خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں ایک تحقیق کے مطابق 90 فیصد سے زائد ریڑھی بان کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس میں 61 فیصد سے زائد شادی شدہ اور گھرانہ اوسط سات افراد پر مشتمل ہے۔
یہ تحقیق نیشنل انفلوئنسر نامی ادارے نے کی ہے جو رواں سال مارچ میں سوشل سائنس ریویو نامی جریدے میں شائع ہوئی۔
اس تحقیق کے دوران پشاور میں کام کرنے والے 100 ریڑھی بان، 20 پولیس اہلکار، چار اسسٹنٹ کمشنرز، دو ڈپٹی کمشنرز، آٹھ ٹریفک پولیس اہلکار، 10 سماجی کارکنان اور 30 عام لوگوں سے سروے کے ذریعے مختلف سوالات پوچھے گئے۔
تحقیقی مقالے کے مطابق پاکستان میں 40 لاکھ سے زائد افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ڈیڑھ لاکھ افراد ریڑھی بان ہیں جو چھ لاکھ تک افراد کے لیے ذریعہ معاش ہے اور ان کے لیے کماتے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق ریڑھی بانی کی صنعت نے پاکستان میں دو کروڑ افراد کو برسرروزگار کیا ہے اور سالانہ ریڑھی بانوں کی کمائی 900 ارب سے زائد ہیں۔
سروے کے نتائج کے مطابق 60 فیصد تک ریڑھی بان نے 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ 33 فیصد نے میٹرک اور 10 فیصد تک ریڑھی بانوں کے پاس بیچلرز کی ڈگری ہے۔
تحقیقی مقالے کے مطابق ریڑھی بانوں میں 80 فیصد ایسے ہیں جن کے پاس اپنی ریڑھی کا سٹال موجود ہے اور مجموعی طور پر تقریباً 50 فیصد ریڑھی بان سڑک کنارے مختلف اشیا بیچتے ہیں۔
اس سروے رپورٹ کے مطابق ریڑھی بانوں میں 60 فیصد چھ سے آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں جس میں 50 فیصد تک ریڑھی بان روزانہ 1500 روپے تک کماتے ہیں جو ماہانہ 45 ہزار روپے بنتے ہیں جبکہ 10 فیصد تک ایسے ہیں جو روزانہ 1500 روپے سے زیادہ کماتے ہیں۔
ریڑھی بانوں کے چیلنجز
تحقیقی مقالے کے مطابق ریڑھی بانوں میں 60 فیصد سے زائد افراد کو کسی نہ کسی وقت اپنی جگہ سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیق کے مطابق اس کی بڑی وجہ تجاوزات ہیں۔
زیادہ تر ریڑھی بان سڑک کنارے یا راستوں میں سٹال لگاتے ہیں جس سے راستہ بند ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے انتظامیہ کی طرف سے ان کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سروے کے دوران 61 فیصد سے زائد ریڑھی بانوں میں بھی یہی وجہ بتائی کہ انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ مختص جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
قدرت اللہ پشاور کے گلبرگ علاقے میں فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں اور ان کے مطابق اخراجات زیادہ اور کمائی کم ہے۔
چیلنجز کے بارے میں قدرت اللہ کا کہنا تھا کہ اس میں صداقت ہے کہ ’ہمیں باقاعدہ جگہ نہ ملنے کی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
قدرت اللہ نے بتایا کہ ’حکومت کی طرف سے ہمارے لیے باقاعدہ ایک قانون سازی کرنی چاہیے جس میں ہمارے حقوق کا تحفظ ہوں۔‘
اس تحقیقی مقالے کے لکھاری محمد سلیمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریڑھی بانوں یا سٹریٹ وینڈرز کو درپیش چیلنجز کی بڑی وجہ ’قانون کی عدم موجودگی‘ ہے۔
سلیمان نے بتایا کہ ’حکومت اس بات کو یقنی بنائے کہ ہر ایک شہر میں سٹریٹ وینڈرز کے لیے مخصوص زون ہوں جس میں وہ با عزت طریقے سے اپنا روزگار کر سکیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس سٹڈی میں ہم نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ حکومت ریڑھی بانوں کے لیے وینڈنگ کونسلز بنائے تاکہ ان کو کسی قسم کی شکایت کی صورت میں متعلقہ کونسل جانا پڑے۔