پاکستانی اداکارہ کبریٰ خان نے اگرچہ گنے چُنے ڈرامے اور چند فلمیں کی ہیں، مگر وہ سارے ہی کامیاب ترین منصوبے ہیں، جس کی وجہ سے آج وہ پاکستان سے باہر بھی مقبول ہیں۔
انہوں نے 2014 میں ڈراما سیریل سنگ مرمر سے ٹی وی انڈسٹری میں قدم رکھا۔
اس عید الاضحی پر کبریٰ خان کی فلم ’ابھی‘ آ رہی ہے، جس کے سلسلے میں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے کراچی میں خصوصی گفتگو کی۔
اس انٹرویو میں جہاں ان سے فلم پر بات ہوئی وہیں انہوں نے فلسطین کے لیے متحرک ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔
انٹرویو میں اداکارہ کبریٰ خان نے کہا کہ وہ فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کے بعد ڈراما ’جنت سے آگے‘ میں مشغول رہیں اور اس دوران ان کا لندن اور کراچی کے درمیان چکر بھی لگتا رہا اور اب وہ اس عید پر سینیما آنے کے لیے تیار ہیں۔
کم فلمیں کرنے کے بارے میں ان کا عذر یہ تھا کہ ’اگر دیگر اداکاروں سے تقابل کریں تو اب بھی میری فلمیں کافی زیادہ ہیں، کیونکہ جب تک کوئی کہانی میرے دل کو نہیں چھو جاتی، تب تک میں فلم نہیں کرتی۔‘
فلم ’ابھی‘ کے بارے میں کبریٰ خان نے دعوٰی کیا کہ اس فلم کے گانے بہت ہی زیادہ اچھے ہیں۔
’کبھی کبھی میں گانوں کے لیے بھی فلم کر لیتی ہوں۔‘
ان کے بقول اہم بات یہ ہے کہ ’اس فلم میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے، اور ایسا پاکستان میں کم ہی ہوتا ہے، ہمارے ملک میں امیر امیرتر ہوتا جاتا ہے، اور عوام کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا، یہ وہ موضوع ہے جس پر کافی عرصہ پہلے ہی بات ہونی چاہیے تھی۔‘
اپنے کردار کے بارے میں کبریٰ خان نے بتایا کہ یہ کردار کسی حد تک خود ان کی شخصیت سے مماثلت رکھتا ہے، کہ وہ جب کسی بھی چیز کے لیے آواز اٹھاتی ہیں تو وہ بالکل نڈر ہوکر آواز اٹھاتی ہیں۔
کبریٰ نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ پر مزاح شخصیت کی حامل ہیں۔
مگر جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے آج تک کوئی مزاحیہ فلم تو کی ہی نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’کامیڈی کی نہیں جاتی وہ ہو جاتی ہے، اور اگر دیکھا جائے تو ان کی اپنی زندگی کافی مزاح سے بھرپور ہے۔‘
گوہر ممتاز کے بارے میں کبریٰ خان نے کہا کہ وہ جل بینڈ سے اب تک پاکستان کو چند مقبول ترین گانے دینے والوں میں سے ہیں، ان کے گانے جیسے عادت اور سجنی تو کمال ہی ہیں۔
ڈانس نمبر کے بارے میں پہلے تو کبریٰ نے کہا کہ ’دھڑک بھڑک تو پہلی اور آخری مرتبہ ہی ہوا تھا، اب شاید ایسا دوبارہ نا ہوا، جب ہم نے ان سے کہا کہ یہ ان کی پالیسی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ گانے یا ڈانس کو فلم میں موقعے اور کہانی کی مناسبت سے ہونا چاہیے، تو اگر ایسا ہوا تو سوچا جاسکتا ہے لیکن بلاوجہ نہیں کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلم ابھی میں ایسا ڈانس نمبر نہیں ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان میں ویران سینیما کے مسائل کے بارے میں کبریٰ خان کا کہنا تھا کہ فلمیں بن نہیں رہی ہیں، فلمیں آتی ہی نہیں ہیں، اب فلم آرہی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ’عمرو عیار‘ اور ’نا بالغ افراد‘ بھی آ رہی ہے، تو پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ پاکستانی فلم ہے، اور پاکستانی فلم کو اگر ہم سپورٹ نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فلم پاکستان کے لوگوں کے بارے میں ہے، یہ پاکستان کی فلم ہے اس لیے اسے دیکھنا چاہیے۔
میڈیا سے حالیہ دنوں میں دور رہنے کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ کچھ عرصے سے ’انٹرو ورٹ‘ ہوتی جا رہی ہیں اور میڈیا پر آنا، انٹرویو دینا اب انہیں کافی مشکل لگتا ہے۔
’اس لیے میں انٹرویو سے بھاگتی ہوں، اور یہ بالکل سچ بات ہے، کیونکہ بات کچھ کی کچھ ہوجاتی ہے، اس لیے انٹرویو اب مجھے تھوڑا سا ڈراتے ہیں۔‘
پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین فنکاروں کو نشانہ بنانے کے بارے میں آواز اٹھانے پر کبریٰ خان کا کہنا تھا کہ کم از کم اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ اب لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ اپنی عزت کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی جاسکتی ہے اور اس کے لیے قوانین موجود ہیں۔
’تو چاہے کوئی عام شخص آپ کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنا رہا ہو، یا پھر کوئی بڑی شخصیت، اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ملک ہمیں تحفظ فراہم کرتا ہے، اور اگر ہمارے ساتھ سوشل میڈیا کوئی کچھ غلط کرتا ہے تو قانون اور عدالت آپ کا ساتھ دیتے ہیں اور میں اس کی شکر گزار ہوں۔‘
فلسطین کے معاملے پر کبریٰ خان کافی متحرک ہیں، انہوں نے اس بارے میں کہا کہ لوگوں کو اس بارے میں آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔
’یہ ٹھیک ہے کہ زندگی کے کام چلتے رہتے ہیں، لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے ایک پوری قوم کو مٹایا جا رہا ہے، اگر ہم اس بارے میں بات بھی نہیں کرسکتے تو ہماری انسانیت کہاں گئی؟‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہتی ہیں کہ وہاں جا کر جنگ لڑی جائے مگر جب ہم یہاں بیٹھے ہیں، وہاں بمباری ہو رہی ہے، آج 250 دن ہونے کو ہیں اور مگر بہت سے افراد اس بارے میں جانتے بھی نہیں ہیں۔
’اگر ہم آج اس بارے میں بات نہیں کریں گے تو جب تاریخ لکھی جائے گی، آپ کا ضمیر آپ کو ملامت ضرور کرے گا۔‘