متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوری لیکن شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کی خواہش مند ہے۔
اتوار کو سینیئر رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال سمیت دیگر کے ہمراہ کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی نے کہا: ’ایم کیو ایم فوری انتخابات کی خواہش مند ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’لیکن انتخابات ہونے کی بڑی شرط یہ ہے کہ وہ صاف، شفاف، غیر جانبدار اور سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہییں۔‘
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا: ’یہ کون سے لوگ ہیں جو نئی مردم شماری کے بعد بھی پرانی حلقہ بندیوں پر زور دے رہے ہیں، تاکہ مصنوعی نمائندگی کو سندھ پر دوبارہ مسلط کیا جائے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم کے اس مطالبے کو مانا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد، جس میں کئی کروڑ ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے، انہیں حق نمائندگی سے محروم نہ رکھا جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے ایک بار پھر کہا: ’ہم جلد سے جلد لیکن شفاف اور غیر جانبدار الیکشن چاہتے ہیں۔۔۔اگر (الیکشن کے انعقاد میں) ہفتوں اور مہینوں کا فرق پڑ بھی رہا ہے تو یہ خسارے کا سودا نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ جب الیکشن کمیشن نے مردم شماری کو حتمی کیا تھا تو کہا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے لیے 90 دن درکار ہں، ان سے پوچھا جائے کہ اب وہ اس سے معذوری کا اظہار کیوں کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 17 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ملک میں انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں گے جن کا حتمی اعلان رواں سال دسمبر میں کیا جائے گا۔
اس سے قبل گذشتہ ماہ سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ آئندہ الیکشن پرانی مردم شماری کے تحت ہوں گے کیونکہ نئی مردم شماری میں مسائل ہیں اور اس نئی مردم شماری سے ایم کیو ایم سب سے زیادہ غیر مطمئن ہے، تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے کہا تھا کہ اسے الیکشن پرانی مردم شماری کے تحت قبول نہیں ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وہ 28 اگست کو ہونے والے الیکشن کمیشن کے مشاورتی اجلاس میں ضرور شرکت کریں گے اور وہاں اپنا موقف پیش کریں گے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں نے بجلی کے بلوں میں اضافے پر کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والے احتجاج پر بھی عوام کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت وقت نے کوئی حل نہ نکالا تو پھر احتجاج کرنے والے عوام اور تاجروں کی حمایت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔‘
دوسری جانب فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملک بہت تیزی سے انتشار کی طرف جا رہا ہے۔ اس وقت بجلی کے نرخوں میں جتنا اضافہ ہوا ہے، وہ نچلے طبقے کی پہنچ سے باہر نکل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عوام اب باغی ہوتے جا رہے ہیں، معاشرہ سول نافرمانی کی طرف جا رہا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو پھر اس ریاست میں کئی ریاستیں بنیں گی۔‘