سعودی سفیر کی ٹویٹ کے بعد آم ٹوئٹر پرعام ہو گیا

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی آم کو کیا سراہا کہ ٹوئٹر پر آموں کا ذکر چل پڑا۔

سعودی سفیر کی ٹویٹ پاکستانی آموں کی طرح وائرل ہو گئی اور ٹوئٹر صارفین نےمختلف تصاویر میں اپنے پسندیدہ آموں کے نام ٹویٹس کے ذریعے بھیجے( اے ایف پی)

پاکستانی آموں کی مختلف اقسام یوں تو ملک بھر میں مقبول ہیں لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانی آموں کے شیریں ذائقے اور خوشبو کا ڈنکا بج رہا ہے۔

اپنے بہترین ذائقے کی بدولت پاکستانی آموں کی مقبولیت بیرون ممالک بالخصوص عرب ممالک اور یورپ میں ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی مقبولیت کے پیش نظر پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے جمعرات کو اپنی ٹویٹ میں اردو میں پاکستانی آم کو سراہا اور لوگوں سے آموں کی اقسام اور اس کے فوائد کے بارے میں پوچھا۔

سعودی سفیر کی ٹویٹ بالکل پاکستانی آموں کی طرح وائرل ہو گئی اور ٹوئٹر صارفین نے مختلف تصاویر میں اپنے پسندیدہ آموں کے نام ٹویٹس کے ذریعے بھیجے۔

ٹوئٹر صارف احمد جان نے اپنی ٹویٹ میں چونسا آم کے حوالے سے اس کی تاریخ کا حوالا دیا اور بتایا کہ کیسے شیر شاہ سوری نے اس آم کا نام مغل دور میں رکھا۔

انور رٹول، انور راٹول یا انور راٹھول، اس نام پر جتنی بھی بحث ہو، اس کا ذائقہ لاجواب ہی رہتا ہے اور نام میں رکھا ہی کیا ہے جب اس کا ذائقہ ہی اس کی اپنی پہچان ہے۔ زبیر نامی صارف نے بھی آم کی اس قسم کی تصویر نواف بن سعید المالکی کی ٹویٹ کے جواب میں بھیجی۔

ان کی اس ٹویٹ کے بارے میں لوگوں نے جواباً کہا کہ جو تصویر انہوں نے بھیجی ہے، اصل میں یہ آم اب ملتا ہی نہیں کیوں کہ اچھا آم اب صرف برآمد کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان دنیا میں آم کی پیداوار کے حوالے سے پانچواں ملک ہے۔ اور اس سال آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجٹبل ایسوسی ایشن نے آم کے برامدات کا ہدف ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن رکھا ہے۔

فاطمہ اپنی ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ ان کے باغوں میں مدراسی سندھڑی کی پیداوار ہوتی تھی لیکن اب ان کا نام و نشان تک ان باغوں میں نہیں۔

زاہد پرویز نے اپنی بھیجی ہوئی ٹویٹ میں تقریباً ہر اس آم کی قسم  بتا ڈالی جو شاید بہت سارے لوگوں کو پتہ بھی نہیں تھی، جس میں وائٹ دیسی، باغاں والی انب، کالا دیسی، جانی کا دل اور انگت نام شامل ہیں۔

ایک اور ٹوئٹر صارف نے اپنی ٹویٹ میں ایسے آموں کے  نام بتائے جو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں دستیاب ہوتے ہیں۔ جن میں چونسا، لنگڑا، دسیری، نیلم، الفانسو وغیرہ شامل ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے آم کھانے کے فوائد بھی بتائے جس میں وٹامن سی کا حصول سر فہرست تھا۔

 

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل