پاکستانی آموں کی مختلف اقسام یوں تو ملک بھر میں مقبول ہیں لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانی آموں کے شیریں ذائقے اور خوشبو کا ڈنکا بج رہا ہے۔
اپنے بہترین ذائقے کی بدولت پاکستانی آموں کی مقبولیت بیرون ممالک بالخصوص عرب ممالک اور یورپ میں ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی مقبولیت کے پیش نظر پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے جمعرات کو اپنی ٹویٹ میں اردو میں پاکستانی آم کو سراہا اور لوگوں سے آموں کی اقسام اور اس کے فوائد کے بارے میں پوچھا۔
#پاکستاناپنے آموں کے لئے مشہور ہے ، کیوں کہ اس وقت پاکستان میں آموں کی سو سے زیادہ اقسام پیدا ہوتی ہیں ... کیا آپ ان اقسام کو جانتے ہیں؟ آموں ، ان کی اقسام اور آم کے فوائد کی تصاویر میرے ساتھ شیئر کریں۔ pic.twitter.com/KlNUVfOs8I
— نواف بن سعيد المالكي (@AmbassadorNawaf) July 8, 2021
سعودی سفیر کی ٹویٹ بالکل پاکستانی آموں کی طرح وائرل ہو گئی اور ٹوئٹر صارفین نے مختلف تصاویر میں اپنے پسندیدہ آموں کے نام ٹویٹس کے ذریعے بھیجے۔
ٹوئٹر صارف احمد جان نے اپنی ٹویٹ میں چونسا آم کے حوالے سے اس کی تاریخ کا حوالا دیا اور بتایا کہ کیسے شیر شاہ سوری نے اس آم کا نام مغل دور میں رکھا۔
CHAUNSA
— Ahmad jan Muhammad (@vip_jan) July 8, 2021
چونسا آم پوری دنیا میں برآمد ہوتا ہے۔
یہ آم اصل میں رحیم یار خان اور ملتان میں کاشت کیا گیا تھا ، لیکن اس کی علامت یہ ہے کہ اس کا موجودہ نام شیر شاہ سوری نے دیا تھا جب اس نے ہندوستان کے بہار کے ایک ضلع چوسا میں مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد pic.twitter.com/Rka92mvcmh
انور رٹول، انور راٹول یا انور راٹھول، اس نام پر جتنی بھی بحث ہو، اس کا ذائقہ لاجواب ہی رہتا ہے اور نام میں رکھا ہی کیا ہے جب اس کا ذائقہ ہی اس کی اپنی پہچان ہے۔ زبیر نامی صارف نے بھی آم کی اس قسم کی تصویر نواف بن سعید المالکی کی ٹویٹ کے جواب میں بھیجی۔
انور رتول..... pic.twitter.com/sV7ol8s0lA
— M. Zubair Nawaz (@mazin4864) July 8, 2021
ان کی اس ٹویٹ کے بارے میں لوگوں نے جواباً کہا کہ جو تصویر انہوں نے بھیجی ہے، اصل میں یہ آم اب ملتا ہی نہیں کیوں کہ اچھا آم اب صرف برآمد کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان دنیا میں آم کی پیداوار کے حوالے سے پانچواں ملک ہے۔ اور اس سال آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجٹبل ایسوسی ایشن نے آم کے برامدات کا ہدف ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن رکھا ہے۔
فاطمہ اپنی ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ ان کے باغوں میں مدراسی سندھڑی کی پیداوار ہوتی تھی لیکن اب ان کا نام و نشان تک ان باغوں میں نہیں۔
ہمارے باغوں میں مدراسی سندھڑی بتاشا ہوتے تھے پر اب باغ ہی نہیں رہے
— Fatima Bhurgri (@Fatimabhurgri99) July 8, 2021
زاہد پرویز نے اپنی بھیجی ہوئی ٹویٹ میں تقریباً ہر اس آم کی قسم بتا ڈالی جو شاید بہت سارے لوگوں کو پتہ بھی نہیں تھی، جس میں وائٹ دیسی، باغاں والی انب، کالا دیسی، جانی کا دل اور انگت نام شامل ہیں۔
— زاہد پرویز (@izahidparvaz) July 8, 2021
ایک اور ٹوئٹر صارف نے اپنی ٹویٹ میں ایسے آموں کے نام بتائے جو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں دستیاب ہوتے ہیں۔ جن میں چونسا، لنگڑا، دسیری، نیلم، الفانسو وغیرہ شامل ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے آم کھانے کے فوائد بھی بتائے جس میں وٹامن سی کا حصول سر فہرست تھا۔
2/2
— (@SonOfPakSoil) July 9, 2021
Mango is low in calories yet high in nutrients - particularly vitamin C, which aids immunity, iron absorption & growth & repair.
High in Antioxidants.
It May:
Boost Immunity, Support Heart Health, Improve Digestive Health, Support Eye Health and Improve Hair & Skin Health