اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس میں شہبازگل کی ضمانت پر فیصلہ گذشتہ روز محفوظ کر لیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی جب کہ شہباز گل کی جانب سے ان کے وکیل برہان معظم اور پراسیکیوشن کی جانب سے وکیل رضوان عباسی نے عدالت میں دلائل دیے۔
گذشتہ روز ہونے والی سمات میں شہباز گل کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ شہباز گل معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔
شہباز گل کے وکیل برہان معظم نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’شہباز گل معافی مانگنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ حق کس طرح ملا کہ مختلف پوائنٹ اٹھا کربغاوت کا الزام لگا دیا گیا؟
’شہباز گل نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ بریگیڈیئر رینک سے نیچے والے اپنے جنرلز کی بات نہ مانیں۔ شہباز پاگل نہیں ہیں، ایسی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، شہباز گل کی گفتگو میں نوازشریف اور مریم نواز مخاطب تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وکیل برہان معظم نے مقدمے کا متن پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ آٹھ اگست کو غلام مرتضی چانڈیو کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا جس میں شہباز گل پر ادارے کے افسران میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا۔ مقدمے کے بعد بیان میں مزید پانچ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ شہباز گل نے بغاوت کروانے سے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں، ٹرانسکرپٹ کی مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔ اس سارے بیان پر کسی جگہ غلطی فہمی پیدا ہوئی ہے اور شہباز گل اس غلط فہمی کو دور کرنے پر تیار ہیں۔
شہباز گل کے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وکیل کا کہنا تھا کہ ’شہباز گل نے جو کہا وہ فوج کے خلاف نہیں تھا بلکہ ان کو بتانے کے لیے کہا تھا کہ دیکھو کیا ہو رہا ہے۔
’ہمارا مطلب تو سٹریٹیجک میڈیا سیل تھا، جس سے متعلق بیان دیا تھا، آپ کیوں ان باتوں کو اپنی طرف لے رہے ہیں، بغاوت کا کوئی ایک فقرہ تو بتایا جائے جس سے فوج میں تقسیم ہوتی ہو۔‘
عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ مقدمے کے متن میں جو الفاظ ہیں وہ کبھی کسی نے استعمال نہیں کیے۔ ’افسران کو حکم نہ ماننے کا کہہ کر ادارے میں بغاوت کی کوشش تھی، ایف آئی آر کا مواد تمام امور کو دیکھ کر لکھا گیا۔ بغاوت واضح طور پر کی گئی۔‘