رعنا انصار: ٹیوشن سے سندھ کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر بننے تک

سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کی نگران وزیر اعلیٰ، مردم شماری اور اپنے سیاسی سفر پر انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو۔

سندھ اسمبلی میں بدھ کو ایک تاریخ رقم ہوئی جب سپیکر آغا سراج درانی نے رعنا انصار کو صوبائی اسمبلی کی پہلی خاتون قائد حزب اختلاف بننے پر مبارک باد دی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین کی حمایت سے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی درخواست جمع کروائی تھی۔

متحدہ اپوزیشن نے رعنا انصار کو اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کیا تھا جو آخر کار قائد حزب اختلاف بن گئیں۔

رعنا انصار  نے اپنی کامیابی کے بعد انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ اب ہر شعبے میں خواتین اپنا لوہا منوا رہی ہیں، بس موقع ملنا چاہیے۔  

’میں خواتین کے حق میں 18 بل لے کر آئی، تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ میرے ذہن میں 18 بل آئے کیسے۔ 18 بل لانا بہت بڑی بات ہوتی ہے اور وہ بھی پیش ہو جائیں تو بس یہی عورت کی طاقت ہے کہ اسے موقع ملتا ہے تو وہ ہر محاذ پر فتح پاتی ہے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق حیدرآباد کے ایک چھوٹے سے علاقے سے ہے۔ ’ابتدا میں، میں ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی۔ میرے علاقے کی خواتین نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ کو الیکشن لڑنا چاہیے۔ مجھےکونسلر کے لفظ کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔‘ 

رعنا انصار کے مطابق چونکہ وہ مخصوص نشست کی بجائے عام الیکشن لڑ رہی تھیں جس میں مردوں کو بھی ووٹ دینا تھا تو ذہن میں یہ سوچ آئی کہ پتہ نہیں وہ ووٹ دیں گے یا نہیں۔

’لیکن دیکھیں بہت خوش قسمتی کی بات ہے الیکشن ہوا تو مجھے ووٹ ملے۔‘ یوں وہ یونین کونسل کی رکن بنیں جس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اس کے بعد رعنا حیدرآباد میونسپل اور پھر ضلعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ پہلے وہ غیر جماعتی بنیاد پر رکن بنیں لیکن پھر انھوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کر لی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی واحد خاتون ہیں، جنہوں نے تینوں درجے مکمل کیے یعنی یونین کونسل، ٹاؤن کونسل اور ڈسٹرکٹ کاؤنسل۔

رعنا انصار کے مطابق انہوں نے جب سیاسی سفر شروع کیا تو کافی مشکلات آئیں لیکن ان کے شوہر اور اہل خانہ کی حمایت حاصل رہی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں ایم کیو ایم پر فخر ہے جس نے انہیں اسمبلی تک پہنچایا۔

’میں نے اس ایوان کو صرف باہر سے دیکھا ہوا تھا۔  نہ میرے والدین اور نہ کوئی اور بڑی سیاسی فیملی تھی، پارٹی نے مجھے یہ اعزاز دے کر یہاں پہنچایا۔

’میری پارٹی  نے خواتین کو سیاست میں آگے بڑھایا۔ کبھی سندھ میں نہیں سنا ہو گا کہ ایک عورت بہت سی چیزوں کو لے کر چلے گی، کام کرے گی، بطور اپوزیشن لیڈر بحث کرے گی، مقدمہ لڑے گی۔‘

سندھ اسمبلی کی مدت اگست میں پوری ہونے جا رہی ہے اور رعنا انصار کو اپنا نیا کردار ادا کرنے کا بہت کم وقت ملا ہے۔

 

اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ کچھ دن بہت اہم ہیں۔ ’میرے لیے آٹھ گھنٹے بھی بہت ہیں۔ اگر میں یہ سوچوں کہ میرے پاس آٹھ دن ہیں تو میں سوچ ہی نہیں سکتی، پل پل ہر چیز تبدیل ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ ابھی انہیں اپوزیشن لیڈر بنے ہوئے محض 24 گھنٹے ہوئے ہیں۔

’میں چاہتی ہوں کوئی سیاسی شخص نگران وزیر اعلیٰ نہ ہو، نگران وزیر اعلیٰ آزاد ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مردم شماری پر ایم کیو ایم کے اعتراضات پر کہا کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ان کو کم گنا گیا ہے۔

’عورتوں کو تو گنا ہی نہیں گیا۔ تین کروڑ کے شہر کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ دکھا دیں تو اس کا مطلب ہے، دریا کوزے میں بند کیا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان شفاف مردم شماری چاہتی ہے۔ ’ہمارے اعتراضات دور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

رعنا انصار کون ہیں؟

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی رعنا انصار 17 اگست، 1966 کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد میں حاصل کی اور سندھ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

رعنا نے 1980 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا شمار حیدر آباد کی سرگرم سیاسی کارکنان میں کیا جاتا ہے۔

وہ 2005 سے 2010 تک حیدر آباد کے بلدیاتی نظام کا حصہ رہیں۔ 2013 میں ایم کیو ایم نے انہیں خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی منتخب کرایا۔

2018 میں وہ ایک بار پھر خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئیں۔

28 نومبر 2022 کو ایم کیو ایم کی پالیمارنی کمیٹی نے انہیں اپنا پارلیمارنی لیڈر مقرر کیا، جس کے بعد 26 جولائی 2023 کو انہیں سندھ کی پہلی اپوزیشن لیڈر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین