سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیض آباد دھرنے سے متعلق بدھ کو سماعت جاری رہی جبکہ نگران وفاقی حکومت نے تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔
فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی کی نو درخواستیں واپس لینے کے باعث انہیں خارج کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بدھ کو درخواستوں پر سماعت کی۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا اور کمیشن کے ٹی او آرز بھی عدالت میں پڑھ کر سنائے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’کمیشن جسے بلائے اور وہ نہ آئے تو کمیشن اسے گرفتار بھی کروا سکتا ہے۔ ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظرثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت، یہ ٹی او آرز ایک ہفتے میں شامل کر لیں گے۔‘
عدالت نے اٹارنی جنرل کی جانب سے نوٹیفیکیشن پیش کرنے پر ریمارکس دیے کہ ’فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، اس وقت کے سابق وزیراعظم اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بلانے کا بھی اختیار ہو گا۔ طلبی پر پیش نہ ہونے کا اختیار بھی کمیشن کے پاس ہو گا۔‘
اس سے قبل گذشتہ سماعت پر عدالت نے حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کر دی تھی اور اٹارنی جنرل کو جلد نیا انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی اخترعلی شاہ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا ہے۔ تین رکنی کمیشن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور ایڈشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے گزٹ نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل ہیں۔ یہ انکوائری کمیشن قیام کے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔‘
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزارت دفاع میں سے کسی کو کمیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اس کمیشن سے تعاون کرنے کی پابند ہیں، کمیشن کو مزید وقت درکار ہوا تو وفاقی حکومت وجوہات ریکارڈ کر کے مزید وقت دے گی۔
انکوائری کمیشن کے مندرجات
حکومتی نوٹفیکیشن کے مطابق ’انکوائری کمیشن تحریک لبیک پاکستان کی غیرقانونی مالی امداد کرنے والوں کی تحقیقات، فیض آباد دھرنے کے حق میں بیان اور فتوی دینے والوں کے خلاف ایکشن کی تجویز، پیمرا کے خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز اور براڈ کاسٹرز کے خلاف تحقیقات کرے گا۔‘
نوٹیفیکیشن کے مطابق ’کمیشن میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت اور تشدد پھیلانے کی جانچ اور اس سے بچاؤ کی تجاویز دے گا، انکوائری کمیشن تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا۔‘
کمیشن یہ بھی تعین کرے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں، سرکاری ملازم یا کون سے اشخاص فیض آباد دھرنے میں ملوث ہیں۔ انکوائری کمیشن فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن تجویزکرے گا اور کمیشن پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھرنوں، ریلیوں اور احتجاج سے نمٹنے کی تجاویز دے گا۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیشن نفرت اور انتہاپسندی پھیلانے والوں کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فریم ورک تجویز کرے گا۔ کمیشن انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’تمام ایگزیکٹواتھارٹیز، وفاقی و صوبائی حکومتیں کمیشن کی ہر ممکن معاونت کریں گی، انکوائری کمیشن اسلام آباد میں اپنا سیکرٹریٹ قائم کر کے سیکرٹری مقرر کرنے کے لیے بااختیار ہے، انکوائری کمیشن کے سیکرٹریٹ اور سیکرٹری کا خرچ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی، نوٹی فکیشن کے فوری بعد انکوائری کمیشن تحقیقات کا آغازکرے گا۔‘
بدھ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ’سابق چیئرمین پیمرا نے اس وقت آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بتایا تھا کہ یہ کمیشن اس معاملے سے ڈیل کرنے کے قابل ہے؟‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ کمیشن آنکھوں میں دھول بھی بن سکتا ہے اور نیا ٹرینڈ بھی بنا سکتا ہے، پیمرا حکومت اور اداروں کو ڈیوٹی بتائی تھی لیکن وہ نظرثانی میں آ گئے تھے، یہ ہم صرف اپنے تحفظات بتا رہے ہیں۔‘
سابق چئیرمین پیمرا جو کمرہ عدالت میں موجود تھے انہوں نے کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ ’کیا کمیشن دو ریٹائرڈ افسران، سابق ڈی جی آئی ایس آئی، چیف جسٹس یا وزیر اعظم کو بلا سکیں گے؟ اس پر شک ہے۔‘
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کے شک کی بنیاد کیا ہے؟ آپ دو ماہ بعد کمیشن کا کام دیکھ کر جو کہنا ہوا کہہ سکتے ہیں، ابھی کمیشن نے کام شروع نہیں کیا تو شک کیسے ظاہر کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے خدشات غلط ثابت ہوں۔‘
ابصار عالم نے جواباً کہا کہ ’میں اس ملک کی تاریخ کی بنیاد پر شک ظاہر کر رہا ہوں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جسے سچ نکلوانا ہوتا ہے وہ نکلوا لیتا ہے، سچ نکلوانا ہو تو تفتیشی افسر بھی نکلوا لیتا ہے، سچ نہ نکالنا ہو تو آئی جی بھی نہیں نکلوا سکتا۔‘
’چار سال سے ہمارے سامنے کچھ نہیں آیا، 60 دن کے اندر کمیشن کی رپورٹ آئے گی اسے ہم دیکھ لیں گے۔‘
حکم نامے میں لکھوایا گیا کہ ’کسی کو استثنیٰ نہیں سب کو کمیشن بلا سکتا ہے، کمیشن ابصار عالم کے نام لیے گئے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے۔‘
ابصار عالم کے تخفظات پر جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت کسی کو بھی بلا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے بھی پوچھا کہ کوئی استثنیٰ تو نہیں دیا کہ کمیشن کسی کو نہیں بلا سکتا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں وضاحت کی کہ ’کمیشن سب کو بلا سکتا ہے، کوئی استثنیٰ نہیں دیا گیا۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
فیض آباد دھرنا کیس کیا تھا؟
الیکشن بل 2017 کے حلف نامے کے الفاظ تبدیل کرنے پر مذہبی جماعت تحریک لبیک نے دھرنے کا اعلان کیا تھا جو 22 روز جاری رہا اس کے بعد وزارت داخلہ، ضلعی انتظامیہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید (اس وقت ڈی جی سی میجر جنرل فیض حمید) کے دستخط سے تصفیہ نامہ منظر عام پر آیا اور دھرنا ختم ہوا۔ چھ سال قبل 21 نومبر 2017 میں سپریم کورٹ نے فیض آباد میں جاری دھرنا پر ازخود نوٹس لیا۔
کیس ایک برس چلتا رہا اور 22 نومبر 2018 کو سپریم کورٹ نے فیصلہ مخفوظ کیا جو چھ فروری 2019 کو سنایا گیا۔
فیصلے کے اہم نکات:
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے 43 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا تھا کہ 'سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ حکومت کا کوئی بھی ادارہ یا ایجنسی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کرے۔
• 'کوئی شخص جو فتویٰ جاری کرے جس سے ' کسی دوسرے کو نقصان یا اس کے راستے میں مشکل ہو' تو پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور/ یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ایسے شخص کے خلاف ضرور مجرمانہ مقدمہ چلایا جائے۔'
• 'الیکشن کمیشن آف پاکستان قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
• آئی ایس آئی، آئی بی، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس پی آر کو 'اپنے متعلقہ مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے، 'وہ آزادی اظہار رائے کو محدود نہیں کرسکتے اور انہیں نشر و اشاعت کے ساتھ براڈکاسٹر/پبلشر اور اخبارات کی تقسیم میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے'۔
• 'آئین مسلح فورسز کے افراد کو کسی طرح کی بھی سیاسی سرگرمی، جس میں سیاسی جماعت، گروہ یا فرد کی حمایت ہو اس سے منع کرتا ہے۔ حکومت پاکستان کو وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے متعلقہ سربراہان کے ذریعے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حلف کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں'۔
• تحریک لبیک نے قانون کی زبان میں غلطی درست کرنے کے باوجود دھرنا جاری رکھا، دھرنے سے جڑواں شہر مفلوج ہو گئے اور سپریم کورٹ سمیت تمام سرکاری، غیر سرکاری اداروں کا کام متاثر ہوا۔
• فیض آباد دھرنے کے دوران تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں نے نفرت انگیز تقاریر کیں جبکہ میڈیا نے دھرنا قائدین کو غیر ضروری کوریج دی۔
• حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کا تعاون حاصل کیا، تاہم فوج کی تعیناتی سے پہلے ہی 26 نومبر 2017 کی رات کو حکومت اور دھرنا قیادت کے درمیان معاملات طے پائے اور ٹی ایل پی مظاہرین وردی میں ملبوس شخص سے رقم وصول کرکے منتشر ہو گئے۔
عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری دفاع، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی بی کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف متاثرہ فریقین نے 15 اپریل 2019 کو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔