کوئٹہ میں ہونے والے 34ویں نیشنل گیمز میں فیصل آباد کی عروج زاہد نے والی بال میں بہترین سپائیکر کا ایوارڈ حاصل کیا ہے، جبکہ ان کی قیادت میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی والی بال ٹیم نے کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔
جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم یہ طالبہ نیشنل گیمز میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دستے کا حصہ تھیں۔
یونیورسٹی کی طالبات ملیحہ سلیم، مناہل جبیں اور اقصی صدیق بھی والی بال میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والی ایچ ای سی کی ٹیم میں شامل تھیں۔
عروج زاہد کو یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے تین سال سخت محنت کرنی پڑی ان کا کہنا ہے کہ: ’ہمارے کوچز نے ہمیں یونیورسٹی کے اندر اتنی اچھی سہولیات مہیا کیں اور ہم نے بھی دن رات محنت کی اور یہ اس محنت کا نتیجہ ہے کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی والی بال ٹیم کی قیادت کر چکی ہیں اور اب ان کی خواہش ہے کہ وہ عالمی مقابلوں میں پاکستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کریں۔
’الحمد اللہ میری فیملی بھی مجھے بہت سپورٹ کرتی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے ہر کھیل میں کسی بھی شہر میں ہو مجھے مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے وہ کھیلوں میں حصہ نہیں لیتی تھیں لیکن ڈپارٹمنٹ ہیڈ اور کوچز کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے والی بال کھیلنے کا آغاز کیا اور اب وہ ’بیسٹ سپائیکر‘ کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔
نیشنل گیمز سے کامیابیاں سیمٹ کر آنے والی کھلاڑیوں کے اعزاز میں جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کی طرف سے گذشتہ دنوں ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔
اس موقع پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے کہا کہ طالبات کو سپورٹس کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کے لیے یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں پانچ ایکٹر زمین سپورٹس کمپلیکس کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔