خیبرپختونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے ملک میں پہلی مرتبہ ڈھائی ہزار سال قبل تعمیر شدہ عبادت گاہ (Temple) دریافت کی ہے، جسے سکندر اعظم کے وقت میں سوات میں تعمیر کیا گیا تھا۔
ملاکنڈ میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سب ریجنل آفس کے انچارج نوازالدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ سوات کی تحصیل بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی بازیرہ سائٹ پر اطالوی آرکیالوجیکل مشن اور پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے کھدائی کے دوران ایک بہت اہم مذہبی سٹرکچر دریافت کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دریافت ہونے والی عبادت گاہ سکندر اعظم کے وقت 327 قبل مسیح میں تعمیر ہوئی تھی، جو آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نوازالدین نے بتایا کہ اس عبادت گاہ پر کئی ادوار گزرے ہیں، جسے مختلف ادوار میں لوگوں نے اپنی مذہبی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اٹالین آرکیالوجیکل مشن اور پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ مشترکہ طور پر 1960 سے سوات کی تحصیل بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی بازیرہ سائٹ پر کام کر رہے ہیں۔
بازیرہ شہر کو 327 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے حملہ کرکے فتح کیا تھا۔
ملاکنڈ آرکیالوجی سائٹس کے انچارج نوازالدین نے بتایا کہ 327 قبل مسیح یعنی ڈھائی ہزار سال پہلے کی اس طرح کی عبادت گاہ یا مذہبی سٹرکچر کہیں پر بھی اتنی اچھی حالت میں ابھی تک نہیں ملا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس عبادت گاہ میں سکندر اعظم کے بعد مورین ایمپائر یا اشوکا نے بھی اپنی مذہبی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں کی تھی جبکہ بعد میں انڈوگریگ لوگوں نے بھی اس علاقے پر قابض ہو کر تبدیلیاں کیں۔
نوازالدین کے مطابق عبادت گاہ کی دریافت کے وقت اس کے ساتھ ایک سٹوپا بھی ملا ہے، جو بدھ مت کی خاص علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی دارالحکومت ہمیشہ پشاور میں رہا لیکن اس طرح کا اہم سٹرکچر پشاور میں نہیں ملا۔ ’اس طرح کا پیارا سٹرکچر اور اتنے پرانے اور اچھی حالت میں مذہبی مقامات ہمیں سوات سے مل رہے ہیں جبکہ پشاور، چارسدہ اور مردان میں ابھی تک نہیں ملے۔‘
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔