امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دوسرے ممالک میں موجود سفیروں سے ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے سٹوڈنٹ یا کسی اور ویزا کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔
حکام کے مطابق اس کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو امریکہ یا اسرائیل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے یہ ہدایات ایک طویل کیبل کے ذریعے 25 مارچ کو دوسرے ممالک میں موجود سفیروں کو بھیج ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ ملک بدری کی کوششوں میں توسیع کر رہے ہیں، جن میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کی جانب سے کچھ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع کرنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کرنے کے نو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی ’شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بنیادی اصولوں‘ کے حوالے سے ’دشمنی پر مبنی رویہ‘ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر چکے ہیں جو ان کے مطابق ’یہود مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے، جس میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔
سفیروں کو بھیجے جانے والے کیبل کی معلومات رکھنے والے دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ مارکو روبیو کی ہدایات میں کہا ہے کہ ’فوری طور پر قونصلر آفیسر کو بعض طلبہ اور وزیٹر ویزا میں تبدیلی کی درخواست دینے والوں کو ’لازمی سوشل میڈیا جانچ‘ کے لیے ’فراڈ پریوینشن یونٹ‘ بھیجنا ہوگا۔‘
سفارت خانے یا قونصل خانے کے قونصلر امور کے سیکشن کا فراڈ پریوینشن یونٹ، جو ویزا جاری کرتا ہے، درخواست دہندگان کی سکریننگ میں مدد کرتا ہے۔
مارکو روبیو کے کیبل میں ان وسیع قواعد کی وضاحت کی گئی ہے جو سفارت کاروں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آیا ویزا سے انکار کرنا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی وزیر خارجہ نے 16 مارچ کو سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اپنے ملک میں ایسے لوگ نہیں چاہتے جو جرائم کا ارتکاب کریں اور ہماری قومی سلامتی یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتنا آسان ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو مہمانوں کے طور پر یہاں موجود ہیں۔ ویزا یہی ہوتا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین حامی غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ان پر حماس کی حمایت، یہود مخالف ہونے اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ بننے کے الزامات لگائے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد طلبہ اور مظاہرین کے ویزے منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر 300 سے زیادہ ویزے منسوخ کر چکی ہے۔
اس لہر کا آغاز کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ محمود خلیل کی ملک بدری کے حکم نامے سے ہوا تھا۔
وہ کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاجی تحریک میں نمایاں رہے۔