’پولیسنگ کے ہر شعبے میں کام کا شوق:‘ عائشہ بٹ کے لیے عالمی ایوارڈ

گجرانوالہ کی چیف ٹریفک آفیسر ایس پی عائشہ بٹ کو انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ویمن پولیس نے Excellence in Performance Award 2025 کے لیے منتخب کیا ہے۔

ایس پی عائشہ بٹ کے مطابق انہوں نے روڈ سیفٹی کے حوالے سے کافی کام کیا ہے (پنجاب پولیس)

’میرے احساسات اس وقت ایسے ہیں جو آپ کسی سے بیان نہیں کر پاتے، عید کے موقعے پر ای میل آئی تو خوشی دوگنی ہو گئی۔‘

یہ کہنا ہے گجرانوالہ کی چیف ٹریفک آفیسر ایس پی عائشہ بٹ کا، جنہیں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ویمن پولیس نے ’Excellence in Performance Award‘ 2025 کے لیے منتخب کیا ہے۔

عائشہ بٹ نے بتایا کہ اس ایوارڈ کے لیے مختلف زمروں میں عالمی سطح پر نامزدگیاں آتی ہیں۔ ’کوئی فرد اپنے طور پر خود کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کروا سکتا بلکہ ہر ملک اپنے لوگوں کو نامزد کرتا ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس ایوارڈ کے لیے ایک معیار ہوتا ہے، جس میں مختلف بینچ مارکس رکھے جاتے ہیں، جیسے کہ کام کی نوعیت، کارکردگی اور اس کے معاشرے پر اثرات۔

’کسی ایک ملک سے تو لوگ نامزد نہیں ہوتے بلکہ مختلف ممالک سے امیدوار آتے ہیں۔ اس کے بعد ایک جیوری ان میں سے منتخب کرتی ہے کہ کن افراد کو ایوارڈ دیا جائے گا۔‘

عائشہ بٹ کے مطابق انہیں یہ ایوارڈ بہترین کارکردگی کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جس میں یہ زمرہ تھا کہ کوئی بے مثال کام کیا ہو، کریمینل ٹریسنگ کی ہو یا روڈ سیفٹی کے حوالے سے کام کیا ہو تو روڈ سیفٹی کے حوالے سے میں پاکستان کی پہلی چیف ٹریفک آفیسر تھی، میرے بعد اور خواتین بھی آئیں۔

’میں نے روڈ سیفٹی کے حوالے سے کافی کام کیا جس میں میں نے لائسنسنگ کو بہتر کیا اور ٹریفک سے متعلقہ اقدامات کیے اور اس میں خواتین کے لیے بہت کام کیا جس کی گراؤنڈ چیکنگ ہوئی، اس کی بنیاد پر مجھے ایوارڈ دیا گیا۔‘جس میں خاص طور پر بے مثال کام، کریمینل ٹریسنگ یا روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرا تعلق گجرانوالہ سے ہے، جہاں خواتین کے لیے ڈرائیونگ سیکھنا بھی ایک غیر معمولی تصور تھا۔ ہم نے اس حوالے سے نہ صرف کام کیا بلکہ خواتین کے لیے مخصوص سکوٹی سینٹرز بھی قائم کیے، جہاں انہیں موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔‘

مستقبل کے حوالے سے ایس پی عائشہ بٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے کمانڈر پر منحصر ہوگا کہ انہیں کس فیلڈ میں بھیجا جائے، چاہے وہ جرائم کی نشاندہی ہو یا ان سے نمٹنے کا کوئی اور شعبہ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے پولیسنگ کے ہر شعبے میں کام کرنے کا شوق ہے۔ میں کسی مخصوص ڈیوٹی کی خواہش نہیں رکھتی، بلکہ جو بھی ذمہ داری ملے، اسے پوری لگن اور محنت سے انجام دینا چاہتی ہوں۔

’میرا یقین ہے کہ جب آپ ایک بار اس شعبے میں آ جاتے ہیں، تو آپ کو اپنا نام بنانا ہوتا ہے۔‘

ایس پی عائشہ بٹ کو رواں برس ستمبر میں گلاسگو، سکاٹ لینڈ میں منعقد ہونے والی 62ویں سالانہ کانفرنس میں اس عالمی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ ایوارڈ ہر سال دنیا بھر سے ایک خاتون پولیس افسر کو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ایس پی عائشہ بٹ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی تمام پولیس افسران، بالخصوص خواتین افسران کے لیے باعثِ فخر ہے۔

واضح رہے اس سے قبل لاہور سیف سٹی اتھارٹی کی آفیسر ایس ایس پی رفعت بخاری کو بھی یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین