ترکی زلزلہ: منہدم عمارتوں کے ٹھیکیداروں سمیت متعدد افراد گرفتار

حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ ترکی کے نائب صدر کے مطابق 113 افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

ترکی میں حکام کے مطابق زلزلے سے کم از کم چھ ہزار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں (اے ایف پی)

ترکی میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زلزلے سے جنوب مشرقی  صوبوں میں عمارتوں کی تباہی کے بعد 12 کے قریب افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

اب تک ترکی میں شدید زلزلے کے نتیجے میں گرنے والی عمارتوں کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہے جبکہ ان عمارتوں کے گرنے کے نتیجے میں 25 ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

عمارتوں کے اس طرح منہدم ہونے پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ عمارتیں انتہائی خراب معیار کی تھیں۔

ڈی ایچ اے نیوز کے مطابق جن 12 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔

حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ ہفتے کو ترکی کے نائب صدر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان عمارتوں کے گرنے کے بعد 113 افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

ترکی اور شام میں چھ فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار دو گنا سے بھی زیادہ ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام اور طبی ماہرین نے بتایا کہ ترکی میں 24,617 اور شام میں 3,574 افراد زلزلے کے نتیجے میں افراد ہلاک ہوئے۔

ہزاروں امدادی کارکن سرد موسم کے باوجود تباہ حال علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں جب کہ لاکھوں افراد اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

ادھر شام کے لیے یورپی یونین کے سفیر ڈین سٹوئینسکو نے اتوار کو کہا کہ گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے بعد ان پر شامی شہریوں کو خاطر خواہ مدد فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام لگانا مناسب نہیں ہے۔

ڈین سٹوئینسکو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک نے شام میں حکومت اور باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ریسکیو مشنز اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے 50 ملین یورو سے زیادہ امداد جمع کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’امداد فراہم نہ کرنے کا الزام لگانا بالکل غیر منصفانہ ہے جب کہ حقیقت میں ہم ایک دہائی سے مسلسل یہی کام کر رہے ہیں اور ہم زلزلے کے بحران کے دوران بھی بہت کچھ کر رہے ہیں۔‘

شام میں آنے والے زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جہاں 12 سالہ شورش سے پہلے ہی لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث شام میں کچھ امدادی کارروائیاں معطل کر دی گئیں جب کہ ترکی میں زلزلے کے بعد متاثرین کو لوٹنے یا ان سے دھوکہ دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

معجزاتی کہانیاں

تباہی اور مایوسی کے دوران بھی ملبے کے ڈھیروں سے معجزاتی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔

ترکی میں امدادی کارکنوں نے تقریباً ایک ہفتے بعد اتوار کو ایک سات ماہ کے بچے اور ایک نوعمر بچی کو ملبے سے نکال لیا۔

سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق ایک 70 سالہ خاتون کو جب  ملبے سے نکالا گیا تو ان کا پہلا سوال تھا کہ ’کیا دنیا اب تک قائم ہے؟‘

سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے کے 140 گھنٹے بعد جنوبی شہر ہاتائے سے حمزہ نامی ایک سات ماہ کے بچے کو بچایا گیا جب کہ 13 سالہ اسما سلطان کو غازی انتپ میں ملبے سے نکالا گیا۔

جنوبی ترکی میں کئی لاشیں ان کے لواحقین کے انتظار میں رکھی گئی ہیں۔

ایک شخص نے اے پی ایف کو بتایا: ’ہم نے سنا ہے کہ (حکام) ایک خاص مدت کے بعد مزید انتظار نہیں کریں گے اور وہ ان لاشوں کو دفنا دیں گے۔‘

ایک اور خاندان کپاس کے ایک کھیت میں غم میں ڈوبا ہوا نظر آیا، جسے قبرستان میں تبدیل کر کر دیا گیا جہاں لاشوں کو تدفین کے لیے پہنچا جا رہا ہے۔

’دو گنا ہلاکتیں‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا کہ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کو جنوبی ترکی پہنچنے کے بعد انہیں توقع ہے کہ اموات کی تعداد کم از کم رپورٹ ہونے والی اموات سے دوگنا ہو جائے گی۔

گریفتھس نے ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد سکائی نیوز کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ’دوگنا یا اس سے زیادہ‘ ہو گی۔

انہوں نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا: ’جلد ہی سرچ اور ریسکیو کے لیے کام کرنے والے کارکن انسانی ہمدردی کے اداروں کے لیے راستہ بنائیں گے، جن کا کام اگلے مہینوں تک متاثرہ افراد کی غیر معمولی تعداد کی دیکھ بھال کرنا ہے۔‘

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ترکی اور شام میں کم از کم 870,000 افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے۔ صرف شام میں 53 لاکھ لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ زلزلے سے تقریباً دو کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ ادارے نے صحت کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چار کروڑ 28 لاکھ ڈالر امداد کی ہنگامی اپیل کی ہے۔

عالمی ادارے نے خبردار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں درجنوں ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ترکی کی ڈیزاسٹر ایجنسی نے کہا کہ ترک تنظیموں کے 32 ہزار سے زیادہ کارکن تلاش اور بچاؤ کی کوششوں میں مصروف ہیں جب کہ آٹھ ہزار294 بین الاقوامی ریسکیور ورکرز بھی ان کے شانہ بشانہ کام میں مصروف ہیں۔

خاندانوں کی مدد اور خوراک کے لیے دسیوں ہزار رضاکاروں کے ساتھ ساتھ ترکی کے غازی انتیپ شہر میں ریستورنٹس بھی مفت کھانا تقسیم کر رہے ہیں۔

آرمینیا اور ترکی کے درمیان ایک بارڈر کراسنگ بھی 35 سالوں میں پہلی بار ہفتے کے روز کھولی گئی تاکہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں خوراک اور پانی لے جانے والے پانچ ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جا سکے۔

ترکی کے برعکس شام میں امداد پہنچنے میں سست روی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے جہاں برسوں سے جاری خانہ جنگی نے صحت کے نظام کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کے کچھ حصے باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

عالمی ادارے صحت کے سربراہ ٹیڈروس ہفتے کو ہنگامی طبی آلات سے بھرے طیارے کے ساتھ زلزلہ سے متاثرہ شامی شہر حلب پہنچے۔

انہوں نے شہر کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا اور دو بچوں سے ملاقات کی جنہوں نے زلزلے میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ٹویٹ میں لکھا: ’وہ جس تکلیف سے گزر رہے ہیں اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘

دمشق حکومت نے کہا کہ اس نے ادلب صوبے میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے کی منظوری دے دی ہے اور اتوار کو ایک قافلہ روانہ کیا جانا تھا تاہم بعد ازاں بغیر کسی وضاحت کے اس رسد کو ملتوی کر دیا گیا۔

وزارت ٹرانسپورٹ نے کہا کہ رواں ہفتے 57 امدادی طیارے شام میں اترے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ترکی اور شام کے درمیان سرحد پار امدادی مراکز کھولنے کی اجازت دے۔ شام پر بات چیت کے لیے اگلے ہفتے کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

ترکی نے کہا کہ وہ شام کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے لیے دو نئے راستے کھولنے پر کام کر رہا ہے۔

عمارتوں کے ناقص معیار کے ساتھ ساتھ ترکی میں تقریباً ایک صدی میں ہونے والی اس بدترین تباہی پر حکومت کے سست ردعمل کے خلا غم آہستہ آہستہ غصے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے میں 12,141 عمارتیں یا تو تباہ ہوئیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔

ترکی کی پولیس نے ہفتے کو جنوب مشرقی صوبوں میں منہدم ہونے والی عمارتوں کے ٹھیکیداروں سمیت 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔

جھڑپوں کی اطلاعات

متاثرہ علاقوں میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کرد عسکریت پسند اور شامی باغیوں سمیت تمام فریقوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔

آسٹریا کے فوجیوں اور جرمن امدادی کارکنوں کو ہفتے کو ترکی کے صوبے ہاتائے میں کئی گھنٹوں تک اس وقت امدادی کارروائیاں روکنا پڑیں جب مقامی گروپوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

کالعدم کردستان ورکرز پارٹی نے بحالی کے کام کو آسان بنانے کے لیے عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا