آج سے 12 سال قبل ہمیں ایک ہی ای میل پورٹل کا نام آتا تھا، جی میل۔ ہم نے اسی پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیا۔ ہم نے وہ اکاؤنٹ بہت چلایا۔ جہاں کہیں ای میل لکھنا ہوتا، ہماری انگلیاں خود بخود اسے ٹائپ کر دیتی تھیں۔ آخر کار ایک دن اس نے ہار مانتے ہوئے ہم سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔
تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ہمارا ہاتھ کیا پورے کے پورے ہم خود تھے۔ اگر ہم نے اپنے اکاؤنٹ کی حفاظت یقینی بنائی ہوتی تو وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہوتا۔ اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو ہم اسی وقت کوئی متبادل ڈھونڈ لیتے یا اکاؤنٹ میں پڑا ہوا اہم مواد ہی دوسری جگہ منتقل کر لیتے۔
انسان اپنی غلطیاں دوسروں کے کھاتے میں ڈالتا ہے۔ ہم اپنی غلطیاں نہ صرف مانتے ہیں بلکہ کبھی کبھار انہیں ٹھیک بھی کر لیتے ہیں۔ متعدد ڈیجیٹل سیفٹی ٹریننگز لینے کے باوجود ہم نے اپنے ای میل اکاؤنٹ کی ویسے حفاظت نہیں کی جیسی کرنی چاہیے تھی۔ اس کا خمیازہ ہمیں ہر دوسرے مہینے اس ای میل سے منسلک کسی نہ کسی اکاؤنٹ کی بحالی کی کوششیں کرتے ہوئے بھگتنا پڑتا ہے۔
ایسا صرف ہمارے ساتھ نہیں ہوا، بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے۔ معروف سماجی کارکن جبران ناصر تک کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا۔ آپ کا بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی سے احتیاط کر لیں ورنہ ہماری طرح بلاگ میں رونا پڑے گا۔
آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی یا لاپروائی آپ کے اکاؤنٹس کو غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے ٹریننگز میں سیکھی کچھ باتوں پر عمل کیا، اور باقیوں کو چھوڑ دیا۔
ٹریننگز سے پہلے ہمارے ہر اکاؤنٹ کا ایک ہی پاس ورڈ ہوتا تھا۔ یہ پاس ورڈ یاد کرنا آسان تھا۔ ٹریننگ میں اس کا نقصان بتایا گیا تو ہم نے اپنے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کر دیے۔ کہیں کچھ رکھ دیا تو کہیں کچھ۔ یہ کام تو ہم نے کر دیا پر اگلے ہی دن کچھ پاس ورڈ بھول گئے۔ حالانکہ ٹریننگ میں پاس ورڈ مینیجر کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ ہم اس کا استعمال کر کے اپنے تمام پاس ورڈ محفوظ رکھ سکتے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہمیں یقین ہے کہ ہمارے جیسے اور بھی لوگ ہوں گے جو اپنی ڈیجیٹل سیفٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہوں گے۔ جو پاس ورڈ ایک دفعہ بنا لیا وہ مرتے دم تک تبدیل نہیں کرتے ہوں گے۔ ہر اکاؤنٹ کے لیے وہی پاس ورڈ استعمال ہوتا ہوگا۔ پاس ورڈ بناتے ہوئے سوچ بچار بھی نہیں کی ہوگی۔ اپنی تاریخِ پیدائش، موبائل فون کا نمبر، شہر کا نام یا اپنے محبوب کا نام ہی پاس ورڈ کے طور پر رکھ لیا ہوگا۔ ایسے پاس ورڈ بنانے اور یاد رکھنے تو بہت آسان ہوتے ہیں پر وہ ہمارے اکاؤنٹس کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ ایسے پاس ورڈ آسانی سے بوجھے جا سکتے ہیں۔
ایک نجی چینل کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔ کچھ ماہ قبل اس چینل کے متعدد سوشل میڈیا پیجز کسی نے ہیک کر لیے تھے۔ ہیکرز نے پہلے ای میل ہیک کی، پھر سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کیا اور پھر چینل کے پیجز ہی اڑا لیے۔ چینل کے اندر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کا ای میل تھا اسے کچھ کہنا اپنی نوکری گنوانے کے مترادف تھا۔ حالانکہ غلطی تو ان صاحب کی ہی تھی۔ بہت کوششوں کے بعد پیجز واپس حاصل کیے گئے۔ کچھ دن بعد وہ پھر سے ہیک ہو گئے۔ تب کہیں جا کر ان صاحب کو عقل آئی اور انہوں نے ڈیجیٹل سیفٹی کے بارے میں پڑھا اور اپنے اکاؤنٹس محفوظ بنائے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اچھے پاس ورڈ کے ساتھ ساتھ ٹو فیکٹر آتھنٹی فیکیشن کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔ یہ فیچر اکاؤنٹس کی سکیورٹی پر ایک اضافی تہہ چڑھا دیتا ہے۔ پاس ورڈ لکھنے کے بعد صارف کو اپنی سم یا کوڈ جنریٹر ایپ پر ایک کوڈ موصول ہوتا ہے، اسے لکھنے کے بعد ہی صارف اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کر پاتا ہے۔ یہاں یاد رکھیں کہ آپ کے فون پر ایسا کوئی کوڈ آئے تو اسے کسی کو مت بتائیں۔ بعض ہیکرز آپ کے نمبر پر کوڈ منگوا کر آپ سے ہی اس کے بارے میں پوچھ لیتے ہیں۔ عموماً وہ ایسا آپ کے کسی جاننے والے کی مدد سے کرتے ہیں تاکہ آپ مشکوک نہ ہوں۔ جبران ناصر کے ساتھ یہی ہوا تھا۔
علاوہ ازیں، کسی کی طرف سے کوئی لنک موصول ہو تو اس پر کلک کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں۔ اگر وہ ہمارے بلاگ کا لنک نہ ہو تو اسے اپنی تسلی ہونے تک نہ کھولیں۔ ہمارے بلاگ کے لنک میں بھی انڈپینڈنٹ اردو کا ویب سائٹ ایڈریس غور سے دیکھیں۔ بعض اوقات ایک دو الفاظ کے رد و بدل کی وجہ سے ہم جعلی لنک پہچان نہیں پاتے۔ ایسے لنکس پر کلک کرنے کی صورت میں اکاؤنٹ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
ڈیجیٹک سیفٹی میں ان کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں۔ ہم نے بنیادی بتا دیں۔ باقی آپ پڑھتے جائیں اور عمل کرتے جائیں۔