پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نہ صرف سالانہ نو ارب روپے سے زائد فیس صارفین سے وصول کرتا ہے بلکہ حکومت اور نجی شعبے سے بھی اشتہارات کی مد میں خطیر رقم کماتا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کا سرکاری نشریاتی ادارہ خسارے میں ہے۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے پیش کر دہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے دو سالوں میں ٹیلی ویژن فیس کی مد میں 18 ارب 86 کروڑ 11 لاکھ 90 ہزار روپے وصول کیے۔
رکن قومی اسمبلی رائے حسن نواز خان کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ ٹی وی فیس بجلی کے بلوں کے ذریعے حاصل کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تفصیلات کے مطابق ٹی وی فیس کی مد میں پیپکو اور کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے 23-2022 میں نو ارب 23 کروڑ روپے اور 24-2023 میں نو ارب 63 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔
وفاقی وزیر کے جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’تمام مذہبی ادارے اور عبادت گاہیں، جیسے کہ مساجد، مندر، گردوارے اور عبادت خانے (سیناگاگ) وغیرہ ٹی وی لائسنس فیس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔‘
ایک طرف ٹی وی فیس کی مد میں اربوں روپے کی وصولی اور ساتھ ہی اشتہارات کی مد میں بھی پی ٹی وی کثیر رقم حاصل کرتا ہے، مگر اس کے باوجود ادارہ مالی خسارے کا شکار ہے اور اسی وجہ سے حال ہی میں ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
18 جنوری 2025 کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں معلوم ہوا کہ 24-2023 میں پی ٹی وی کو تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
پی ٹی وی نیوز کی مالی کارکردگی کے حوالے سے اس کمیٹی میں بتایا گیا کہ مالی سال 24-2023 کے دوران ادارے کی آمدنی متوقع ہدف سے کم رہی جبکہ اخراجات بجٹ سے تجاوز کر گئے۔ پی ٹی وی نیوز کے لیے 357 ملین روپے آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم عبوری اعداد و شمار کے مطابق یہ آمدنی صرف 200 ملین روپے رہی۔
دوسری جانب اخراجات 585 ملین روپے کے بجٹ کے مقابلے میں بڑھ کر 688 ملین روپے تک جا پہنچے۔
مزید بتایا گیا کہ اس وقت پی ٹی وی میں 95 اینکر پرسنز ملازمت کر رہے ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مالی بحران سے نمٹنے کے لیے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 23 فیصد منظور شدہ اسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزارت اطلاعات نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات کو آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی وی میں پانچ ہزار 442 منظور شدہ اسامیوں میں سے 12 سو 32 اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ادارے کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
یہ فیصلہ اُس شدید مالی دباؤ کے پیش نظر کیا گیا، جس کا سامنا سرکاری نشریاتی ادارے کو طویل عرصے سے ہے۔
اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے جنرل مینیجر میڈیا پی ٹی وی سے سوال کیا کہ عوام سے ٹی وی فیس اور اشتہارات کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود پی ٹی وی مالی بحران کا شکار کیوں ہے اور ملازمین کو برطرف کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟
جس پر انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ ’پی ٹی وی کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے بھاری ادائیگیاں کرنی پڑیں، جبکہ اس سے قبل بھی نشریاتی حقوق سے متعلق کئی ادائیگیاں کی جا چکی تھیں، جس کے باعث ادارے کو عارضی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’تاہم، اب صورت حال قابو میں ہے اور ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہیں۔‘
برطرفیوں کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ ’پی ٹی وی سے گھوسٹ ملازمین کو نکال دیا گیا ہے اور اقربا پروری کے کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت ادارے کی مالی خودمختاری کو ترجیح دے رہی ہے اور اسے ایک منافع بخش اور خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
جنرل مینیجر میڈیا نے مزید کہا کہ ’انتظامی اور مالی امور میں بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ پی ٹی وی ایک مستحکم اور پائیدار ادارے کے طور پر کام کر سکے۔‘