس دوران شور سے میری والدہ اٹھ گئیں۔‘

شنزہ کے مطابق ان کی والدہ علاج کے سلسلے میں پاکستان آئی ہوئی ہیں اور ان کے گھر پر مقیم ہیں جبکہ وہ اپنے خاندان کے پاس کینیڈا میں ہیں۔

بقول شنزہ: ’میرے شوہر نے کہا کہ کیا آپ کے ساتھ خاتون پولیس اہلکار ہیں کیونکہ ہمارے گھر میں والدہ ہیں۔‘

واقعے کے وقت گھر پر موجود شنزہ کی والدہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ان افراد نے کہا کہ آپ دروازہ کھولیں، ورنہ دروازہ توڑ کر اندر آ جائیں گے۔ جس پر وحید نے کہا کہ وہ افغان نہیں ہیں۔ میں نے انہیں (وحید کو) باہر جانے نہیں دیا۔ وحید نے دروازے کے نیچے سے ہی شناختی کارڈ سرکا دیا تاکہ انہیں بتائیں کہ وہ افغان نہیں ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شنزہ کی والدہ نے بتایا کہ ’ان افراد نے دروازہ توڑا اور کالے کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد وحید کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ یہ افراد ایک پولیس کی گاڑی اور دو ویگو ڈالوں میں آئے تھے۔‘

بقول شنزہ: ’میری والدہ دل اور جوڑوں کے درد کی مریضہ ہیں، ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور انہیں دھکے دیے گئے۔ ان سے اور وحید سے ان کا موبائل فون چھین لیا گیا، جس کے بعد انہیں باہر گاڑی میں بٹھایا اور لے کر چلے گئے جبکہ ان میں سے کچھ افراد واپس گھر  میں آئے اور اپنی ضرورت کی چیزیں اٹھا کر لے گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پولیس کو متعدد مرتبہ کال کی گئی جس کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ وحید کے دوست تھانے میں موجود ہیں اور دو گھنٹے گزرنے کے بعد کچا پرچا کاٹا گیا ہے۔‘

شنزہ نے سوال اٹھایا کہ ’اگر یہ پولیس چھاپہ تھا تو ان کے پاس وارنٹ موجود کیوں نہیں تھا؟ ان افراد نے نقاب کیا ہوا تھا۔ وحید کے جس کولیگ نے ان کا پیچھا کیا، اسے اتنا مارا گیا ہے۔ اس ملک میں کوئی کیسے رہ سکتا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’پولیس کچھ نہیں بتا رہی کہ کس نے میرے شوہر کو اٹھایا ہے۔ مجھے پتہ چلنا چاہیے کہ میرا شوہر کس کے پاس ہے اور اسے کس قانون کے تحت کون اٹھا کر لے گیا ہے۔‘

وحید مراد اس سے قبل ’نیوز ون‘ اور روزنامہ ’اوصاف‘ کے ساتھ بطور رپورٹر منسلک تھے۔ وہ ’پاکستان 24‘ کے نام سے اپنی ایک نیوز ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کافی فعال ہیں۔

جس وقت وحید مراد کو ان کے گھر سے گاڑی میں بٹھایا جا رہا تھا تو ان کے دفتر کے ایک ساتھی ثوبان راجہ یہ واقعہ دیکھ رہے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شئیر کی گئی ویڈیو میں ثوبان نے بتایا کہ ’انہیں جیسے ہی اس واقعے کا پتہ چلا تو وہ فوراً وحید کے گھر کے باہر پہنچ گئے اور واقعے کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے لگے۔‘

بعد ازاں جب گاڑیاں چلنا شروع ہوئیں تو ثوبان نے ان کا پیچھا کیا۔ ان افراد کو معلوم ہونے پر ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری گئی اور بعد ازاں ان کے موبائل فون چھین کر ان پر تشدد شروع ہو گیا۔

ویڈیو میں بتایا گیا کہ جب ثوبان نے ان افراد سے ان کی شناخت کے متعلق سوال کیا کہ وہ کون ہیں تو ان میں سے ایک فرد نے کہا: ’تمہیں نہیں پتہ ہم کون ہیں؟‘

اس معاملے پر جب انڈپینڈنٹ اردو نے اسلام آباد پولیس کے ترجمان شریف اللہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ ان کے نوٹس میں نہیں ہے۔ چیک کر کے بتا سکتا ہوں،‘ لیکن بعد ازاں انہوں نے دوسرے ترجمان کا رابطہ نمبر فراہم کر دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اسلام آباد پولیس کے دوسرے ترجمان تقی جواد سے اس معاملے کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی، تاہم اس خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان