خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں وہیل چیئر موبیلیٹی شاپ میں سپیشل پرسنز کے زیر استعمال وہیل چیئرز کی بغیر کسی معاوضے کے مرمت کی جاتی ہے۔
ورکشاپ قائم کرنے والے سجاد احمد، جو خود بھی سپیشل پرسن ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی دکان پر اب تک 1500 وہیل چیئرز مفت مرمت کی جا چکی ہیں۔
ورکشاپ شروع کرنے کے پیچھے تحریک سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا: ’میری اپنی وہیل چیئر خراب ہوئی تو اس کی مرمت کے لیے کوئی کاریگر موجود نہیں تھا، جب کہ سپیئر پارٹس بھی ملنا مشکل تھا۔ میں نے اپنی وہیل چیئر جگاڑ لگا کر ٹھیک کی اور اپنا کام چلایا۔‘
اس واقعے نے انہیں ایک ایسی ورکشاپ قائم کرنے کا آئیڈیا دیا جہاں وہیل چیئرز کی مرمت کرنے کے علاوہ ان میں استعمال ہونے والے پرزے بھی دستیاب ہوں۔
ابتدا میں انہوں نے یہ ورکشاپ اپنے حجرے میں شروع کی، جہاں وہ سپیشل پرسنز کے استعمال میں رہنے والی وہیل چیئرز بغیر کسی معاوضے کے مرمت کرتے تھے۔
’میں نے 2018 میں وہیل چیئر موبیلیٹی شاپ کے نام سے ورکشاپ کھولی، جس میں اب میرے ساتھ 15 دوسرے سپیشل پرسنز بطور رضاکار کام کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سجاد احمد نے بتایا کہ مردان میں وہیل چیئرز مرمت کرنے والی ورکشاپ کی موجودگی سے معذور افراد کو آسانی ہوئی ہے اور اب خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب سے بھی لوگ وہیل چیئرز مرمت کروانے کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔
سجاد کے مطابق خیبر پختوںخوا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے شہر مردان میں 4700 سپیشل پرسنز رجسٹر ہیں، جن میں ضرورت مندوں کو ہر سال 400 وہیل چیئرز مفت دی جاتی ہیں۔
سجاد احمد اپنی ورکشاپ میں عام موٹر بائیک میں سیفٹی وہیل اور کِک میں بھی تبدیلیاں کر کے سپیشل پرسنز کے چلانے کے قابل بناتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ورکشاپ میں گاڑی میں تبدیلیاں کرکے اسے بھی سپیشل پرسنز کے لیے استعمال کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ’کسی کے پاؤں نہ بھی ہوں تو وہ یہ موڈیفائیڈ گاڑی چلا سکے گا۔‘
دوسری جانب سجاد احمد نے معذور لڑکیوں کے لیے بھی سلائی کڑھائی، کشیدہ کاری اور فیشن ڈیزائننگ سکھانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔