ظل الٰہی، خوش امیدی کے آثار کہاں ہیں؟

لوگوں کی زباں بندی سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

نو جون 2023 کو ایک پھل فروش روالپنڈی میں اپنے فون پر بات کرتے ہوئے (اے ایف پی/ فاروق نعیم)

ہمارے حکمران طبقات اور اشرافیہ کی طرف سے عموماً ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کو یہ مشورے دیے جاتے ہیں کہ وہ مایوسی نہ پھیلائیں۔

ان کے خیال میں اگر پاکستان کے زمینی حقائق سے عوام الناس کو آگاہ کیا جائے، تو یہ مایوسی پھیلانے کے مترادف ہوتا ہے۔

ذرائع ابلاغ، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے اس اقدام کو شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک دوستی کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ یہ پاکستانی سماج کو ممکنہ طور پر انتشار کا شکار کر سکتے ہیں۔

لیکن اقتدار کی راہداریوں میں بیٹھے ہوئے اشرافیہ کے افراد سے کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ خوش امیدی کے اثرات انہیں کہاں نظر آتے ہیں؟

اگر وہ ان اثرات کو ملک کی جدید رہائشی کالونیوں میں ڈھونڈیں گے تو یقیناً جا بجا چمکتے دمکتے ہوئے شاپنگ مالز، نت نئے ڈیزائن کے بوتیک سینٹرز، فاسٹ فوڈ کے جمعہ بازار اور ولایتی کافی کی دکانوں پر اشرافیہ کے افراد کا جم غفیر ان کو یہ تاثر دے گا کہ ملک خوش حالی کی راہ پہ چل پڑا ہے۔

ان امیر علاقوں میں غیر ملکی جامعات کے کیمپس کا قیام اور جگہ جگہ کھلتے ہوئے انگریزی میڈیم سکول بھی ان کے اس یقین کو تقویت دیں گے کہ ملک میں بھوک، افلاس، غربت، بےروزگاری اور مہنگائی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، لیکن اگر ہمارے اشرافیہ کے یہ لوگ غریب علاقوں کا رخ کریں تو تب انہیں معلوم ہو کہ عوام مایوسی کی دلدل میں کیوں دھنستے جا رہے ہیں۔

انہیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا عوام کو پینے کا صاف پانی، رہنے کے لیے مناسب رہائش، گھر چلانے کے لیے روزگار، مستقبل کو سنوارنے کے لیے تعلیم اور بیماری کی صورت میں بہتر علاج کی سہولیات میسر ہیں؟

کیا اشرافیہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہے کہ زمینی حقائق کو رپورٹ نہ کیا جائے اور معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو پس منظر میں ہی رہنے دیا جائے اور اصل حقیقت کو آشکار نہیں کیا جائے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں غذائی قلت کی وجہ سے 40 فیصد سے زائد بچوں کے ممکنہ طور پر قد نہیں بڑھ پائیں گے۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں نو کروڑ سے زیادہ غریب افراد رہتے ہیں، جن میں آنے والے برسوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

ملک میں 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، جو آسانی سے روکے جانے والی بیماریوں کا ایک بڑا سبب ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لوگ خودکشیوں پہ مجبور ہیں۔

پاکستان کی پولیس ہو یا عدلیہ، جب بین الاقوامی طور پر ان کی رینکنگ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہ انتہائی پست نظر آتی ہے۔

عدالتوں میں کچھ اندازوں کے مطابق 14 لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں، انسانی ترقی کے انڈیکس میں بھی پاکستان کا نمبر بہت نیچے ہے جبکہ ملک ماحولیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہے جس کا ثبوت حالیہ برسوں میں آنے والی قدرتی آفات اور سیلاب ہیں۔

آلودہ ہوا کی وجہ سے لاہور اور کراچی کا شمار دنیا کے بدترین شہروں میں ہوتا ہے۔

سماجی سطح پر ملک میں عدم رواداری کا رواج بڑھتا جا رہا ہے اور کچھ انتہا پسند دھڑے جب چاہتے ہیں دو چار نعرے لگا کر اقلیتوں کے گھروں اور محلوں کو گھیر لیتے ہیں اور ان پر حملے کر کے ملک کے لیے بین الاقوامی طور پر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس طرح کے حملوں میں ملوث افراد میں سے شاذ و نادر ہی کسی کو سزا دی جاتی ہے گو کہ اس طرح کے افسوس ناک واقعات کے بعد پکڑ دھکڑ شروع کر کے پولیس اپنی پھرتی دکھانے کی کوشش ضرور کرتی ہے۔

سرگودھا میں ہونے والے افسوس ناک واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ ملک میں مذہبی انتہا پسند گروہ بےلگام ہو چکے ہیں۔

سرگودھا سے پہلے جڑانوالہ، اس سے پہلے سیالکوٹ اور ماضی میں جوزف کالونی اور گوجرہ سمیت کئی ایسے واقعات ہوئے جس میں ملکی اقلیتوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کے لیے بین الاقوامی بدنامی کا سامان تیار کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسانی حقوق کی صورت حال یہ ہے کہ اب ایک ٹویٹ کرنے پر بھی لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔

شاعر، ادیب، صحافی، سیاسی کارکنان اور قوم پرست رہنما سب ہی ریاستی جبر کا شکار نظر آتے ہیں اور ریاست جس کو ماں جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اس کے رویے میں شفقت اور محبت کہیں چھلکتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔

ملک میں بیرونی اور اندرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ پہلے ہی 200 ارب ڈالرز کی حد کو عبور کر گیا ہے اور آنے والے 20 برسوں میں یہ 400 ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔

بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی، دفاع اور انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو رقم کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔

حکمران و اشرافیہ قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہونے کے باوجود ایسے منصوبے لے کر آتے ہیں، جو ان کی پبلک ریلیشننگ کو فروخت دے۔

سفارتی محاذ پہ صورت حال یہ ہے کہ ایران، افغانستان اور انڈیا سمیت کسی بھی ملک سے ہمارے تعلقات انتہائی خوشگوار نہیں ہیں۔

پیداواری لاگت کے بڑھنے کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں، جس سے بےروزگاروں کی فوج در موج جمع ہو رہی ہے، جو کسی لاوے سے کم نہیں۔

ملک میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے سکول سے باہر ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور اندرون سندھ سمیت کئی علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کے منظم گروپوں نے عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

اس ساری صورت حال کے پیش نظر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ظل الٰہی خوش امیدی کے آثار کہاں نظر آ رہے ہیں؟

اگر ملک مسائل کی دلدل میں نہ ہو، تو ہر ایک خوش امیدی کے گیت گائے گا لیکن جب مسائل کا انبار چاروں طرف نظر آئے اور ان کو حل کرنے کے لیے کوئی سیاسی دور اندیشی حکمران طبقات کے پاس نہ ہو، تو ایسے میں یاسیت اور مایوسیت کے بادل ہی چھائے رہیں گے۔

لوگوں کی زباں بندی سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی آرا پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر