’ہمارا بجٹ تو روزانہ بدلتا ہے:‘ عوام کی بجٹ سے توقعات

مہنگائی نے پاکستان کے پانچ بڑے شہروں کو کیسے متاثر کر رکھا ہے؟ ان شہروں کے مختلف طبقات کو ماہانہ اخراجات کی مد میں کم از کم کتنی رقم درکار ہوتی ہے اور آنے والے بجٹ سے انہیں کیا توقعات ہیں؟

بجٹ کی آمد آمد ہے اور اس سلسلے میں معاشی ماہرین اور کاروباری طبقہ مختلف قسم کے تخمینے اور اندازے لگا رہا ہے، مگر عام عوام اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف طبقوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کر کے ان کے رائے جانی۔

نجی کمپنی کی ملازمہ ناز: اسلام آباد

ہر روز اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ پہلے جو مہینے کا بجٹ بنتا تھا اب ہر روز بنتا ہے کیونکہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ آج آٹا کتنا ہے اور اگلے روز کتنا ہو گا۔

چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے تعلیمی اخراجات، صحت اور دیگر اخراجات کے لیے اسلام آباد جیسے شہر میں ایک لاکھ روپے بھی بہت کم ہیں، کیونکہ یہاں پر بہت مہنگائی ہے۔

ہر بجٹ میں یہ ہوتا ہے کہ ورکنگ ویمن کے میک اپ کو مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ میری تو پہلی توقع یہی ہو گی کہ میک اپ پر ٹیکس کم لگائیں۔

بھٹہ مزدور واجد علی، مستونگ

ویسے تو آمدنی جتنی بھی ہو پوری نہیں پڑتی لیکن یہ ہے کہ روز کے ہزار، 12 سو روپے بن جائیں اور مہینے میں چھ سات ہزار کم بھی ہو جائیں تو گزارہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں روز کی روز مزدوری نہیں ملتی۔

ہمیں اینٹوں کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔ کبھی 700 کبھی 800 روپے بنتے ہیں۔ ایک ہفتے کے پانچ سے چھ ہزار روپے بن جاتے ہیں۔ کچھ رقم قرضے کی مد میں کٹ جاتی ہے اور باقی ہمیں ملتی ہے۔

ہماری نئے بجٹ سے توقع یہی ہے کہ ہمارا ریٹ بڑھایا جائے کہ ہمارا خرچہ پورا ہو۔ ابھی ہمیں ایک ہزار یا 11 سو روپے تک ریٹ مل رہا ہے۔ مہنگائی زیادہ ہو گئی ہے۔ 15 یا 16 سو روپے ریٹ ہو تو ہمارا گزارہ بھی ہو اور بھٹہ مالکان کا قرضہ بھی ہم اتار سکیں۔‘

گھریلو ملازمہ بلقیس: لاہور

مہینے کی 40 سے 50 ہزار روپے آمدن ہوتی ہے۔ اسی میں ہم گزارہ کرتے ہیں۔ مکان کا کرایہ دیتے ہیں۔ بجلی گیس کا بل دیتے ہیں۔ 20 سے 25 ہزار روپے تو کرائے اور بلوں کی مد میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔ جو 15 سے 20 ہزار روپے بچتے ہیں اس کا سودا لے آتے ہیں۔ جیسے لاتے ہیں ویسے ہی کھا لیتے ہیں۔ مہینے بھر کا سودا اکٹھے نہیں لا سکتے۔

رکشہ ڈرائیور کبیر احمد: کراچی

میں اپنے گھر کا بجٹ کام پر جانے کے بعد بناتا ہوں۔ گھر پر جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کچھ پکایا ہے کہ نہیں۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں باہر سے کچھ لے آتا ہوں کچھ نہ ہو تو کوئی چٹنی وغیرہ بنا کر کھا لیتے ہیں۔

اس طرح ہمارا بجٹ بنتا ہے اور روز بنتا ہے۔ ہمارا مہینے کا خرچہ دو والدین، دو بچے اور خود کو ملا کر چھ افراد۔ پھر بجلی کا بل اور کرایہ ملا کر تقریباً 60 سے 65 ہزار روپے ہونے چاہییں تو گزارہ ہو جاتا ہے۔ آنے والے بجٹ سے تو مجھے کوئی توقع نہیں ہے۔ کیونکہ جو بجٹ آ رہا ہے وہ سب گذشتہ سے پیوستہ ہے۔ آنے والے بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہو گا۔ الٹا مزید مہنگائی ہو جائے گی۔

دکاندار شاہ نواز: پشاور

مثال کے طور پر اگر ہم ایک لاکھ یا 50 ہزار روپے مہینے کا کماتے ہیں تو اسے بڑے طریقے سے تقسیم کر کے خرچ کرتے ہیں تاکہ ہمارا مہینہ گزر جائے۔ گاڑی ہے، بچوں کی فیس ہے، گھر کے کرائے، بجلی گیس کے بل۔

یہ سب بڑے طریقے سے دیکھتے ہیں۔ آنے والے بجٹ سے توقعات کا کیا کہہ سکتے ہیں؟ ہر سال ہم کہتے ہیں کہ اچھا بجٹ آئے گا لیکن امیر طبقہ امیر سے امیر تر اور مڈل کلاس اور اس سے نیچے والے متاثر ہو رہے ہیں۔

کھانے پینے کی تو ہر چیز سستی ہونی چاہیے۔

جو لگژری اشیا ہیں وہ تو مہنگی بھی ہوں تو جس نے لینی ہے وہ لے گا۔ لیکن جو کھانے پینے کی اشیا ہیں اس سے غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے۔

اچھا بجٹ کیا ہوتا ہے؟ معاشی ماہرین کی رائے

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر شبیر منشا نے نامہ نگار امر گرڑو کو بتایا کہ ’اچھا بجٹ وہ ہوتا ہے جس سے عوام کو فائدہ ہو اور کاروبار پھل پھول سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اچھا بجٹ وہ ہوتا ہے جو وقتی فائدہ دینے کے بجائے طویل مدت کے لیے فائدہ مند ہو۔ دہائیوں سے یہ چلن رہا ہے کہ ہر سال دو سال بعد پالیسی میں تبدیلی کی جاتی ہے جس کے باعث کاروبار جس طرح سے پھلنا پھولنا چاہیے اس طرح نہیں پھلتا پھولتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس وقت حکومت کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ بیلنس آف ٹریڈ اور بیلنس آف پیمنٹ کا بڑا مسئلہ ہے۔ ڈالر کی قلت ہے اور بیرون ممالک کو ادائیگی ڈالرز میں کی جاتی ہے، اس لیے ہماری درآمدات اور صنعتوں کے لیے مشکل حالات ہیں۔‘

شبیر منشا کے مطابق ’سب اچھے بجٹ کی امید کرتے ہیں مگر یہ الیکشن کا سال ہے، حکومت کو کچھ وقت بعد الیکشن کرانے ہوں گے، بڑے چیلینجز ہیں، حکومت کے پاس فسکل سپیس نہیں ہے کہ ٹریڈ اور صنعت کو زیادہ گنجائش مل سکے۔‘

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ نے تجویز کیا کہ ’موجودہ  معاشی حالات میں سب سے پہلے حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔‘

ظفر پراچہ نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’پاکستان اس وقت سالانہ 17.4 ارب ڈالر کا فائدہ اشرافیہ کو دیتا ہے، وہ فوری طور پر بند کیا جائے۔‘

’اگر بند نہ بھی کیا جائے تو اس کو 50 فیصد کم کیا جائے۔ اگر یہ 50 فیصد کم کیا جائے گا تو مزید قرضہ نہیں لیا جائے گا اور گذشتہ قرضے اور ان کے سود کی ادائیگی میں آسانی ہو گی۔‘

معاشی تجزیہ کار اور بینک آف پنجاب کے چیف اکانومسٹ سید صائم علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ بجٹ بہت ہی مشکل حالات میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران معشیت میں صفر گروتھ رہی جب کہ مہنگائی 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔‘

بقول سید صائم علی ’ان حالات میں اچھا بجٹ وہ ہو گا جس سے لوگوں کو اس معیشت پر اعتماد آئے تاکہ معیشت میں سرمایہ کاری کی جا سکے، گروتھ ریٹ بڑھے، ملازمت کے نئے مواقع مل سکیں اور مہنگائی کم ہو سکے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت