پلاسٹک کی اینٹیں جن سے تین مرلے کا گھر ’سات لاکھ روپے میں‘ بن سکتا ہے

ملتان کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم محمد اطہر حیدر نے پلاسٹک سے تیار کردہ ماحول دوست انٹرلاک اینٹیں بنائی ہیں اور ان کے مطابق اس تکنیک کے استعمال سے تعمیراتی اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

محمد اطہر حیدر نے ملتان کی ایک یونیورسٹی میں فائنل ایئر پراجیکٹ کے لیے پلاسٹک کی ماحول دوست انٹرلاک اینٹیں بنائی ہیں، جن سے بقول ان کے تین مرلے کے مکان کے تعمیراتی اخراجات سات لاکھ روپے تک آئیں گے۔

اطہر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے آرکیٹیکٹ کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور اس ڈگری کے آخری سال کے پراجیکٹ کے لیے انہوں نے پلاسٹک کی ماحول دوست انٹرلاک اینٹیں بنائی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرلاک اینٹیں بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ’تعمیرات کو جلدی مکمل کیا جا سکتا ہے۔

’اس تکنیک میں کسی بھی طرح کے سیمنٹ یا بائنڈنگ ایجنٹ کا استعمال نہیں ہوتا جو کہ اس کی قیمت کو کم کرتا ہے۔‘

اطہر بتایا: ’انٹرلاک اینٹوں کی چار سائیڈیں ہوتی ہیں۔ دو باہر کی طرف نکلی ہوئی اور دو اندر کی طرف۔ باہر کی طرف نکلی ہوئی سائیڈیں اوپر والی اور فرنٹ والی سائیڈ میں فٹ ہوتی ہیں اور اندر کی طرف سائیڈیں ایک دوسرے کے پیچھے فٹ ہو جاتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے موجودہ مسائل، خصوصاً پلاسٹک کچرے کی مس مینجمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایک ماحول دوست اقدام کے طور پر اس پلاسٹک کچرے کو انٹرلاک مٹیریل میں تبدیل کرنے کا سوچا اور اس سے اینٹیں اور تعمیراتی تکنیک تیار کی۔

بقول اطہر: ’سب سے پہلے ہم نے اس کا آزمائشی تجربہ کیا۔ جس میں مارکیٹ سے مٹیریل لیا، جو بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔ پھر ہم نے اپنی یونیورسٹی کے اندر اس کی کلیکشن کی۔ پھر اسے مشین انسولیٹر میں ڈال کر پگھلایا۔ اس کے بعد اسے مولڈز (سانچوں) میں ڈال کر مٹیریل تیار کیا۔

’ہم نے ایک چھوٹے سائز کی مشین تیار کی جو اس مٹیریل کو ریت کے ساتھ مکس کرتی ہے۔ جب ہم نے اس پر تجربات شروع کیے تو مختلف قسم کے پلاسٹک کی خصوصیات کو سمجھا۔ کچھ ہارڈ پلاسٹک ہوتے ہیں اور کچھ نرم پلاسٹک۔ ہمیں اس کی مضبوطی اور شکل دونوں حاصل کرنی تھیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، لیکن ہم نے ڈیڑھ سال کی محنت سے اسے حاصل کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اینٹیں انٹرلاکنگ تکنیک کے ساتھ ہیں، جنہیں کسی سیمنٹ یا بائنڈنگ ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

’اس سے گھر جلدی تعمیر ہو سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پلاسٹک کچرا استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتا ہے۔‘

اطہر نے کہا کہ ’ان اینٹوں کی لیب ٹیسٹنگ کے مطابق یہ عام اینٹوں کے مقابلے میں 1.5 گنا زیادہ مضبوط ہیں اور وزن میں بھی ہلکی ہیں۔ ایک اینٹ کا وزن تقریباً 1.7 کلوگرام ہے۔‘

اطہر نے بتایا کہ ’اس تکنیک سے تین مرلے کا گھر تقریباً سات لاکھ روپے میں تعمیر ہو سکتا ہے جبکہ دوسری (مروجہ) تکنیک سے یہی گھر 25 سے 30 لاکھ روپے میں بنتا ہے۔‘

اطہر حیدر ان اینٹوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہمارے پراجیکٹس کے مختلف مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہم نے مٹیریل کی نمائش کر کے اسے متعارف کروایا۔ دوسرے مرحلے میں عملی سطح پر ایک گھر بنا کر اسے مثال کے طور پر پیش کریں گے۔ ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ اس تکنیک کو بڑے پیمانے پر استعمال کریں تاکہ عام انسانوں کا فائدہ ہو اور پاکستان کے ویسٹ منیجمنٹ کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی