بلوچستان کے پولیس اور دیگر سرکاری حکام نے ہفتے کو بتایا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں ضلع مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنے کے قریب مبینہ خودکش دھماکے ہوا، تاہم سردار اختر مینگل اور دیگر قائدین محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سردار مینگل کی قیادت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کی رہائی کے لیے جمعے (28 مارچ) سے وڈھ، خضدار سے مارچ کا آغاز کیا گیا تھا۔
یہ مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا گذشتہ روز لک پاس پہنچا، جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے لک پاس ٹینل پر کنٹینروں سے روڈ بلاک کر کے لانگ مارچ کو آگے جانے سے روک دیا۔
اس دوران پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں اور آگے جانے سے روکنے پر لک پاس کے مقام پر دھرنا دے دیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کوئٹہ ضرور جائیں گے اور جب تک گرفتار خواتین رہا نہیں ہوں گی، اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ترجمان غلام نبی مری نے انڈپینڈنٹ اردو کو مبینہ خودکش دھماکے کے حوالے سے بتایا کہ ’خود کش حملہ آور سٹیج کے قریب جانا چاہ رہا تھا، لیکن سردار اختر جان مینگل کے ذاتی محافظوں نے مشکوک جان کر روک لیا اور پنڈال سے باہر نکال دیا، جس پر خودکش حملہ آور نے دھرنا گاہ سے دور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ دھرنے میں اس وقت بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل، نواب محمد خان شاہوانی سمیت بی این پی کی مکمل قیادت، قبائلی عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہے۔
بی این پی نے کوئٹہ میں دھرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو تحریری درخواست دی تھی۔ تاہم ڈپٹی کمشنر نے ’دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے پیش نظر‘ دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سردار اختر مینگل نے میڈیا کو بتایا کہ ’پکڑے جانے کے خوف سے خودکش حملہ آور نے خود کو دھرنے سے 400 گز کے فاصلے پر اڑا دیا، دھماکے میں ہمارے چار ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں، ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’گذشتہ شب دھرنے پر بکتر بند گاڑی چڑھانے کی کوشش کی گئی، دھرنے کے شرکا پر شیلنگ بھی کی گئی، حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا احتجاج پر امن طور پر جاری رہے گا، حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔‘
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے مبینہ خود کش دھماکے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ’حکومت بلوچستان گذشتہ رات سے بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بی این پی مینگل کے ایک وفد کی گذشتہ رات بھی انتظامیہ سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد آج حکومتی وفد کی سردار اختر مینگل سے ملاقات پر اتفاق ہوا۔ ’بلوچستان حکومت واقعے کی مکمل چھان بین کررہی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ ’انکوائری کے نتائج سے عوام کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔ دھرنے کے شرکا بشمول سردار اختر مینگل، دیگر قیادت اور عوام کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’سردار اختر مینگل، بی این پی اور عوام سے گزارش ہے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور بات چیت سے صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد کریں۔
’حکومت بلوچستان نے صوبے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سخت انتظامات کیے ہیں۔‘
ترجمان شاہد رند کے مطابق: ’صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال سنگین ہے، حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔‘
بی این پی لانگ مارچ کیوں کر رہی ہے؟
2020 میں قائم ہونے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حالیہ دنوں میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچستان میں احتجاج کیے ہیں۔
ایسے ہی ایک احتجاج کے دوران 22 مارچ کو کوئٹہ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا اور ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر 24 مارچ کو کراچی سے سیمی دین بلوچ اور دیگر خواتین کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ان گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی نے 28 مارچ سے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
اختر مینگل نے ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا: ’اس مارچ کی قیادت خود کروں گا، اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، ہماری غیرت، اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔ جب تک ہماری ماہیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں، ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔‘
اختر مینگل نے مزید کہا کہ ہماری یہ تحریک پرامن ہے۔ ’جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔ وڈھ سے کوئٹہ تک ہمارا مارچ صرف قدموں کا نہیں، ضمیر کا سفر ہے۔‘