پاکستان میں بینکاری کے نگراں ادارے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے عجائب گھر کی کرنسی گیلری نہ صرف مالیاتی نظام کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ ملک کی ثقافت، تاریخ، اور معیشت کے رنگ بھی نمایاں ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مرکزی بینک کی کرنسی گیلری کا دورہ کیا جو کراچی کی ابراہیم اسماعیل (آئی آئی) چندریگر (سابق میکلوڈ) روڈ پر واقع ہے۔
سٹیٹ بینک میوزیم میں موجود جبران علی بحیثیت گائیڈ گیلری سے متعلق تمام معلومات انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم کو بتائیں۔
بارٹر سسٹم: ابتدائی دور کا معاشی نظام
جبران علی نے رہنمائی کا آغاز بارٹر سسٹم سے کیا جب پیسہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ میوزیم میں بارٹر سسٹم کو واضح کیا گیا ہے۔
انہوں کے بتایا کہ ’مرکزی ہال میں قدیم دور میں آڑہت یا بارٹر (اشیا کے عوض اشیا دینے) کے لیے استعمال ہونے والی اشیا رکھی گئی تھیں۔
جب پیسہ نہیں تھا یا کسی معاشرے میں کرنسی کا نظام موجود نہیں تھا، تو لوگوں کے درمیان لین دین کا طریقہ مختلف قسم کے طریقوں سے ہوتا تھا۔ اس دور میں معاشی سرگرمیاں بنیادی طور پر بارٹر سسٹم پر مبنی تھیں، جس میں مال کا تبادلہ مال سے کیا جاتا تھا۔
مثلاً اگر کسی کسان کے پاس اناج تھا اور کسی دوسرے شخص کے پاس کپڑے تھے، تو وہ دونوں آپس میں اناج اور کپڑے تبدیل کر لیتے تھے۔ اس سسٹم میں کسی مرکزی قیمت یا کرنسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا، بلکہ اشیا کی قدر ان کی ضرورت اور معیار پر منحصر ہوتی تھی۔
جبکہ مختلف علاقوں اور ثقافتوں میں بارٹر سسٹم اور غیر کرنسی لین دین کے طریقے مختلف تھے۔ بعض علاقوں میں جانوروں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا اور ان کا تبادلہ مال و دولت کے طور پر ہوتا تھا، جیسے کہ گھوڑے، گائیں، بکریاں وغیرہ۔
میوزیم میں سکِوں کی دو علیحدہ علیحدہ گیلریاں قائم کی گئی ہیں جن میں سے ایک گیلری میں 600 سال قبل از مسیح کے دور کے سکے رکھے گئے ہیں۔
بارٹر سسٹم کے بعد کوڑی وجود میں آئی کوڑی تاریخ میں ایک اہم اور قدیم تجارتی، ثقافتی، اور مذہبی عنصر کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ میوزیم میں موجود کوڑی دراصل ایک قسم کی چھوٹی سی مچھلی کی ہڈی یا شیل ہوتا ہے جو مخصوص جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اسے قدیم تہذیبوں میں کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
کوڑی ایک چھوٹی اکائی ہے جو عام طور پر کم قیمتی اشیا کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ بعض اوقات یہ اشیا کی قیمت کی علامت بھی ہوتی تھی۔
رتی وزن کی ایک اکائی ہے جو عموماً سونے اور قیمتی پتھروں کے وزن کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایک رتی تقریباً 121.5 ملی گرام کے برابر ہوتی ہے۔
دانہ یہ بھی ایک وزن کی اکائی ہے اور زیادہ تر سونے اور چاندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک دانہ تقریباً 1.5 گرام کے برابر ہوتا تھا۔
ماشہ بھی وزن کی ایک اکائی ہے، جو تقریباً 11.66 گرام کے برابر ہوتا ہے۔ اسے بھی خاص طور پر انتہائی قیمتی چیزوں کے وزن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
جبران علی نے بطور گائیڈ بتایا کہ ’ان یونٹس میں لین دین کا تبادلہ عموماً مختلف اشیا کی خرید و فروخت کے وقت کیا جاتا تھا۔ یہ تبادلہ اس بات پر منحصر ہوتا تھا کہ خریدوفرخت کی نوعیت کیا ہے اور اس کی قیمت کس طرح طے کی جا رہی ہے۔‘
پھر پنچ مارک برصغیر کے پہلے سکے تھے جو کوائن گیلری میں موجود ہیں ساتھ ہی اور 2000 سال پہلے اوائلی ادوار میں استعمال ہونے والے تانبے اور چاندی کے سکے، غیر معمولی کانسی کے سکوں کے علاوہ سکندر اعظم، کشان، گپتا اور ہندو شاہی کے ادوار میں استعمال ہونے والے سکے بھی رکھے گئے ہیں۔
اسلامک کوائن گیلری
اسلامک کوائن گیلیری میں مختلف تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے اسلامی سکے جمع کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد اسلامی تاریخ اور ثقافت کو فروغ دینا اور عوام کو اسلامی سکے اور ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
مغلیہ سلطنت کے دور اور عثمانی دور کے سکے مختلف قسم کے چاندی اور سونے کے سکے جاری ہوئے تھے۔ سکے کے ایک طرف کلمہ اور دوسرے طرف مغل شہنشاہوں کے نام لکھے جاتے تھے۔
’مغل دور کی واحد خاتون (نور جہاں) جن کے نام کا سکہ چلتا تھا‘
شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں نور جہاں کے نام کا سکہ جاری کیا گیا۔ نور جہاں کے سکے پاکستان کے سکے کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ نور جہاں، جو مغل شہنشاہ جہانگیر کی زوجہ تھیں، ان کے سکوں کا دور 1605 سے 1627 تک کا ہے۔ اور یہ مغل سلطنت کے عروج کے دور کی نشاندہی کرتے ہیں۔
جبران علی بتاتے ہیں کہ ’نور جہاں کے سکوں کی خصوصیت یہ تھی کہ ان پر ان کا نام اور ان کے چہرے کی تصویر درج ہوتی تھی، جو اس وقت کی غیر معمولی بات تھی۔ اس دور میں خواتین کو عام طور پر سکے کی ضرب میں شامل نہیں کیا جاتا تھا، لیکن نور جہاں نے اس روایت کو توڑا۔‘
میوزیم میں ترکی کے جاری کردہ سونے کے سکہ کی کاپی بھی بھی رکھی گئی ہے کس کے درمیان میں حضور صلئ اللہ علیہ وسلم کی مہر کا نشان موجود ہے۔ جبکہ کوائن گیلیری میں حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ یادگاری سکے بھی رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے سول ایوارڈ اور عالمی میڈلز سمیت نشان حیدر پاکستان کو بھی رکھا گیا ہے۔
اس کے بعد پیسے کا ارتقا مزید ترقی کرتا گیا اور کاغذی نوٹ، بینکنگ سسٹم اور جدید کرنسی کی شکلوں میں اس کی تبدیلی ہوئی جو آج کے دور میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ کرنسی بن چکے ہیں۔
اس سارے عمل میں معاشی ضروریات، تجارت کی سہولت اور حکومتوں کی مداخلت نے اہم کردار ادا کیا۔
’کرنسی نوٹ کا دور، جب نوٹ پر انڈیا اور پاکستان کا نام ایک ساتھ لکھا جاتا تھا۔‘
سٹیٹ بینک کی کرنسی گیلری میں آپ کو ان نوٹوں کے مختلف نمونے مل سکتے ہیں جو 1947 کے بعد استعمال ہونے والے تھے اور ان نوٹوں کی اہمیت تاریخی لحاظ سے بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ پاکستان کے کرنسی نظام کے ابتدائی دنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان بننے سے قبل ریزرو بینک آف انڈیا وہ کرنسی نوٹ چھاپتا تھا جو انڈیا اور پاکستان دونوں میں استعمال ہوتے تھے۔
پاکستان کی آزادی تک پاکستان کے پاس نوٹ چھاپنے کا نظام موجود نہیں تھا تو پاکستان کے لیے نوٹ بھی انڈیا کا ریزرو بینک جاری کرتا تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے نوٹوں پر حکومت پاکستان اور حکومت انڈیا کا نام 1947 کی تقسیم کے بعد یکجا طور پر شائع کیا گیا تھا، جب تک دونوں ممالک نے اپنے کرنسی نوٹس کا مکمل الگ انتظام نہیں کر لیا تھا۔
یہ عمومی طور پر اس وقت کے حالات کے مطابق تھا جب دونوں ممالک کی کرنسی کا انتظام ملتا جلتا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان کرنسی کے تبادلے اور استعمال میں مشکلات پیدا نہیں ہوئیں۔
تاہم اس دور میں سب سے بڑا نوٹ 100 کا ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کے مرکزی بینک یعنی سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے کرنسی نوٹ جاری کیے۔
جبران علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس وقت کے ریزرو بینک آف انڈیا کے نوٹوں میں پاکستان کے صوبوں یا علاقوں کے ناموں کا ذکر نہیں ہوتا تھا، مگر ان نوٹوں کی پشت پر پاکستان کا چھوٹا سا ذکر 1947 کے بعد آنا شروع ہوا۔ یہ نوٹ پاکستان بننے کے کچھ عرصے تک گردش کرتے رہے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی کرنسی گیلری میں ان نوٹوں کو یادگار کے طور پر رکھا ہے۔
1948 میں پاکستان نے اپنے نوٹس انگلینڈ کی کمپنی سے پرنٹ کروائے اور پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن جو کہ موجودہ پاکستان کے نوٹ پرنٹ کرتا ہے 1949 میں قائم ہوا اور 1952 سے پاکستان نے اپنی پرنٹنگ کا آغاز خود کیا۔‘
بقول جبران علی اور میوزیم میں تحریر کردہ معلومات کے مطابق: ’آذادی کے 10 سال بعد 1957 میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر 100 روپے کے نوٹ پر شائع کی گئی۔‘
حج نوٹ
سٹیٹ بینک حاجیوں کے لیے الگ سے نوٹ جاری کرتا تھا۔
حج نوٹ شائع کرنے کا مقصد عام طور پر اس کا مقصد عازمین کو گمراہی سے بچانا اور انہیں ان کے سفر کی تیاری میں مدد دینا ہوتا ہے اور یہ سلسلہ 1980 تک جاری رہا۔
میوزیم میں اس وقت 2006 میں جاری کردہ نوٹ بھی موجود ہے جو دور حاضر کا سب سے بڑا نواٹ ہے۔
مستقبل کی کرنسی: جدید سکیورٹی فیچرز
گورنر سٹیٹ بینک نے 27 جنوری کو کراچی میں نئی مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نئے نوٹ مرحلہ وار پرنٹ کیے جائیں گے اور یہ نوٹ تکنیکی ویلیوایشن کے بعد جلد ہی کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ ایک ساتھ نہیں بلکہ بتدریج مارکیٹ میں آئیں گے۔‘
اسی حوالے سے مرکزی بینک کے ترجمان نور احمد نے انڈپیینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’سٹیٹ بینک آف پاکستان نے موجودہ کرنسی کی تمام ڈینومینیشنز کے لیے نئے بینک نوٹ سیریز کے ڈیزائن اور جاری کرنے کے عمل کا آغاز گذشتہ سال کر دیا تھا۔
’چونکہ یہ بہت لمبا مرحلہ ہوتا ہے ایک نئی بینک نوٹ سیریز کے آغاز میں 2 سے 3 سال لگتے ہیں، تو اس میں وقت لگ سکتا ہے تاہم مرکزی بینکوں کے لیے یہ ایک قائم شدہ رسم ہے کہ وہ ہر 15 سے 20 سال بعد نئی بینک نوٹ سیریز متعارف کرائیں تاکہ بینک نوٹوں کی سالمیت کو محفوظ رکھا جا سکے اور ان کو بینک نوٹوں کے ڈیزائن اور سکیورٹی خصوصیات میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
’تاہم مرکزی بینک اس عمل کو رواں سال کے اندر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کرنسی نوٹوں کی نئی سیریز متعارف کرانے کا مقصد نئے نوٹوں میں جدید سکیورٹی فیچرز متعارف کرانا ہے۔‘