سٹاف لیول معاہدوں کے بعد پاکستان کے لیے 2.3 ارب ڈالر: آئی ایم ایف

آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت 2.3 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی، جس کے لیے سٹاف لیول معاہدے طے پا چکے ہیں۔

ایک خاتون 11 مارچ 2022 کو واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت کے قریب سے گزر رہی ہے (اے ایف پی)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 2.3 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی، جس کے لیے سٹاف لیول معاہدے طے پا چکے ہیں۔

آئی ایم ایف کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے واشنگٹن میں جمعرات (27 مارچ) کو ایک میڈیا بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ25  ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت  پروگرام کی منظوری دی تھی، جو 37 ماہ پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 25 مارچ 2025 کو اس پروگرام کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ طے پایا، جبکہ اسی دن ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی پر بھی ایک اور سٹاف لیول معاہدہ مکمل ہوا۔

جولی کوزیک کے مطابق توسیعی فنڈ سہولت  کے تحت آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک  ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔ اسی طرح ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت1.3  ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جو مختلف اقساط میں تقسیم ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ مالی معاونت پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس کی استعداد کو بڑھانے میں مدد دے گی۔ فنڈز کے اجرا کا حتمی شیڈول آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا۔

ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف کی ٹیم 24 فروری سے 14 مارچ تک پاکستان میں تھی تاکہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے اقتصادی پروگرام کے پہلے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت نئے انتظام کے امکان پر بات چیت کی جا سکے۔

جس کے بعد 25 مارچ کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایم ایف نے کہا کہ اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کے نئے قرضے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے پہلے ششماہی جائزے کی منظوری سے پاکستان کے لیے اضافی ایک ارب ڈالر کی رقم جاری ہو سکتی ہے۔

 آئی ایم ایف نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 28 ماہ پر محیط نیا معاہدہ پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوششوں میں معاونت کرے گا۔

پاکستان 2023 میں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا، جسے آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ نے بچایا، جس کے بعد ملکی معیشت میں بحالی دیکھی گئی، مہنگائی میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔

لیکن اس معاہدے، جو 1958 کے بعد پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ 24 واں معاہدہ تھا، کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئیں، جن میں آمدنی پر ٹیکس بڑھانے اور توانائی پر سبسڈی میں کمی شامل تھی، تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت