بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی متنازع علاقے کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے 1947 کے بعد پہلی بار بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شہریت کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کر رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی 'آباد کاری' جیسی حکمت عملی کے ذریعے مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کا مقصد اس مسلم اکثریتی خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔
مودی نے اب تک کشمیر میں کیا کیا ہے؟
1947 میں تقسیم کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں اور سرکاری فوج کے مابین جھڑپیں 1989 میں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھیں اور ایک اندازے کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
خطے کی 65 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے جب کہ وادی کشمیر جو جھڑپوں کا مرکز ہے وہاں یہ تناسب سو فیصد کے قریب ہے۔
گذشتہ سال 5 اگست کو وزیراعظم مودی کی حکومت نے بھارتی آئین میں ایسے آرٹیکلز کو کالعدم قرار دے دیا جنہوں نے کشمیر کو جزوی خودمختاری حیثیت دی تھی اور اسے آئین سمیت دیگر حقوق کی ضمانت دی تھی۔
اس اقدام کے بعد بھارت نے سکیورٹی کے ایک بڑے آپریشن کے لیے دسیوں ہزار اضافی دستے کشمیر بھیجے جہاں ممکنہ ردعمل روکنے کے لیے طویل لاک ڈاؤن، محاصرے اور کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئیں۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا اور مہینوں تک مواصلات کا نطام بند رکھا گیا۔
ریاست جموں و کشمیر کو دہلی کی مرکزی حکومت کے ماتحت وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا جبکہ لداخ خطے کو ایک علیحدہ انتظامی علاقے میں تشکیل دیا گیا۔
بی جے پی کی حمایت یافتہ سخت گیر ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کشمیر میں ایسے نئے اقدام کے لیے کافی عرصہ سے مہم چلا رہی تھی۔
اس کے علاوہ مودی حکومت نے شہریت کا متنازع قانون بھی متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام نے بھارت کے 20 کروڑ مسلم اقلیت کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے جنہیں ڈر ہے کہ مودی ایک ہندو ملک بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
امریکہ کی سیراکیوز یونیورسٹی منسلک ماہر بشریات مونا بھن، جنہوں نے کشمیر پر طویل عرصے سے تحقیق کی ہے، نے اے ایف پی کو بتایا: ’جو پیش رفت میں دیکھ رہی ہوں وہ ہندو آبادکاری کے منصوبے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘
کشمیر کے خصوصی قوانین کا کیا ہوا؟
مودی کی حکومت نے 1927 سے قائم کشمیر میں رہائش کے حوالے سے خصوصی قوانین کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت یہ یقینی بنایا گیا تھا کہ صرف کشمیر کے مستقل باشندے ہی زمین اور جائیداد کے مالک، سرکاری ملازمتوں اور یونیورسٹی میں داخلے کے حق دار ہوں گے اور وہ ہی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب بھارت کے کسی بھی حصے سے مخصوص لوگ کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جس سے انہیں مندرجہ بالا تمام حقوق تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔
ان میں 15 سال سے کشمیر میں مقیم افراد، پاکستان جانے ہونے والے تقریبا 28 ہزار مہاجرین، 17 لاکھ سے زیادہ دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے مزدور بھی شامل ہیں جن میں بیشتر ہندو ہیں۔
اس کے علاوہ سرکاری ملازمین جنہوں نے کشمیر میں سات سال تک کام کیا ہے اور ان کے بچے اور کچھ طلبہ بھی رہائشی حیثیت کے اہل ہیں۔
تاریخ دان اور سیاسی تجزیہ کار صدیق واحد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ تبدیلیاں 1947 کے بعد سے لگائی جانے والی انتہائی سخت ترین اقدامات ہیں۔ یہ آبادیاتی سیلاب کے دروازے کھولنے کے ارادے سے کیا گیا تھا۔‘
مقامی لوگوں کو کیا کرنا ہے؟
مقامی افراد کو بھی اب مستقل طور پر رہائشی حقوق حاصل کرنے کے لیے نئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے انہیں اپنے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) تیار کرنا ہوں گے۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک انجینئرنگ گریجویٹ نے کہا کہ روزگار کے بدلے بھارت نوجوان کشمیریوں سے ان کی سیاسی وفاداری خریدنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’بھارت کا کہنا ہے کہ آپ کو نوکری چاہیے تو پہلے ڈومیسائل دستاویز حاصل کریں۔‘