انتخابات 2024: ’سوشل میڈیا مہم کے لیے فنڈز کی نگرانی کا نظام نہیں‘

دنیا بھر کے کئی ممالک میں انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پشاور کا مشہور قصہ خوانی بازار عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی کسی سیاسی جلسہ گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کہیں پوسٹرز کی چھپائی ہو رہی ہے تو کہیں پرنٹنگ کی دکانوں میں بینرز اور سٹیکرز کی چھپائی کا کام جاری ہے۔

انتخابات کے دن قریب آتے ہی اس مارکیٹ میں رونق لگ جاتی ہے اور مارکیٹ میں موجود تمام دکانداران دن کے علاوہ رات کی شفٹ بھی شروع کردیتے ہیں تاکہ دیے گئے آرڈر وقت پر تیار کیے جا سکیں۔

قصہ خوانی بازار سے متصل محلہ جنگی کی پرنٹنگ مارکیٹ ہے جو پاکستان میں انتخابات کے دنوں میں اشتہاری مہمات کے لیے مواد کی پرنٹنگ کے لیے مشہور ہے۔

اس مارکیٹ میں سیکڑوں چھوٹی بڑی دکانیں ہیں جہاں صوبے بھر سے امیدواران بینرز، پوسٹرز، کارڈز، بیجز، سٹیکرز، ٹوپیاں اور دیگر مواد تیار کرواتے ہیں۔

اشتہاری مہم کسی بھی انتخابات کا ایک اہم جز سمجھا جاتا ہے اور عوام میں امیدواران اپنا بیانیہ، منشور اور عوام سے ووٹ مانگنے کی غرض سے اشتہاری مہمات کے لیے مواد تیار کر کے اس کو عوامی مقامات میں آویزاں کر دیتے ہیں۔

تاہم پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سنگاپور کے ’ایمپاورنگ آرگنائزیشن ٹو سکیل گلوبلی‘ نامی ادارے کے مطابق پاکستان میں ایکٹیو سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سات کروڑ سے زیادہ ہے۔

اسی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 2021 کے مقابلے میں پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں چار فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فیس بک کی بات کی جائے، تو اس ادارے کے مطابق چار کروڑ سے زائد پاکستانی فیس بک استعمال کرتے ہیں جن میں مرد 77 فیصد سے زیادہ جبکہ خواتین اکاؤنٹس 22 فیصد ہے۔

اسی طرح اس ادارے کے رپورٹ کے مطابق انسٹاگرام پر پاکستانی صارفین کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ہے اور ان میں مرد 65 فیصد ہے جبکہ ٹک ٹاک پر پاکستانی صارفین کی تعداد دو کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔

تحقیقی مقالوں کے مطابق سوشل میڈیا کو سیاسی مہم کے لیے سب سے موثر طریقے سے پہلی مرتبہ امریکہ میں 2008 میں براک اوباما نے انتخابی مہم کے دوران استعمال کیا اور بعض مبصرین یہی سمجھتے ہیں کہ براک اوباما کے جیتنے میں سوشل میڈیا کا ایک اہم کردار رہا ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا مہمات میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حامیوں سمیت باقی دنیا میں بھی سیاسی رہنماؤں کی ٹیمز نے سوشل میڈیا کو سیاسی مہمات چلانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

 امریکی عام انتخابات کے دوران تو فیس بک پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس پلیٹ فارم کے الگوریتھم کو ایک مخصوص جماعت کی حمایت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافے سے پاکستانی میں موجود سیاسی جماعتوں کی جانب سے اب اشتہاری مہمات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی چلائی جا رہی ہیں جس کے لیے سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے افیشل اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔

روایتی ٹی وی اور اخبارات میں سیاسی مہمات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے قوانین تو وضع کیے گئے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر سیاسی مہمات کے لیے کوئی قانون پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

سہیل خان الیکشن کمیشن آف پاکستان خیبر پختونخوا کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار کسی بھی اشتہاری مہم پر ایک کروڑ روپے تک خرچ کر سکتے۔

اسی طرح سہیل کے مطابق صوبائی اسمبلی کے امیدوار سیاسی مہم پر 40 لاکھ روپے تک خرچ کر سکتے ہیں تاہم یہ خرچہ امیدوار کی اپنے جیب سے ہونا چاہیے یعنی وہ ذاتی حیثیت میں یہ رقم خرچ کر سکتے ہیں۔

سہیل خان سے جب پوچھا گیا کہ اشتہاری مہم میں تو پارٹی ورکرز کی جانب سے بھی اشتہاروں پر پیسے لگائے جاتے ہیں، تو اس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کیا قانون موجود ہے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک مانیٹرنگ روم قائم کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ایک انچارج کی زیر نگرانی ضلعی اور صوبائی سطح پر مانیٹرنگ نظام قائم کیا گیا ہے جو عوامی شکایات کو دیکھتے ہیں۔ یہ مانیٹرنگ ٹیم خود بھی قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کو مانیٹر کرتی ہے اور عوامی شکایات بھی سنتی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اشتہاری مہم چلانے کے لیے دو طریقہ کار ہیں۔ ایک تو آپ کسی بھی اکاؤنٹ سے اشتہاری پوسٹر یا دیگر مواد بغیر کسی پیسوں سے پوسٹ کر سکتے ہیں لیکن دوسرا طریقہ پیسے لگا کر پوسٹ کو بوسٹ کرنے کا بھی ہے۔

اس طریقہ کار میں صارفین سوشل میڈیا پر کچھ رقم لگا کر کے پوسٹ کی ریچ بڑھا سکتے ہیں ہے اور یہ رقم لوگوں کی تعداد سے تناسب سے پانچ ڈالر روزانہ یعنی تقریباً 1300 روپے سے شروع ہو کر لاکھوں تک ہو سکتی ہے۔

سہیل سے جب پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر اشتہاری مہم پر پیسے لگانے کو الیکشن کمیشن کیسے ریگولیٹ کریں گا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن، فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی، اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے اشتراک سے ہم سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں۔‘

تاہم سہیل نے بتایا کہ سیاسی مہم کے حوالے سے باقاعدہ کوئی قانون موجود نہیں ہے لیکن اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان لائحہ عمل طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے لیے شاید فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے منتظمین سے بات کرنی پڑے۔‘

کیا سوشل میڈیا سے پرنٹنگ مارکیٹ پر اثر پڑا ہے؟

پشاور جنگی محلہ میں پرنٹنگ پریس کے مالک نور حلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سوشل میڈیا کی وجہ سے مارکیٹ میں چھپائی کے کام پر 30 فیصد تک اثر پڑا ہے یعنی اب مواد چھپنا کم ہو گیا ہے اور یہ اثر انتخابات کے دنوں میں بھی ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اب امیدواران اور پارٹی ورکرز یہ کرتے ہیں کہ صرف ایک سٹیکر یا بینر ڈیزائن کرتے ہیں اور اس کو پرنٹ کیے بغیر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے چاہنے والوں کے ساتھ شئیر کر دیتے ہیں اور ظاہری بات ہے اس سے پرنٹنگ پر اثر پڑتا ہے۔‘

نور حلیم نے بتایا کہ ’یہ صرف انتخابات تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر چیزوں میں بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے شادی کے لیے دعوت نامے کے کارڈز پرنٹ کیے جاتے تھے لیکن اب کارڈر کو ڈیزائن کر کے سوشل میڈیا پر دوستوں کو بھیج دیے جاتے ہیں اور اس کی پرنٹنگ نہیں کی جاتی۔‘

سوشل میڈیا مہم اور جعلی خبریں

ماہرین سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سیاسی مہم کے دوران جعلی خبروں کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2018 اور 2013 کے انتخابات میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کیا گیا۔

 لیکن اس میں بعض مبصرین کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو مخالفین کی ٹرولنگ کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اس کی ماضی میں تردید کی گئی اور کہا گیا کہ ٹرولنگ میں شامل اکاؤنٹس کا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم گذشتہ سال انڈپینڈنٹ اردو نے کچھ ٹولز کے استعمال کے بعد کئی ٹوئٹر ٹرینڈز کے تجزیہ کیا تھا جس میں یہ سامنے آیا تھا کہ بعض اکاؤنٹس عمران خان یا پی ٹی آئی کا جھنڈا بطور ڈسپلے تصویر استعمال کرتے تھے اور وہ اکاؤنٹس ٹرولنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔

اسد بیگ پاکستان میں میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نامی غیر سرکاری ادارے کے بانی سربراہ ہیں اور پاکستان میں جعلی خبروں کے حوالے سے مختلف ٹریننگز کرواتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’الیکشن کمیشن ٹی وی یا پرنٹ کی اشتہاری مہم کو مانیٹر تو کر سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔‘

اسد نے بتایا کہ ’میں گذشتہ پانچ سال یہ کہہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سوشل میڈیا مہم کے لیے لائحہ عمل بنانا چاہیے لیکن ابھی تک کوئی نطام نہیں بنایا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں اہم عنصر بیرون ملک سے سوشل میڈیا مہم کی فنڈنگ ہے۔ کچھ سوشل میڈیا ٹرینڈز کا جو ہم نے مشاہدہ کیا ہے تو ایک سیاسی جماعت کے سیاسی مہم باہر سے بھی چلائی جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’میں بالکل یہ نہیں کہتا کہ الیکشن کمیشن ڈنڈا لے کر اس کو ریگولیٹ کرے تاہم سیاسی جماعتوں کو سیلف ریگولیشن کی ضرورت ہے تاکہ سوشل میڈیا پر سیاسی مہم کے دوران نفرات انگیز مواد چلانے سے گریز کیا جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسد بیگ نے بتایا کہ ’اس میں تیسرار اہم مسئلہ جعلی خبروں کا کہا ہے اور ابھی پھیل رہا ہے اور اس میں سوشل میڈیا پر انفلوئنسر کا بڑا رول ہے اور اس کو بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیلف ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسد بیگ کہتے ہیں کہ ’سیلف ریگولیشن اہم ہے لیکن اشتہاری مہمات پر پیسے لگانے کی مانیٹرنگ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ اس کو مانیٹر کرے کہ کسی بھی ڈیجیٹل مہم کے لیے پیسے کہاں سے آتا اور کون اسے چلا رہا ہے۔‘

فیس بک کی جانب سے وقتاً فوقتاً انتخابات کے حوالے سے اشتہاری مہمات کے لیے قوانین مرتب کیے جاتے ہیں لیکن وہ قوانین کسی مخصوص ممالک کے لیے ہوتے ہیں جیسے امریکہ، برازیل، اسرائیل اور اٹلی میں فیس بک کی جانب سے ایسے اشتہارات چلانے پر پابندی ہے جس میں عوام کو ووٹ نہ دینے کی ترغیب دی گئی ہوں۔

اسی طرح ایسے اشتہارات چلانے پر بھی پابندی ہے جس میں آنے والے یا جاری انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہوں جبکہ نتائج سے پہلے کسی بھی انتخابات کے حوالےسے جیت کے اعلانات کے حوالے سے بھی اشتہارات پر پابندی ہے۔

تاہم یہ قوانین مخصوص ممالک کے لیے بنائے گئے ہیں اور فیس بک کی جانب سے ابھی تک پاکستان کے حوالےسے ایسا کوئی ضابطہ اخلاق وضع نہیں کیا گیا۔

اسی طرح فیس بک کی جانب سے یہ قانون بھی بنایا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی مہم کو چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اشتہار کے ساتھ یہ ’پیڈ فار بائی‘ ٹیگ لگانا ہو گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ اشتہار کس کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست