امریکہ نے منگل کو یوکرین اور روس کے ساتھ سمندر اور توانائی کے اہداف پر حملوں کو روکنے کے الگ الگ معاہدے کیے ہیں جبکہ واشنگٹن نے ماسکو کے خلاف کچھ پابندیاں اٹھانے پر زور دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ بحیرہ اسود کی سمندری سلامتی کے معاہدے کب اور کیسے شروع ہوں گے، لیکن یہ معاہدے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد دونوں متحارب فریقین کی طرف سے پہلے باضابطہ وعدے ہیں۔
روس کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ یوکرین سے ہٹ کر ہے جہاں واشنگٹن نے روسی زراعت اور کھاد کی برآمدات پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو روس کا دیرینہ مطالبہ ہے۔
امریکی اعلانات کے فوراً بعد کریملن نے کہا تھا کہ بحیرہ اسود کے معاہدے اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوں گے جب تک کچھ روسی بینکوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کے درمیان روابط بحال نہیں ہو جاتے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں جنگ بندی کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پابندیوں میں نرمی پر فوری طور پر عمل درآمد ضروری نہیں تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
زیلینسکی نے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’وہ پہلے ہی معاہدوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور درحقیقت وہ ہمارے ثالثوں اور پوری دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔‘
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ’ہمیں واضح ضمانتوں کی ضرورت ہوگی۔ اور صرف کیف کے ساتھ معاہدوں کے افسوسناک تجربے کو دیکھتے ہوئے، ضمانتیں صرف واشنگٹن کی طرف سے زیلینسکی اور ان کی ٹیم کو یہ حکم ہونا چاہیے کہ وہ صرف ایک کام کریں اور کچھ نہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے ان معاہدوں کے حوالے سے دو الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ ’ہر ملک نے محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے، طاقت کے استعمال کو ختم کرنے اور بحیرہ اسود میں فوجی مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا ہے۔‘
ساتھ ہی امریکہ نے یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر پابندی کے نفاذ کے طریقوں پر بھی غور کرے گا۔
دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود میں حملوں کو روکنے کے معاہدے پر اسی صورت عمل کیا جائے گا جب اس کے ذرعی شعبے پر سے پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔