پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے رواں ہفتے رضاکارانہ انخلا کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد بدھ کو ’افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز‘ اور دیگر ’غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں‘ کو سخت قانونی کارروائی کیے جانے کا انتباہ جاری کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ’غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی کیونکہ ان کے ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی۔‘
نشریاتی ادارے نے مزید کہا کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے اور اب تک وطن واپس جانے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً آٹھ لاکھ 86 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے وزیر اعظم کو ملک میں سکیورٹی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے رضاکارانہ انخلا کی مہلت پیر 31 مارچ کو ختم ہو گئی۔ تاہم، عیدالفطر کی تعطیلات کی وجہ سے افغان شہریوں کی گرفتاری اور ملک بدری 10 اپریل تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
ادھر پاکستان کی وزارت داخلہ کے حکام نے منگل کو بتایا کہ اسلام آباد سے 90 افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کے لیے طورخم سرحد پہنچا دیا گیا ہے۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’آج سے افغان سٹیزن کارڈز رکھنے والے افغان باشندے بھی غیر قانونی تصور ہوں گے۔‘
حکام کے مطابق، حکومت پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طورخم بھیجے جانے والے افغان باشندوں میں سے 77 کے پاس سٹیزن کارڈز تھے، جبکہ 13 افراد بغیر کسی قانونی دستاویز کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے۔
وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا: ’سٹیزن کارڈز رکھنے والے افغان باشندوں کی باعزت وطن واپسی یقینی بنائی جائے گی۔‘
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ملک سے 30 لاکھ افغان باشندوں کو نکالنے کا ارادہ ہے، جو اکتوبر 2023 میں شروع کیے گئے ملک گیر آپریشن کا حصہ ہے۔
اس آپریشن کا مقصد ان غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنا ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔ اس مہم پر انسانی حقوق کی تنظیموں، طالبان حکومت اور اقوام متحدہ نے شدید تنقید کی ہے۔
افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے باختر نیوز کے مطابق طالبان حکومت کے پناہ گزینوں اور ان کی وطن واپسی کے امور کے وزیر مولوی عبدالکبیر نے پڑوسی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ’افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر نہ کریں بلکہ انہیں اپنی مرضی سے واپس آنے کا موقع دیں۔‘