انڈین سپریم کورٹ نے بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ریپ سے متعلق ایک کیس میں 17 مارچ کے حکم نامے کو ’مکمل بے حسی‘ قرار دیتے ہوئے اس پر حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی کم عمر لڑکی کے سینے کو پکڑنا اور ازاربند کھینچ کر پاجامہ نیچے کرنے کی کوشش کرنا ایسے حقائق نہیں ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ ملزمان ریپ کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے۔
اس حکم نامے پر منگل کو انڈین سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور اسے بدھ (26 مارچ) کو جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی میں قائم بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بینچ نے 17 مارچ کے حکم نامے سے متعلق ریمارکس دیے: ’عام حالات میں، ہم اس مرحلے پر حکم امتناع کی اجازت دینے میں سست ہیں، لیکن چونکہ (حکم نامے) کے پیراگراف 21، 24 اور 26 میں نظر آنے والے مشاہدات قانون سے بالکل ناواقف ہیں اور مکمل طور پر غیر حساس اور غیر انسانی نقطہ نظر کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے ہم ان مشاہدات پر حکم امتناع لگا رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
الہ آباد ہائی کورٹ کے اس متنازع حکم کے حوالے سے سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں لکھا گیا تھا اور اس سے جج کے ’ذہن کے کام کرنے کے طریقے‘ کا اندازہ ہوتا ہے۔
17 مارچ کا متنازع حکم نامہ کیا تھا؟
اپنے 17 مارچ کے حکم میں، جو ملزمان کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں لگائے گئے ریپ کے الزام کو چیلنج کرنے کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا، الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس رام منوہر نرائن مشرا نے استغاثہ کا بیان دہرایا کہ دو ملزمان نے ایک 11 سالہ لڑکی کا سینہ پکڑا، اس کے پاجامے کا ازار بند توڑا اور اسے ایک پل کے نیچے گھسیٹنے کی کوشش کی، مگر راہ گیروں کے دیکھ لینے پر وہ فرار ہو گئے۔
جسٹس مشرا نے کہا کہ یہ حقائق ان دفعات کے تحت سمن جاری کرنے کے لیے کافی نہیں جو تعزیرات انڈیا (آئی پی سی) کی دفعہ 376 (ریپ) اور دفعہ 511 (ایسے جرائم کی کوشش جن میں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہو) سے متعلق ہیں، یا جنہیں بچوں کے جنسی استحصال سے تحفظ سے متعلق قانون (POCSO Act) کی دفعہ 18 کے ساتھ پڑھا جائے، جس کے تحت کسی جرم کی کوشش پر سزا دی جاتی ہے۔
سنگل جج پر مشتمل بینچ نے سمن کے حکم کو ’سوچ سمجھ کر اور مقدمے کے حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد‘ تبدیل کیا اور لکھا کیا کہ ’ملزمان کے خلاف ریپ کی کوشش کا ابتدائی طور پر کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔‘
17 مارچ کے حکم میں کہا گیا کہ ’اس کی بجائے، ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 354 بی یعنی کسی عورت پر حملہ یا اس کے ساتھ بدتمیزی، جس کا مقصد اسے برہنہ کرنا یا اس کے کپڑے اتروانا ہو، کے تحت معمولی الزام کے لیے سمن جاری کیا جانا چاہیے اور POCSO Act کی دفعہ نو، جو کسی بچی کے ساتھ سنگین جنسی زیادتی پر سزا دیتی ہے، کا اطلاق ہونا چاہیے۔‘