پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میر پور میں پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ مبینہ طور پر مظاہرین کی فائرنگ سے ایک ایس آئی (سب انسپکٹر) جان سے چلا گیا۔
یہ واقعہ میرپور کے علاقے اسلام گڑھ میں پیش آیا۔ کمشنر میرپور ڈویژن چوہدری شوکت نے سب انسپکٹر عدنان فاروق کی گولی لگنے سے موت کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں پچھلے کچھ دنوں سے سستی بجلی اور آٹے سمیت دیگر مطالبات کو لے احتجاج جاری ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد ندیم احمد جنجوعہ کے مطابق احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے 28 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جب کہ 12 سے زیادہ پولیس اہلکار مظاہرین کے پتھراؤ سے زخمی ہوئے۔
دوسری طرف مظاہرین کے نمائندہ پلیٹ فارم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن مظفر آباد شوکت نواز میر کے مطابق گرفتار شدہ مظاہرین کی تعداد 60 سے زیادہ ہے، جب کہ 37 افراد زخمی ہیں۔
کشمیر کے مختلف اضلاع راولاکوٹ، بھمبر، میرپور، کوٹلی کے علاوہ دوسرے علاقوں سے مظاہرین مظفرآباد کی جانب بڑھ رہے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام اضلاع میں بڑے شہروں کے خارجی راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ہے۔
جمعے کے احتجاج کے بعد وزیر خزانہ و ترجمان حکومت ماجد خان، وزیر، اظہر صادق اور کمشنر مظفرآباد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن کسی بھی ایسے احتجاج کی اجازت نہیں ہے جس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا عوام کو مشکلات میں ڈالا جائے۔
حکومتی وزرا نے ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت بھی دی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تین ڈویژنز میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر گذشتہ ایک سال سے احتجاج جاری ہے، جس میں مقامی سطح پر پیدا کی گئی بجلی کی پیدواری لاگت پر صارفین کو فراہمی، سستے آٹے کی فراہمی اور دوسرے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک سال میں احتجاج اور مذاکرات کے دور چلنے کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان پانچ فروری کو ایک معائدہ طے پایا تھا، جس میں ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات کو ماسوائے بجلی کی پیداواری لاگت پر فراہمی مان لیا گیا اور نوٹیفیکیشن کرتے ہوئے ان پر ایک مہینہ میں عمل درآمد کی یقین دھانی کروائی گئی۔
تاہم تین ماہ کے انتظار کے بعد 11 مئی کو پورے کشمیر میں پہیہ جام ہڑتال، لاک ڈوان اور لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن نو مئی کو ہی ڈوڈیال میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپوں کے بعد ایکشن کمیٹی نے نو مئی کی رات 12 بجے سے ریاست بھر میں لاک ڈؤان اور پہیہ جام کی کال دے دی۔
نو مئی کی رات 12 بجے کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے پورے کشمیر میں مرکزی سڑکوں کو بند کر دیا اور صبح راستوں کو کھلوانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ نے آپریشن شروع کیا۔
جمعے کو مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفے وقفے سے چھڑپیں جاری رہیں۔
مظفرآباد میں چہلہ باڈی، پلیٹ، اپر اڈہ، چھتر اور شاہ سلطان برج پر پولیس اور مظاہرین کی مڈبھیڑ ہوئی۔