پاکستان نے بھارتی ریاست تریپورہ میں انتہا پسند ہندوتوا سے منسلک بلوائیوں کی جانب سے مسلمانوں کی املاک اور مساجد کی توڑ پھوڑ پر شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جمعے کو یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب بھارت میں کئی روز سے مسلمانوں پر تشدد کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ بھارت کی ریاستی مشینری مبینہ طور پر نہ صرف مسلمانوں اور ان کی املاک کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ انہوں نے مقامی مسلم تنظیموں کی جانب سے مدد کی اپیلوں کا بھی جواب نہیں دیا۔
بیان کے مطابق: ’یہ قابل مذمت ہے کہ ہندوتوا کی علم بردار بی جے پی اور آر ایس ایس کے اتحاد کا 2002 میں گجرات سے لے کر 2020 میں نئی دہلی تک مسلمانوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا ٹریک ریکارڈ موجود ہے۔ آج کے بھارت میں اقلیتوں اور ان کی زندگی گزارنے کے انداز کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔‘
دفتر خارجہ نے آسام میں دہائیوں سے رہنے والے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ظالمانہ طور پر بے دخلی کے جاری سلسلے کی بھی مذمت کی۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ان کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود اور ان کی عبادت گاہوں اور ثقافتی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل بھارت سے رپورٹس تھیں کہ مشرقی ریاست تریپورہ میں انتہا پسند ہندو گروپوں نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف جاری تشدد کا انتقام لینے کے لیے مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان پرتشدد واقعات کے بعد بھارتی حکام نے ریاست کے انتہائی کشیدہ علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ پولیس نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے ’اشتعال انگیز پیغامات‘ کے بارے میں بھی وارننگ جاری کی۔
تریپورہ کی بنگلہ دیش کے ساتھ 850 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں اس ماہ ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کے دوران سات افراد مارے گئے تھے۔
بنگلہ دیش کے اس مندر میں ہندو تہوار کی تقریبات کے دوران ایک ہندو دیوتا کے قریب مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن رکھے جانے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش میں فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن کی آگ 12 اضلاع تک پھیل گئی۔
اے ایف پی کے مطاق بنگلہ دیش میں ہونے والے ان فسادات کا انتقام لینے کے لیے بھارت کے ہندو انتہا پسند گروپ ’وشو ہندو پریشد‘ کے سینکڑوں کارکنوں نے ریاست میں مسلمانوں کی املاک اور مساجد پر دھاوا بول دیا۔ اب تک کم از کم چار مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ہے۔
تریپورہ میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔
بھارت کی اقلیتی مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انہیں حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔