بیجنگ سرمائی اولمپکس شاندار تھے: پاکستانی وفد

اولمپکس میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ اور کوچ چینی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے خاصے مطمئن اور متاثر نظر آئے۔

بیجنگ میں سرمائی اولمپکس ختم ہوگئے ہیں اور اس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد نے وہاں پر کیے جانے والے انتظامات کو ’شاندار‘ قرار دیا ہے۔

پاکستانی ایتھلیٹ محمد کریم نے چینی خبر رساں ادارے شنہوا سے گفتگو میں انتظامات کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کو بہت آرام دہ محسوس کیا۔

محمد کریم کے مطابق: ’برف بہت ہی شاندار ہے۔ انہوں (چینی حکام) نے سلوپ اور برف بنائی ہے جو مجھے بہت پسند آئی، برف بنانے کا عمل شاندار ہے اور میں کہوں گا کہ یہ دنیا کی بلندیوں پر ہے اور رہائشی گاؤں بھی۔ ہر چیز بہترین ہے۔ رضاکار اور چینی عوام بہت ہی گرم جوش ہیں۔ میں نے یہاں بہت آرام دہ محسوس کیا۔‘

دوسری جانب پاکستانی وفد میں شامل کوچ محمد قمر مرزا چینی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے خاصے مطمئن اور متاثر نظر آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’ہم یہاں اس سرمائی اولمپک گیمز کا حصہ بن کر بہت پرجوش ہیں۔ میں پچھلے 18 سال سے سکیئنگ کر رہا ہوں اور بہت سی جگہوں پر گیا ہوں لیکن میں کہوں گا کہ چین میں دستیاب یہ انفراسٹرکچر بہترین ہے۔ بیجنگ اولمپکس کا انتظام بہت اچھا تھا۔ آج کل وبائی صورت حال کی وجہ سے وہ بہترین کام کر رہے ہیں۔ ایک بہت ہی شاندار کام تھا اور ہم نے گاؤں میں واقعی بہت لطف اٹھایا۔‘

چین میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم محمد وسیم عاصم نے بھی بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کو اپنی زندگی کی ’بہترین اور ناقابل فراموش یادوں‘ میں سے ایک قرار دیا ہے۔

پاکپتن پنجاب سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ محمد وسیم عاصم اس وقت چین کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک چھنگہوا یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف وہیکل اینڈ موبلٹی سے گریجویشن کررہے ہیں۔

وسیم کا کہنا تھا کہ اس طرح کی بین الاقوامی تقریب میں پرفارم کرنا کوئی آسان نہیں ہے اس لیے وہ اس میں شرکت کرکے انتہائی خوش تھے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔

ریہرسل کے حوالے سے وسیم نے بتایا: ’ہم نے گذشتہ سال اکتوبر میں ریہرسل شروع کی تھی، اگرچہ ریہرسل میں شریک افراد کا تعلق مختلف ممالک سے اور ان کا ثقافتی پس منظر بھی مختلف تھا لیکن ہمارا مقصد ایک تھا۔ اس کے علاوہ میں اپنے ڈائریکٹر سے بہت متاثر ہوا۔ نیشنل سٹیڈیم میں ریہرسل کے وقت بہت سردی اور ہوا چل رہی تھی۔ ہمارے کپڑے بہت گرم نہیں تھے، جسے دیکھ کر ڈائریکٹر نے اپنا کوٹ اتار کر مجھے پہنا دیا۔ ہمیں اپنے ڈائریکٹر کی یہ شفقت بہت اچھی لگی۔ ریہرسل کے دنوں سے میری بہت ہی حیرت انگیز یادیں وابستہ ہیں اور میں ان دنوں کو زندگی بھر نہیں بھلا سکتا۔‘

وسیم کا کہنا تھا کہ اگرچہ کرونا کی وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، لیکن چین کی جانب سے اس وبا کی موثر روک تھام اور کنٹرول نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے شیڈول کے مطابق انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستانی طالب علم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر مقام پر رضاکاروں اور وبا کے تدارک کے لیے کام کرنے والے عملے کو موجود پایا، جن میں لاجسٹک سپورٹ عملہ بھی شامل تھا۔ وہ سب اپنے مقررہ مقامات پر موجود ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ رضاکار پس پردہ کام کر رہے ہیں، لیکن ہر شخص کھیلوں کے کامیاب انعقاد میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل