دو افغان بہنوں نے نو سال قبل اپنے خاندان کی خواہشات اور معاشرتی روایات کے خلاف نہ صرف گانا بلکہ عوامی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ یہ یہاں تک نہیں رکیں بلکہ انہوں نے اپنے گیتوں کی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کرنے جیسی بغاوت بھی کی۔
گانا اور ناچنا افغانستان کے انتہائی قدامت پسند معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے لیے کافی حد تک ممنوع ہے۔ ایک مقامی عدالت نے سابق حکومت کے دور میں اس جوڑے کی ہلکی سرزنش کی، لیکن انہیں روکا نہیں۔
خوشی مہتاب، جو اب 32 سال کی ہیں اور اس کی 28 سالہ چھوٹی بہن عاصمہ عیار تمام تر مزاحمت کے باوجود مقامی شوز میں پرفارم اور اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی رہیں۔ انہوں نے انتہائی کم عرصے میں خاصی مقبولیت حاصل کر لی۔
لیکن قسمت نے کچھ زیادہ یاوری نہیں کی۔ جس تیزی سے وہ افغانستان میں شہرت پا رہی تھی اسی تیزی سے دو برس قبل افغان طالبان نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کے گرنے کے بعد ملک پر 15 اگست 2021 کو مکمل قبضہ کر لیا۔
چند دن قبل انٹرویو کے لیے اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ پہنچے تو عاصمہ کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ان سے بات نہ ہوسکی۔ اپنے شوق اور جنون کو جاری نہ رکھ سکنے کی وجہ سے یہ بہنیں ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دیتیں۔
دوسرے دن عاصمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اچانک سب کچھ کیسے ختم ہو گیا۔ ’اگلے دن ہم نے طالبان کو کابل کی سڑکوں پر مسلح گشت کرتے دیکھا۔ ہم نے اپنے موسیقی کے آلات کو چھپانے کی کوشش کی۔ کابل پر قبضے کے تیسرے دن طالبان نے ہمارے دروازے پر دستک دی اور میرے 18 سالہ بھائی کو پکڑ لیا۔ انہوں نے ہمارے بھائی سے مطالبہ کیا کہ بہنوں سے کہو کہ گانے بجانے سے توبہ کر لیں۔‘
ان کے بھائی نے بتایا کہ مشران کی مداخلت پر انہیں رہا کیا گیا۔
افغان طالبان موسیقی کو مذہبی اعتبار سے حرام قرار دیتے ہیں۔ افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی باختر کی طرف سے جولائی 2023 کو جاری ایک خبرکے مطابق طالبان کی مذہبی پولیس نے مغربی صوبے ہرات میں مبینہ طور پر موسیقی کے متعدد آلات جلا دیے گئے۔
خبر کے مطابق افغان وزارت برائے ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ کے صوبائی سربراہ شیخ عزیزالرحمٰن نے کہا کہ موسیقی ’نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرے کی تباہی‘ کا باعث بنتی ہے۔
طالبان نے 1990 کی دہائی میں جب پہلی مرتبہ افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد موسیقی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
افغان طالبان کی جانب سے حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام رائج ہے اور ہر بات شریعت کے زاویہ نگاہ سے دیکھی اور واضح کی جاتی ہے۔ ’امارت اسلامیہ اسلامی شریعت کے فریم ورک کے اندر اپنی قوم کی خدمت کرے گی۔ ملک کی آبادی اور خوشحالی کے لیے کام کرے گی۔‘
خوشی مہتاب نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں افراتفری میں اپنے خاندان سے الگ ہوگئی اور فرار ہونے کے لیے ہوائی اڈے پہنچ گئی۔ اس دوران طالبان کے ایک محافظ نے مجھے روکا اور اپنی بندوق کا بیرل میرے ماتھے پر رکھ دیا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میں ایک گلوکارہ ہوں، جو طالبان کے اعتبار سے گناہ گار ہے اور یہ لوگ مجھے گولی ضرور مار دیں گے۔‘
لیکن خوشی کی خوش قسمتی کہ وہ طالب کسی دوسرے شخص سے الجھ گیا۔ ’میں ایئرپورٹ کی طرف بھاگی لیکن انخلا کی کوئی پرواز پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔‘
دونوں بہنوں نے بعد میں چار ماہ تک مزار شریف میں روپوشی کی زندگی گزاری اور بلاآخر بھائی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ راستوں سے اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ ایک طورخم جبکہ دوسری چمن، بلوچستان کے دشوار 20 گھنٹوں پر محیط طویل سفر کے بعد قدرے محفوظ مقام پر پہنچی ہیں۔ وہ اس شہر اقتدار کے ایک کونے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں دن گن رہی ہیں۔ فلیٹ میں ان کا ہارمونیم آج کل ایک کونے پر پڑا دھول کھا رہا ہے۔
ان افغان گلوکاراؤں کو شکایت ہے کہ دنیا نے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ ’ہمیں موسیقی کے انتخاب کی وجہ سے ہمارے خاندانی حلقے سے نکال دیا تھا۔ ایک مقامی عدالت نے طالبان کی آمد سے قبل ہمیں گانے کا حق دیا لیکن خاندان اور طالبان کی مخالفت کی وجہ سے ہمیں اپنے آلات پھینکنے پڑ گئے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کہ ہم نے اپنے خواب کھڑکی سے باہر پھینک دیے ہوں۔‘
ان بہنوں نے مدد کے لیے ملک میں اپنے جاننے والے ہر شخص سے بات کی لیکن مزید خطرات ہی ملے۔
عاصمہ نے بتایا نے بتایا کہ ’ایک موقع پر ایک پاکستانی لڑکی نے ہمیں پناہ دینے کی پیشکش کی، جسے ہم نے قبول کر لیا لیکن ہم سمجھ گئے کہ وہ جنسی کارکنوں کے طور پر ہمارا استحصال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے ہم وہاں سے بھی فرار ہو گئے۔‘
ڈراؤنے خواب اور افسردگی
ان کے 20 سالہ بھائی قیس عیار نے کہا کہ عاصمہ جب سے اپنے ملک سے فرار ہوئی ہیں انہیں سونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ’اسے ہر وقت ڈراؤنے خواب جگاتے رہتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ انہیں اور ان کی بہنوں کو پاکستانی سرحدی پولیس نے دو بار سرحد پر واپس کر دیا تھا۔
قیس نے کہا کہ ان کی بہنیں ان تلخ تجربات سے اس قدر صدمے کا شکار ہوئی ہیں کہ اب وہ دونوں اینٹی ڈپریسنٹس ادویات لے رہی ہیں۔
خوشی مہتاب نے کہا کہ ’میں ایک ڈاکٹر کے پاس گئی اور ان سے فیس نہ لینے کی التجا کی۔ میں ان کی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے دوا دی ہے۔‘
عاصمہ نے کہا کہ میں اس نے اپنی زندگی گلوکاری کے فن کے لیے وقف کر دی لیکن بدلے میں اس نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ ’پہلے مجھے میرے خاندان نے میرے شوق سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی، پھر 2021 میں مجھے طالبان نے اپنے وطن سے جلاوطنی پر مجبور کیا۔۔۔۔ اب میرے اور میری بہن کے لیے زندگی بے معنی ہو گئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کب تک زندہ رہوں گی۔‘
انہیں امریکہ سے بھی گلہ ہے کہ اس نے 20 سال تک ان کی مدد کی لیکن آخر کار ’ہمیں اور میرے ملک کو طالبان کے حوالے کر دیا۔‘
اس کی بڑی بہن نے کہا کہ ’طالبان ہماری موجودہ ذہنی حالت کے ذمہ دار ہیں۔ مجھے نہیں معلوم میں کب اپنے شوق کو دوبارہ شروع کرسکوں گی۔‘